کراچی: حکومتی ایس او پی کی خلاف ورزی، 3 صنعتی یونٹ سیل

کراچی میں کرونا وائرس سے متعلق لاک ڈاؤن کے دوران کاروبار کھولنے کے لیے بنائے گئے اسٹینڈر آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) کی خلاف ورزی پر 3 صنعتوں کو سیل کردیا گیا۔
اس حوالے سے سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ کراچی میں 3 صنعتی یونٹس کو سربہمر کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر کورنگی کی سربراہی میں ضلعی انتظامیہ نے کورنگی صنعتی ایریا میں کارروائی کی، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ کورونا ایس او پی پرعمل نہ کرنے والی 2 ادویہ ساز کمپنیوں کو سربمہر کردیا گیا۔مرتضیٰ وہاب کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے محکمہ داخلہ کی ایس او پی پر عملدرآمد کا جائزہ لیا، دونوں ادویہ ساز اور چائے بنانے والی کمپنی نے ایس او پی کےتحت ملازمین کےلیے ٹرانسپورٹ کا غلط استعمال کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایس او پی کے تحت صنعتی ورکرز کی گاڑیوں میں سماجی فاصلہ اختیار کرنا لازمی ہے، تاہم ملازمین کی بڑی تعداد کو بس میں سوار کیا گیا تھا جبکہ خواتین ملازمین کی بڑی تعداد بس میں موجود تھی۔ضلعی انتظامیہ نے دونوں ادویہ ساز اور چائے کی کمپنی کمپنیز کو سیل کردیا ہے۔ بیرسٹر مرتضی وہاب انہوں نے بتایا کہ دونوں ادویہ ساز اور چائے بنانے والی کمپنی کو ایس او پی کی خلاف ورزی پر سربمہر کیا گیا۔مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ حکومت سندھ اور طبی ماہرین کی ہدایات پر عمل کیا جائے اور لاک ڈاؤن میں دی گئی سہولت کے غلط استعمال سے گریز کیا جائے۔
خیال رہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کے دوران مختلف کاروبار کو ایس او پی کے تحت اجازت دی گئی تھی۔
تاہم ایس او پی میں واضح کیا گیا تھا کہ خلاف اس کی خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی کی جائے گی۔واضح رہے کہ سندھ اس وقت کورونا وائرس سے ملک کا دوسرا سب سے بڑا متاثر صوبہ ہے اور یہاں مجموعی کیسز کی تعداد 2767 تک پہنچ چکی ہے۔یہی نہیں بلکہ اب تک صوبے میں 61 افراد ایسے بھی ہیں جو اس وائرس سے جان کی بازی ہارچکے ہیں۔اگرچہ سندھ میں ابتدائی طور پر بیرون ملک سے آئے کیسز تھے تاہم بعد ازاں مقامی طور پر منتقلی کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور مجموعی کیسز میں تقریباً 60 فیصد کیسز مقامی منتقلی کے ہیں۔سندھ میں سب سے زیادہ شہر کراچی متاثر ہوا ہے اور یہاں ہونے والی اموات پورے ملک میں سب سے زیادہ ہے۔گزشتہ روز کے اعداد و شمار کے مطابق صرف کراچی میں 52 افراد اس وائرس سے انتقال کرچکے تھے۔
