کراچی میں مارے جانے والے چینی زبان کے اساتذہ کون تھے؟


کراچی یونیورسٹی میں خودکش دھماکا کرنے والی بلوچ قوم پرست شاران نامی خاتون بارے تو کافی کچھ سامنے آ چکا ہے لیکن ان تین چینی باشندوں کے بارے میں بہت کم معلومات سامنے آئی ہیں جو اس دھماکے میں لقمہ اجل بن گئے۔ دھماکے میں مرنے والے چینی باشندوں میں دو خواتین اور ایک مرد استاد شامل تھے جو کراچی یونیورسٹی میں چینی زبان سکھاتے تھے۔ پروفیسر ہوانگ گیپنگ نے خود کش دھماکے سے چند دن قبل ہی دوبارہ بحثیت ڈائریکٹر کام کا آغاز کیا تھا۔ پروفیسر ہوانگ کا شمار کراچی یونیورسٹی کے چینی زبان کے مرکز یعنی کنفیوشس انسٹیٹیوٹ کے بانی استادوں میں ہوتا تھا۔ پروفیسر ہوانگ نے 2013 میں اس ادارے کا آغاز کیا تھا اور اسے اسٹیبلشمنٹ کرنے کے بعد وہ واپس چین چلے گئے تھے۔ لیکن موت پروفیسر ہوانگ کو واپس پاکستان لے ائی اور وہ 26 اپریل کو ایک خوفناک خود کش حملے کے نتیجے میں دیگر دو چینی اساتذہ ڈنگ میوپنگ اور چن سائی کے ہمراہ مارے گے۔ دہشت گردی کے اس حملے میں پاکستانی ڈرائیور خالد سمیت مجموعی طور پر چار افراد ہلاک جبکہ چار زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں سے ایک اور چینی استاد وانگ یو پلیز اور پاکستانی محافظ حمید گل شامل ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ چین کے یہ استاد کراچی یونیورسٹی اور چین کی سیچوان نارمل یونیورسٹی کے درمیان ایک معاہدے کے تحت چینی زبان کی تعلیم دینے کے لیے کراچی یونیورسٹی میں موجود تھے۔ سیچوان نارمل یونیورسٹی نے یہ منصوبہ چینی حکومت کے منصوبے ون بیلٹ ون روڈ کے تحت دیا ہے۔ سیچوان نارمل یونیورسٹی نے پاکستان کے تمام بڑے شہروں کی یونیورسٹیوں میں کنفیوشس انسٹیٹیوٹ سنٹر قائم کیے ہیں جہاں پاکستانی طالب علموں کو مختصر اور لمبے دورانیہ کے چینی زبان کے کورسز کروائے جاتے ہیں۔
کراچی یونیورسٹی میں چینی زبان کے ایک طالب علم جواد رانا کے مطابق پروفیسر ہوانگ سٹوڈنٹس سے زیادہ تر چینی زبان میں بات کرتے تھے۔ ان کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ طالب علم جلد ازجلد چینی زبان پر عبور حاصل کریں۔ وہ سختی نہیں کرتے تھے بلکہ گپ شپ کے ماحول میں کوئی موضوع چنتے اور اس پر بات چیت شروع ہو جاتی تھی۔ جواد رانا کا کہنا تھا کہ انھوں نے ہمیں چینی حروف تہجی سکھانے کے لیے تصاویر کا سہارا لیا تھا۔ وہ روایتی طور پر صرف لیکچر نہیں دیتے تھے بلکہ مختلف طریقے استعمال کرکے عملی تربیت کے مواقع فراہم کرتے تھے اور اسکے لیے اکثر اوقات چھوٹی موٹی پارٹی بھی کر لیتے تھے۔
کراچی یونیورسٹی کے کنفیوشس انسٹیٹیوٹ کے طالب علم محب اللہ کہتے ہیں کہ ‘میں اور ہمارے دیگر ساتھی طالب علم چینی لیکچرار چن سائی کے طالب علم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ‘شاندار شخصیت کی مالک اور محبت کرنے والی استاد تھی اور ان کی موت پر ہم سب سکتے کی کیفیت میں ہیں۔’ محب اللہ کہتے ہیں کہ ہماری تمام چینی اساتذہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے۔ ’وہ تمام تھے تو ہمارے استاد لیکن ان سے دوستی تھی، ہم لوگ کلاس کے بعد بھی ملتے تھے۔ یہ مواقع چینی اساتذہ خصوصاً چن سائی مہیا کرتی تھیں۔ ان ملاقاتوں کے لیے مختلف تقریبات یا پارٹیوں کا اہتمام کیا جاتا۔ جس میں ہم لوگ پاکستانی کھانے پکاتے اور وہ چین کے پکوان تیار کرتے تھے۔‘ محب اللہ کہتے ہیں کہ ان پارٹیوں کا ایک مقصد یہ ہوتا تھا کہ ہم طالب علموں کو چین کی ثقافت اور کلچر سے روشناس کروایا جائے۔ دوسرا یہ کہ ہمارے یہ اساتذہ پاکستان کے بارے میں بھی زیادہ سے زیادہ جاننا چاہتے تھے۔ محب اللہ اپنے اساتذہ کی ہلاکت کے بعد چینی زبان کے مرکز بارے میں فکر مند ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس حادثے کے بعد ہم نہیں جانتے کیا ہوگا۔ ہمارا ادارہ دوبارہ کھل بھی سکے گا کہ نہیں اور اگر یہ کھل بھی گیا تو اس کا ماحول کیسا ہو گا۔’
کراچی یونیورسٹی کے چینی زبان کے ایک اور طالب علم نثار اشتیاق کا کہنا تھا کہ حملے میں ہلاک ہونے والی چینی لیکچرار ڈنگ میوپینک ‘اکثر ہمیں کہتی تھیں کہ ون بیلٹ ون روڈ کی وجہ سے آنے والے وقت میں چینی زبان پر عبور رکھنے والوں کی بہت مانگ ہوگی۔ اس لیے اگر ہم لوگوں کو اپنا مستقبل اچھا کرنا ہے تو ہمیں خوب محنت کرنی چاہیے۔’ نثار اشتیاق کہتے ہیں کہ لیکچرار ڈنگ میوپینک اور لیکچرار چن سائی کو دیکھیں تو دونوں ایک دوسری کی بہنیں لگتی تھیں مگر ایسا نہیں تھا۔ دونوں کے مزاج میں زمین اور آسمان کا فرق تھا۔ ‘ہمیں لگتا تھا کہ لیکچرار ڈنگ میوپینک بہت زیادہ پیشہ ورانہ انداز میں پڑھاتی تھیں۔ ان کا انداز کلاس کے اندر نو کمپرومائز والا ہوتا تھا جبکہ چن سائی کھلے ڈھلے انداز میں اپنا کام کرتی تھیں۔’
وہ کہتے ہیں کہ ‘مگر ایک بات دونوں میں مشترک تھی کہ وہ اپنے فرائض مکمل طور پر دیانت داری سے ادا کرتی تھیں۔ کبھی ایسا نہیں ہوا وہ کبھی تاخیر سے پہنچی ہوں۔ جس وجہ سے ہم لوگ بھی کلاس کی پابندی کرتے تھے۔’

Back to top button