کراچی میں اندھیرے کرنے والے ابراج گروپ کپتان کا فنانسر نکلا


معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے الیکٹرک کی بڑی شیئر ہولڈر کمپنی ابراج گروپ نے وزیراعظم عمران خان سے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے کے الیکٹرک کو شنگھائی الیکٹرک کے ہاتھ بیچ دیا ہے لیکن دوسری جانب اہل کراچی پر سے لوڈ شیڈنگ کا عذاب تاحال نہیں ٹل سکا۔
یا درہے کہ کے الیکٹرک کے مالک عارف نقوی وزیراعظم عمران خان کی قریبی دوست اور فنانسر ہیں جنہوں نے تحریک انصاف کو الیکشن کے لیے بڑے پیمانے پر فنڈنگ کی تھی۔ تاہم عارف نقوی ان دنوں مختلف فراڈ کے مقدمات میں برطانیہ کی جیل میں بند ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اور یورپی ممالک میں افراد گروپ پر جرمانہ عائد کرنے کے بعد اس کمپنی نے پیسے اکٹھے کرنے کے لئے کے الیکٹرک کو شنگھائی الیکٹرک کے ہاتھ بیچنے کی کوشش کی لیکن نواز شریف دور حکومت میں انہیں حکومتی اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے کلیئرنس نہ مل سکی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی الیکٹرک نے قوانین کے برخلاف چین کی کمپنی شنگھائی الیکٹرک کے ساتھ معاملات تقریباً طے کر لیے تھے اور اس حوالے سے حکومت پاکستان کے ہاتھ مکمل طور پر باندھ دیئے گئے تھے۔ اس مبینہ معاہدے میں ایک شق یہ بھی رکھی گئی تھی کہ حکومت پاکستان، جس کے کے الیکٹرک میں 24 فیصد ہیں، وہ شنگھائی الیکٹرک کے ساتھ کسی قسم کی زبردستی نہیں کرسکے گی۔ علاوہ ازیں کے الیکٹرک کے ذمے واجب الادا 400 ملین ڈالر خسارے کا فیصلہ بھی حکومت اور شنگھائی الیکٹرک بعد میں کریں گے۔ کہا جاتا ہے کہ نواز شریف دور حکومت میں ابراج گروپ اورشنگھائی الیکٹرک نے اس سودے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے بڑے پیمانے پر لابنگ کی اور نواز کابینہ کے کئی تگڑے وزراء ان کے سفارشی بن کر سامنے آئے۔ وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق نواز شریف کے دوست نوید علی کے ذریعے شریف برادران کو دو کروڑ امریکی ڈالر رشوت کی پیشکش بھی کی گئی تاہم یہ ڈیل نہ ہوسکی۔
اب جبکہ پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہے معلوم ہوا ہے کہ ابراج گروپ نے حکومت پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے شنگھائی الیکٹرک کے ساتھ ڈیل فائنل کر لی ہے اور اس سودے کو سکیورٹی کلیئرنس بھی مل چکی ہے۔ تاہم یہ سودا حکومت پاکستان اور اہلیان کراچی کے لیے سراسر گھاٹے کا سودا ثابت ہونے جا رہا ہے کیونکہ اس ڈیل میں بجلی ٹیرف اور 400 ملین ڈالر کے قرض کی ادائیگی کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ دوسری جانب حکومتی ناقدین اس نقطے کو اٹھا رہے ہیں کہ عالمی سطح پر جعل ساز کمپنی ثابت ہونے والا ابراج گروپ اور اس کا مالک ملک عارف نقوی آخر کیوں کر تحریک انصاف کے دور حکومت میں اپنی من مانی کر رہا ہے اور احتساب کے نام پر بننے والی حکومت نے ابھی تک ابراج گروپ پر ہاتھ کیوں نہیں ڈالا۔
اگرچہ وزیراعظم عمران خان مسلسل یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں کرپشن کے خاتمے اور بے لاگ احتساب کے نام پر ووٹ ملے ہیں لیکن کڑوا سچ تو یہ ہے کہ کروڑوں ڈالر رشوت کیس میں ملوث ابراج گروپ کا مالک عارف نقوی کپتان کا سپانسر ہے اور اسی لیے مختلف کرپشن کیسوں میں نام آنے کے باوجود اس گروپ کے خلاف آج دن تک کسی قسم کی کوئی تحقیقات ہی شروع ہی نہیں کی گئیں۔
لہذا ابراج گروپ کا معاملہ تحریک انصاف کے لیے ٹیسٹ کیس حیثیت اختیار کر گیا ہے۔تحریک انصاف نے اپنے منشور کے مطابق ملک سے لوٹی گئی رقم واپس لانے اور میگا پراجیکٹس سے متعلق معاہدوں میں رشوت ستانی کے خلاف خصوصی مہم شروع کر رکھی ہے لیکن ایک سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود کپتان حکومت نے ابراج گروپ پر ہاتھ نہیں ڈالا۔ حالانکہ وزیراعظم عمران خان اس معاملے سے پوری طرح باخبر ہیں، جس کی گواہی وزیراعظم کے مشیر شہزاد اکبر اپنے ٹی وی انٹرویو میں دے چکے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ابراج گروپ کے مالک عارف نقوی کے وزیراعظم عمران خان سے قریبی تعلقات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب کچھ ماہ پہلے عارف نقوی کو لندن ائیرپورٹ پر گرفتار کیا گیا تو انہوں نے بطور ریفرنس رابطے کے لیے جن شخصیات کے نمبر دئیے، ان میں ایک عمران خان کا بھی تھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا کپتان سے کس قدر گہرا اور قریبی تعلق ہے۔ لہذا یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ اپنے سیاسی مخالفین پر بے رحمانہ احتساب کی چھری چلوانے والے کپتان نے اپنی سپانسر کمپنی کے مالک عارف نقوی کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیوں نہیں کیا۔ تحریک انصاف کے مخالفین کہتے ہیں کہ اگر وزیراعظم نے ابراج گروپ پر ہاتھ ڈالا تو ان کے اپنے کئی راز کھل جائیں گے۔
عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان نے بھی اپنی کتاب میں دعویٰ کیا تھا کہ عارف نقوی نے 2013 کے انتخابات میں تحریک انصاف کی مالی معاونت کی تھی۔ خیال رہے کہ عارف نقوی کی جانب سے تحریک انصاف کو ساڑھے پانچ کروڑ روپے کی مالی معاونت پر سٹیٹ بینک آف پاکستان کے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ نے نیب کو تحقیقات کے لیے کہا تھا اور نیب نے یہ انکوائری 2016 کو ختم کر دی تھی اور باقاعدہ پریس ریلیز میں اس کا اعلان بھی کیا گیا۔واضح رہے کہ ابراج گروپ کے سربراہ عارف نقوی پر متحدہ عرب امارات اور امریکہ کی عدالتوں میں کیسز چل رہے ہیں۔دوسری جانب وفاقی وزیر برائے پلاننگ اسد عمر کا کہنا ہے کہ عارف نقوی کے خلاف کیسز منظرعام پر آنے کے باوجود ان کا وزیراعظم عمران خان کے ساتھ تعلق رہا اور وہ میٹنگ میں بھی بیٹھتے رہے ہیں۔ وزیراعظم کی شنگھائی الیکٹرک کے ساتھ میٹنگ میں بھی عارف نقوی شریک تھے۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے گذشتہ برس گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس پر واجبات کو معاف کرنے کا آرڈیننس سامنے آیا تھا۔ اس آرڈیننس سے مستفید ہونے والوں میں ابراج گروپ بھی شامل تھا کیونکہ کے الیکٹرک کے ذمہ بھی گیس ڈویلپمنٹ سیس کے تحت کئی ارب روپے واجب الادا ہیں۔ تاہم تنقید کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان نے اس صدارتی آرڈیننس کو واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button