کراچی میں پولیس کی فائرنگ سے شہری جاں بحق، ایک زخمی

کراچی کے علاقے آئی آئی چند ریگر روڈ پر غلط فہمی میں ڈاکو سمجھنے پر پولیس کی فائرنگ سے ایک شخص اور دوسرا زخمی ہوگیا۔ واقعے کا حکام بالا نے نوٹس لے لیا جبکہ واقعے میں ملوث 3 پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے لیا۔
میٹھادر پولیس کے مطابق ٹیکنو سٹی کے قریب اہلکاروں سے فائرنگ سے 48 سالہ محمد اسلم جاں بحق جبکہ 26 سالہ وقار محمد زخمی ہوگیا۔زخمی شخص کے دوست نعمان نے بتایا کہ وہ دونوں موٹرسائیکل پر سوار ہو کر جارہے تھے کہ انہیں فون کال موصول ہوئی۔ نعمان کا مزید کہنا تھا کہ ’جیسے ہی میں نے موبائل نکالا پولیس موبائل کے ساتھ کھڑے اہلکار نے فائر کردیا جس کے نتیجے میں میرا دوست زخمی ہوگیا‘۔ نعمان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے ہاتھ اوپر اٹھا کر بتایا کہ وہ بے گناہ ہیں اس کے باوجود اہلکار نے دوبارہ فائر کیا جس کے نتیجے میں محمد اسلم نامی راہگیر زخمی ہوگئے۔ نعمان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے ہاتھ اوپر اٹھا کر پولیس کو بتایا کہ ہم ڈاکو نہیں ہیں، اور تھوڑی دیر بعد پولیس اہلکار گاڑی چھوڑ کر جائے وقوع سے فرار ہوگئے۔
گولی لگنے سے زخمی ہونے والے دونوں افراد کو سول ہسپتال لے کر جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے محمد اسلم کو مردہ قرار دے دیا۔ پولیس سرجن قرار احمد عباسی نےبتایا کہ جاں بحق ہونے والے شخص کو ایک گولی لگی تھی جو اس کے ہاتھ کو چیرتی ہوئی سینے تک پہنچ گئی تھی اور مہلک ثابت ہوئی۔ پولیس سرجن کے مطابق وقار کو بھی ہاتھ پر گولی لگی لیکن انہیں طبی امداد دے کر ہسپتال سے رخصت کردیا گیا۔
دوسری جانب ڈسٹرک انسپکٹر جنرل جنوب جاوید اکبر ریاض نے کہا کہ اہلکاروں نے افراد کو مشتبہ سمجھ کر ان پر فائرنگ کی۔ انہوں نے بتایا کہ تینوں پولیس کانسٹیبلز ہیں جن کی شناخت عمران حبیب، سرفراز اور عمران کے نام سے ہوئی اور انہیں تفتیش کے لیے حراست میں لے لیا گیا ہے۔ڈی آئی جی نے بتایا کہ سٹی ایس ایس پی مقدس حیدر کو واقعے کی انکوائری کا حکم دیا گیا ہے۔
ایس ایس پی مقدس حیدر نے ابتدائی تفتیش بارےآگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکاروں کو ’غلط فہمی‘ ہوگئی تھی کہ موٹر سائیکل سوار نعمان اور وقار اسلم کو لوٹ رہے ہیں جو کہ خود بھی موٹر سائیکل پر تھے۔ ایس ایس پی کے مطابق پولیس اہلکار موبائل سے چھلانگ لگا کر اترے اور ایک اہلکار نے ایک گولی فائر کی جبکہ دوسرے نے جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے دیکھا تو سمجھا کہ وہ پستول نکال رہا ہے اور اس پر فائر مارا۔ انہوں نے بتایا کہ تینوں پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے گا جبکہ پولیس نے مقتول کے اہلِ خانہ سے بھی واقعے کی ایف آئی آر درج کروانے کا کہا ہے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کرلی۔وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ ’اس قسم کے واقعات کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس نومبر میں کینٹ اسٹیشن کے قریب پولیس اہلکاروں کی کار پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق دوسرا زخمی ہوگیا تھا اور اس واقعے کے بعد بھی تین پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ 18 اگست 2018 کو پولیس کی فائرنگ سے 10 سالہ بچی امل کی ہلاکت کے بعد حکام نے چوکیوں اور گشت پر تعینات پولیس اہلکاروں سے کلاشنکوف لے کر چھوٹی پسٹل دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button