کراچی بارش: وزیراعظم کو معلوم ہونا چاہیے کہ این ڈی ایم اے کا دائرہ کار کیا ہے

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کراچی میں حالیہ ماہ شدید بارشوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹنے کےلیے ملک میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے (این ڈی ایم اے) کو کارروائی کا حکم دیتے ہوئے فوج سے بھی اس سلسلے میں مدد طلب کی ہے۔
سندھ میں حالیہ بارشوں کے بعد تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کراچی کے میئر اور ایم کیو ایم کے رہنما وسیم اختر نے وفاقی حکومت سے مدد کی اپیل کی تھی۔ وزیراعظم کے احکامات کے بعد این ڈی ایم اے کا ایک وفد شہر کا دورہ کرنے والا ہے تاہم سندھ حکومت کا دعویٰ ہے کہ سول انتظامیہ پانی کی نکاسی میں ’کامیاب رہی ہے۔‘ اور فوج کو صرف اس صورت میں طلب کیا جاسکتا ہے جب بات سول انتظامیہ کے بس کی نہ ہو۔ گندے نالے کا روپ دھارنے والی اورنگی ٹاؤن کی گلی اور کراچی میں بارش پر سیاست
حالیہ کچھ عرصے میں سندھ اور وفاق کے درمیان تناؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ پہلے بجلی اور لوڈ شیڈنگ کے مسئلے پر وفاقی حکومت کے وفد نے کراچی کا دورہ کیا تھا اور اب کراچی کی صفائی کےلیے وزیراعظم نے خود نوٹس لے لیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے بدھ کی شب اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’میں نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین کو فوری طور پر کراچی جانے اور بارش کے بعد صفائی کا کام شروع کرنے کی ہدایات دی ہیں۔
اس کے ایک گھنٹے بعد انہوں نے ایک اضافی ٹویٹ کی جس میں انھوں نے مزید لکھا: ’افواج پاکستان کو بھی شہر کی صفائی کے کام میں ہاتھ بٹانے کا کہا ہے۔‘لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی کا کہنا ہے کہ این ڈی ایم اے آئے اور صورت حال دیکھے لیکن ’شہر سے دو روز قبل ہی برساتی پانی نکال دیا گیا تھا اب صرف کچھ علاقوں میں کیچڑ اور گندگی موجود ہے جس کو بھی صاف کیا جارہا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو معلوم ہونا چاہیے کہ این ڈی ایم اے کا کردار اور دائرہ کار کیا ہے۔
’فوج اس وقت طلب کی جاتی ہے جب معاملات سول انتظامیہ کے ہاتھوں سے نکل جاتے ہیں کیوں کہ فوج کی انجینئرنگ کور کے پاس جدید مشینری اور آلات ہیں اس لیے انہیں طلب کیا جاتا ہے۔ ’لیکن یہاں سول انتظامیہ پانی کی نکاسی میں کامیاب رہی ہے۔‘
صوبائی وزیر بلدیات ناصر شاہ کا کہنا تھا کہ این ڈی ایم اے کی جانب سے تاحال کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ہے۔ ’اگر وہ رابطہ کریں گے تو انہیں بریفنگ دی جائے گی۔ وہ کام کریں ہم انہیں ویلکم کریں گے۔‘
تحریک انصاف کے صوبائی رہنما این ڈی ایم اے سے متعلق اعلان کو اچھی خبر قرار دے رہے ہیں۔ علی حیدر زیدی کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کے دل میں کراچی کےلیے خاص جگہ ہے۔ کراچی فوج کا خیر مقدم کرے گا اور ان کی حمایت کرے گا۔‘ کراچی میں اس وقت بارش کا پانی تو نہیں لیکن کچرے کے ڈھیر ضرور موجود ہیں۔
سندھ حکومت کی یقین دہانی کے باوجود کراچی کے بعض علاقوں میں صفائی کی شدید ضرورت ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ جلد بحالی ممکن ہوسکے۔
صوبائی وزیر سعید غنی کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے منصوبے گرین لائن کی وجہ سے نکاسی آب کا نظام متاثر ہوا ہے اور کئی لائنز آپس سے غیر منقطع ہوگئی ہیں اس لیے کے ڈی اے چورنگی سے لے کر پانی سڑکوں اور گلیوں میں آگیا۔
انہوں نے سوال کیا کہ صرف ضلع وسطی میں یہ صورت حال کیوں ہوئی اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ’اورنگی میں جو نالہ اوور فلو ہوا اس کے اوپر گھر بنے ہوئے ہیں ان میں تو پانی جائے گا، لیاقت آباد کے کشمیری محلے میں نالے کے ساتھ ساتھ جو آبادی ہے اس کے ریٹرننگ وال میں سورخ کردیے گئے ہیں، جس سے پانی کی نکاسی متاثر ہو رہی ہے۔
’اسی طرح سولجر بازار پولیس لائن کے قریب جو پانی کی سات آٹھ لائنز ہیں ان میں سے صرف ایک چل رہی باقی بلاک تھیں۔‘
تحریک انصاف کراچی کے صدر خرم شیر زمان نے ٹوئٹر پر سڑکوں پر کھڑے پانی کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’دیکھیے یہ ہے کراچی میں گزشتہ 12 سال سے پیپلز پارٹی کی کارکردگی۔‘
سعید غنی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے وزیر سمیت کوئی بھی رکن بارشوں کے دوران سڑکوں پر نظر نہیں آیا جب کہ وزیر اعظم کی جانب سے گزشتہ دو سال کے دوران کراچی کےلیے بنائی گئی چار سے زائد کمیٹیوں نے اب تک اس شہر کےلیے کیا کیا ہے وہ بھی نظر نہیں آرہا۔ ’لاکھوں ٹن نالوں سے کچرہ صاف کرنے کے دعویدار وزیر نے صفائی کے دوران صرف 20 ہزار ٹن کچرا لینڈ فل سائیڈ پر پہنچایا باقی لاکھوں ٹن اس نے اس شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں پھیلا دیا۔‘
یاد رہے کہ وفاقی وزیر علی زیدی نے گزشتہ سال اعلان کیا تھا کہ وہ کراچی سے کچرا اٹھائیں گے اس کے لیے انھوں نے ایک فنڈ بنانے کا بھی اعلان کیا تھا، جب کہ نالوں کی صفائی فوج کے ذیلی ادارے ایف ڈبلیو او سے کرانے کا اعلان کیا گیا۔ ایف ڈبلیو او کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر رقم ادا کی جائے گی تو صفائی ضرور ہو گی۔
صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے کہ سولجر بازار میں جہاں نالے کے اوور فلو ہونے کے باعث مشکلات درپیش تھیں وہاں نالے کی صفائی کے دوران بڑے بڑے پتھر جو ان نالوں کے پائپ کے منھ پر موجود تھے ان کو ہٹایا گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ماضی میں بھی اس طرح کے واقعات پیش آچکے ہیں جن میں کچھ سازشی ٹولے اپنی سیاست کو چمکانے اور پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے کی غرض سے اس طرح کی حرکتیں کرتے رہیں ہیں، ان کے خلاف نہ صرف اب ایف آئی آر کا اندراج کروائیں گے بلکہ اس کےلیے اطراف کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے بھی مدد لی جارہی ہے۔‘
واضح رہے کہ گزشتہ سال بھی صدر کے علاقے سے بعض لائنز سے بوریاں اور سیمنٹ کے بلاکس برآمد ہوئے تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے نالوں اور دیگر متعلقہ اخراجات کی صفائی کےلیے 46 کروڑ تین لاکھ روپے جاری کیے ہیں۔
وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 17 جولائی 2020 کو سالڈ ویسٹ ایمرجنسی اینڈ ایفیشنسی پروگرام (ایس ڈبلیو ای ای پی) کے تحت کراچی بھر میں اور مون سون کے خطرات کو کم کرنے کےلیے ہنگامی کارروائیوں کے تحت خصوصی گرانٹس اور ایڈ میں 20 کروڑ روپے کی رقم جاری کی گئی تھی۔
اس کے علاوہ کوڑا اور ملبہ اٹھانے کےلیے کمشنر کراچی کو تین کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔
تحریک انصاف کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ کا کہنا ہے کہ حکمرانوں نے کراچی کی عوام کو کھلے گٹروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ ’شہر اس لیے ڈوبا کیوں کہ نالوں کہ صفائی نہیں کی گئی تھی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ این ڈی ایم اے کراچی میں کام کرے گا۔ ’المیہ یہ ہے کہ سندھ میں معمول کا کام بھی ڈزاسٹر بنا دیا گیا ہے لیکن پرونشل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نظر نہیں آتی۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button