کراچی میں کرونا وائرس سے متاثرہ علاقے مکمل بند کرنے کا فیصلہ

سندھ حکومت نے کراچی میں کورونا وباء سے متاثرہ علاقوں کو مکمل بند کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کراچی سے 77 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے جب کہ 48 گھنٹوں میں کراچی کے مختلف علاقوں سے 147 کورونا کے کیسز رپورٹ ہوئے، 6 اضلاع میں 30 سے زائد علاقے ہاٹ اسپاٹ ہیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ سب سے زیادہ 30 کورونا کیس ضلع جنوبی سے رپورٹ ہوئے جب کہ ضلع شرقی سے 24 گھنٹوں کے دوران 16 افراد میں کورونا کیسز کی تصدیق ہوئی، ضلع وسطی میں مزید 11 اور ضلع غربی میں 8 افراد کورونا کا شکار ہوئے، ملیر میں 6 اور کورنگی میں بھی 6 افراد میں کورونا وائرس رپورٹ ہوا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کراچی میں کورونا وباء سے متاثرہ علاقوں کو مکمل بند کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ ہاٹ اسپاٹ ایریاز کو مکمل بند کیے بغیر وائرس کو پھیلنے سے نہیں روک سکتے۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ ہاٹ اسپاٹ ایریاز میں کورونا ٹیسٹ کی تعداد بڑھائی جائے۔
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں کو مکمل طور پر بند کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہر میں رپورٹ ہونے والے اکثر کیسز کچی آبادیوں سے ہیں۔اپنے ویڈیو پیغام میں مراد علی شاہ نے کہا ہے ‘پچھلے 24 گھنٹوں میں جو نئے کیسز آئے ہیں ان میں تبلیغی جماعت کے علاوہ سامنے آنے والے کیسز کی تعداد 77 ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ضلع جنوبی میں مجموعی طور پر 30 کیسز سامنے آئے ہیں جن میں 24 ایسے علاقوں کے ہیں جو زیادہ پسماندہ ہیں’۔مراد علی شاہ نے کہا کہ ‘ضلع غربی میں 8 کیسز آئے ہیں، وہ بھی ناردرن بائی پاس میں کچی بستی، افغان بستی اور بلدیہ کے علاقے میں آئے ہیں’۔کراچی میں سامنے آنے والے نئے کیسز کی تفصیلات بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘کورنگی میں 6، ضلع شرقی میں 16 کیسز اور ملیر میں 6 کیسز سمیت کراچی میں مجموعی طور پر 77 کیسز سامنے آئے ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘کراچی سے باہر سوائے تبلیغی جماعت کے لوگوں کے جو پچھلے 24 گھنٹوں میں ٹیسٹ کیے گئے کوئی کیس سامنے نہیں آیا’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘اب تک ہلاکتوں کی تعداد 47 ہوگئی جو 2 اعشاریہ ایک فیصد ہے اور ایک ہزار 589 مریض زیر علاج ہیں جن میں سے 872 افراد گھروں میں آئسولیشن میں ہیں’۔انہوں نے کہا کہ ‘469 آئسولیشن مراکز اور 248 ہسپتالوں میں موجود ہیں’۔
تبلیغی جماعت کے اراکین کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 4 ہزار 692 میں سے 4 ہزار 653 اراکین کے ٹیسٹ کیے گئے تھے نتائج کے مطابق 429 میں مثبت آیا ہے جبکہ 91 کا انتظار ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ تبلیغی جماعت کے جن اراکین میں وائرس مثبت آیا ہے ان کوآئسولیشن میں رکھا گیا ہے اس لیے پھیلنے کا کوئی خدشہ نہیں ہے۔کراچی کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘جہاں سے کیسز زیادہ رپورٹ ہو رہے ہیں ان علاقوں کو مکمل طور پر بند کیا جاسکتا ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘میں وائرس کے پھیلاؤ سے پریشان ہوں، آپس میں مکمل فاصلہ اور لوگوں سے آئسولیشن کیے بغیر وائرس کو محدود نہیں کرپائیں گے’۔وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ متاثرہ علاقوں سے ٹیسٹ کے لیے نمونے بھی بہت زیادہ لیے جارہے ہیں۔ویڈیو بیان میں وزیراعلیٰ سندھ نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی پیغام دیا اور کہا کہ سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان سے زیادہ بیرون ملک موجود پاکستانی کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔
