کراچی میں باپ بیٹی کو کچلنے والی گل احمد ٹیکسٹائل والی نکلی

کراچی کے علاقے کارساز میں اپنی تیز رفتار کار سے موٹر سائیکل سوار باپ بیٹی کو کچلنے والی خاتون گل احمد ٹیکسٹائیل ملز اور میٹرو پاور گروپ کے مالک دانش اقبال کی بیوی نکلی ہے جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ حادثے کے وقت نشے کی حالت میں تھی اور اس کا شوہر بھی گاڑی میں موجود تھا۔ پولیس نے جناح ہسپتال سے ملزمہ کا طبی معائنہ بھی کرایا تھا تاکہ پتہ چل سکے کہ وہ نشے میں تھی یا نہیں، لیکن اس کی رپورٹ ابھی تک سامنے نہیں آ پائی۔
تاہم ایک بات طے ہے کہ نتاشہ کو بچانے کے لیے با اثر افراد ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ کوشش بھی کی گئی کہ نتاشہ کو ذہنی مریض ثابت کر کے بچایا جائے لیکن ڈاکٹر کی جانب سے اسے ذہنی طور پر مکمل فٹ قرار دے دینے کی وجہ سے منصوبہ ناکام ہو گیا۔
یاد ریے کہ شہر قائد کے علاقے کارساز روڈ پر بے قابو کار کی ٹکر سے 20 سالہ لڑکی اور اسکے 55 سالہ والد جان کی بازی ہار گئے جبکہ تین زخمی اب بھی ہسپتال میں زیر علاج ہیں جن میں سے ایک کی حالت تشویش ناک ہے۔ جس شخص کی حالت نازک ہے وہ ایک سفید کرولا گاڑی میں جا رہا تھا جسے نتاشہ نے موٹر سائیکل کو کچلنے سے پہلے ٹکر ماری تھی۔ اب کارساز پولیس یہ دعوی کر رہی ہے کہ حادثے کے وقت خاتون کے ساتھ اس کا شوہر بھی موجود تھا۔ بتایا جاتا یے کہ خاتون کا شوہر دانش اقبال ملک میں میں ونڈ پاور انڈسٹری کی بنیاد رکھنے والوں میں سے ایک ہے۔ دانش اقبال اس وقت گل احمد انرجی اور اس کے ذیلی ادارے میٹرو پاور گروپ کا چیئرمین بھی ہے جو 60 میگاواٹ ونڈ پاور کا منصوبہ چلاتا ہے۔
جنرل فیض حمید کے کورٹ مارشل کے پیچھے اصل کردار کون ہے؟
اب پتہ چلا ہے کہ موٹر سائیکل سوار باپ بیٹی کو کچلنے سے پہلے ملزمہ خاتون نے اسی سڑک پر ایک سفید رنگ کی کار کو بھی ٹکر ماری تھی جس کی فوٹیج اب سامنے اگئی ہے،ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سفید گاڑی سامنے سے آئی تو ملزمہ نے اپنی گاڑی کی رفتار کو کم کیا اور پھر تیزی سے گاڑی چلا دی۔
خاتون کی گاڑی نے سفید گاڑی کے عقبی دروازے کو ہٹ کیا، خاتون نے گاڑی کے پیچھے موجود موٹر سائیکل پر سوار 2 افراد کو بھی ٹکر ماری، جس سے وہ نیچے گر گئے۔حادثے کی بعد تیزی رفتاری فرار ہوتے ہوئے اسی روڈ پر آگے جا کر خانون ملزمہ نے موٹر سائیکل سوار باپ بیٹی کو ٹکر ماری جس سے وہ جاں بحق ہو گئے۔ کارساز حادثے میں موٹر سائیکل سوار عمران عارف اور اس کی بیٹی آمنہ جاں بحق جبکہ 4 شہری شدید زخمی ہوئے تھے، عینی شاہدین نے بتایا تھا کہ جیپ چلانے والی خاتون اپنے حواس میں نہیں تھی اور بظاہر نشے کی حالت میں تھی۔ حادثے کے بعد مشتعل افراد نے خاتون ڈرائیور کو گھیرا تو پولیس نے موقع پر پہنچ کر جیپ چلانے والی خاتون نتاشا کو حراست میں لے لیا تھا۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ چونکہ نتاشہ گل احمد ٹیکسٹائل ملز کے با اثر مالک کی بیوی ہے لہذا اسے سزا سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ لہازا حکومت کو اس فوتی کیس کا نوٹس لینا چاہیے اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہیے۔
