کراچی میں لیاری سے لانڈھی تک کرونا وائرس کیسے پھیلا؟

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں لیاری سے لانڈھی تک غریب بستیوں اور مزدروں کی آبادیوں میں کرونا وائرس کے متاثرین میں نہایت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اس وقت سب سے زیادہ متاثر ضلع جنوبی ہے جس میں لیاری ٹاؤن اور اس سے ملحقہ علاقے شامل ہیں۔ ان علاقوں میں کرونا کے تیز رفتاری سے بڑھنے کی بڑی وجہ سماجی اور جغرافیائی عنصر ہے کیونکہ یہ گنجان آباد علاقے ہیں، لوگ چھوٹے گھروں میں رہتے ہیں اور ان کے لیے خود کو آئیسولیٹ کرنا ممکن نہیں ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ضلع جنوبی میں 24 گھنٹوں میں 89 کیسز سامنے آئے ہیں۔ لیاری کے دیگر شدید متاثرہ علاقوں میں گیارہ افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق کی گئی ہے، اس کے بعد شاہ بیگ لین میں نو افراد متاثر ہوئے اور دو ہلاکتیں سامنے آئیں جبکہ رانگی واڑہ میں 17 افراد متاثر ہوئے اور ایک ہلاکت ہوئی ہے۔ محکمہ صحت کی جانب سے 26 فروری سے لے کر 19 اپریل تک ٹاؤن سطح پر مرتب کی گئی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عرصے میں لیاری ٹاؤن میں 90 کیسز سامنے آئے جبکہ چار ہلاکتیں ہوئیں، یہاں سات اپریل کے بعد کیسز میں اضافہ ہوا، اس سے قبل یہاں صرف ایک کیس تھا، سب سے زیادہ کیس بہار کالونی میں سامنے آئے جن کی تعداد 25 ہے جبکہ یہاں ایک موت بھی واقع ہوئی ہے۔
لیاری کے دیگر شدید متاثرہ علاقے میں گیارہ کیسز سامنے آئے اس کے بعد شاہ بیگ لین میں نو افراد متاثر ہوئے اور دو ہلاکتیں سامنے آئیں جبکہ رانگی واڑہ میں 17 افراد متاثر ہوئے اور ایک ہلاکت ہوئی۔ محکمہ صحت کے مطابق یہاں متاثرین میں 20 سے 29 برس کے نوجوان زیادہ تھے۔ متاثرین میں مردوں کی شرح 77 فیصد جبکہ خواتین 23 فیصد تھیں، کل 85 میں سے 82 افراد کورونا کے متاثرہ مریض سے رابطے میں آ کر متاثر ہوئے جبکہ ایک شخص سعودی عرب سے واپس آیا تھا۔ ڈپٹی کمشنر جنوبی ارشاد سوڈھڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ضلعے میں زیادہ ٹیسٹ ہو رہے ہیں اسی وجہ سے زیادہ کیسز سامنے آرہے ہیں، بقول ان کے سول ہسپتال اور ایس آئی یو ٹی قریب ہیں، اس کے علاوہ لیاری میں ککری گراونڈ میں واک تھرو ٹیسٹ کی سہولت موجود ہے اور اس سمیت مشتبہ علاقوں میں گھر گھر ٹیسٹ بھی کیے جار رہے ہیں۔ ان کے مطابق کیسز میں اضافہ کی دوسری وجہ سماجی اور جغرافیائی عنصر ہے کیونکہ یہ گنجان آباد علاقہ ہے لوگ چھوٹے گھروں میں رہتے ہیں اور ان کے لیے خود کو آئیسولیٹ کرنا ممکن نہیں ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’اگر کسی کے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت ہے اور اس میں علامات نہیں ہیں تو وہ ہسپتال جانے کے لیے تیار نہیں ہوتا، متاثرہ افراد میں ہر گھر سے دو یا تین کیسز سامنے آ رہے ہیں۔‘
لیاری ٹاؤن میں بہار کالونی کا علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہے، جماعت اسلامی کے مقامی رکن اسمبلی عبدالرشید اسی علاقے کے رہائشی اور وائرس سے متاثر ہیں، ان کا کہنا ہے کہ بہار کالونی گنجان آباد ہے یہاں ہر کمیونٹی کے لوگ رہتے ہیں اور صفائی ستھرائی کا نظام ناقص ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’لوگ ماسک لگا بھی لیں لیکن مچھر اور مکھیاں ایک جگہ سے دوسرے جگہ وائرس کی منتقلی کر رہی ہیں۔‘ روایت کے مطابق لیاری رات کو جاگتا ہے کیونکہ گھر چھوٹے ہیں، کئی خاندانوں کے مرد رات کو باہر بیٹھے ہوتے ہیں اور خواتین سوتی ہیں جب وہ صبح کو کام کاج پر جاتی ہیں تو پھر مرد سوتے ہیں۔ لیاری کی اکثر آبادی بندرگاہ اور شہر کی مارکیٹوں میں روزانہ کی اجرت کی مزدوری سے وابستہ ہے۔ یہاں سیاسی اور سماجی مزاحمت بھی موجود ہے، گزشتہ انتخابات میں یہاں نئی سیاسی صف بندیاں بھی ہوئیں۔
ماضی قریب میں پہلی بار تحریک انصاف نے قومی جبکہ جماعت اسلامی اور تحریک لبیک نے ایک ایک صوبائی نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور پاکستان پیپلز پارٹی کی انیس سو ستر سے قائم تسلط کو جنجھوڑ دیا۔ لیاری کی گلیوں اور بازاروں میں عوامی چہل پہل کی ویڈیو بھی سامنے آئیں اسی طرح چند روز قبل ایک ایسی ہی ویڈیو میں پولیس پر مقامی لوگوں کو حملہ آور ہوتے ہوئے دکھایا گیا جب انھوں نے دکانیں بند کرانے کی کوشش کی تھی۔ رکن اسمبلی عبد الرشید کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن مؤثر نہیں رہا، لوگوں کا آنا جانا رہا مارکیٹیں کھلی رہیں۔
ڈپٹی کمشنر جنوبی ارشاد سوڈہڑ کا کہنا ہے کہ دکانیں اور بازار بند ہیں، کریانہ سٹورز، سبزی اور دیگر روزہ مرہ کے اشیا کی دکانیں کھلی ہیں اور لوگ خریداری کے بہانے سے باہر نکلے آتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی کا علاقہ اصل میں لانڈھی مزدوری کی ایک اور بڑی آبادی ہے جس کے اطراف میں بندرگاہ، پاکستان سٹیل ملز کے علاوہ کئی ٹیکسٹائل ملز ہیں۔ انھوں نے کہا کہ لانڈھی میں ذیادہ تر ایک یا دو کمروں کے مکان ہیں جس میں مشترکہ واش روم اور باورچی خانہ بھی ہوتا یے۔ ایسے حالات میں بڑے کنبے کس طرح آئیسولیشن میں رہ سکتے ہیں؟ اس صورتحال میں تو وائرس پھیلنے کا مزید خدشہ موجود ہے۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button