کراچی: دکانیں کھولنے پر زیر حراست6 تاجروں کی ضمانت منظور

کراچی کی ایک مقامی عدالت نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے نتیجے میں حکومت سندھ کی جانب سے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مبینہ تشدد اور دکانوں کو دوبارہ کھولنے کے الزام میں گرفتار 6 تاجروں کی ضمانت منظور کرلی۔
پولیس نے آل سٹی ٹریڈرز الائنس کے صدر حماد پونا والا، محمد جاوید قریشی، محمد فیصل حسن زئی، ملک عقیل شیراز، محمد احسن اور محمد جاوید کے علاوہ چند نامعلوم تاجروں اور دکانداروں کو لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی، تشدد پر ابھارنے اور عوام کو خطرے سے دوچار کرنے کے الزام میں مقدمہ 22 اپریل کو مقدمہ درج کرکے گرفتار کیا تھا۔ایک روز بعد حراست میں رکھے گئے تاجروں نے جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے اسی طرح کی درخواستوں کو مسترد کرنے کے بعد مشترکہ طور پر ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔ہفتے کے روز جوڈیشل مجسٹریٹ (جنوب) ماہ رخ رشید نظامانی نے سرکاری پراسیکیوٹر اور دفاعی وکیل کے دلائل سننے کے بعد تاجروں کی درخواست ضمانت پر فیصلہ سنایا۔جج نے ہر درخواست گزار کو ڈیڑھ لاکھ روپے کی ضمانت کے عوض ضمانت دی۔عدالت نے کسی اور معاملے میں ان کی تحویل کی ضرورت نہ ہونے پر انہیں جیل سے رہا کرنے کا حکم دیا۔
دوسری طرف لکی مروت کے جمعیت علما اسلام (ف) کے ضلعی اراکین نے حکومت سے لاک ڈاؤن سے متاثرہ چھوٹے تاجروں کے لیے خصوصی ریلیف پیکج کے اعلان کرنے کا مطالبہ کردیا۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علما اسلام (ف) کے سیکریٹری اطلاعات شفیع اللہ قریشی کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت حکومت کی چھوٹے تاجروں کو ریلیف پہنچانے میں ناکامی پر فکر مند ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک ماہ سے زائد کے لاک ڈاؤن نے کاروباروں کو بری طرح متاثر کیا ہے، بالخصوص لکی مروت جیسے پسماندہ ضلع کے چھوٹے تاجر۔
ان کا کہنا تھا کہ ’درزی، نائی، موچی سمیت دیگر کاروباروں سے منسلک تاجر گزشتہ ایک ماہ سے ان کی دکانیں بند ہونے کے باعث پریشانی کا شکار ہیں اور صوبائی و وفاقی حکومت انہیں ریلیف پہنچانے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے ہیں۔
