کراچی میں 17 سے 22 مئی تک ایک اور ہیٹ ویو کاخدشہ

محکمہ موسمیات نے کراچی میں آنے والے دنوں میں ایک اور ہیٹ ویو کا امکان ظاہر کردیا ہے۔
اس حوالے سے جمعہ کو محکمہ موسمیات کی جانب سے ہیٹ ویو الرٹ جاری کرتے ہوئے بتایا گیا کہ 17 سے 22 مئی سے کراچی میں ہیٹ ویو کی ایک اور لہر آنے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات نے مذکورہ نوٹیفکیشن کے ذریعے میئر کراچی، گورنر، سیکریٹری ایوی ایشن ڈویژن اور میڈیا کو آگاہ کیا۔
ادھر چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ دن کے اوقات میں شہر کا درجہ حرارت 40 سے 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک جاسکتا ہے۔اس الرٹ میں مزید بتایا گیا کہ ہوا کا رخ شام کے وقت میں شمال مغرب/ مغرب سے جنوب مشرق کی طرف ہوگا۔چیف میٹرولوجسٹ کا کہنا تھا کہ یہ درمیانے درجے کی ہیٹ ویو ہوگی۔
خیال رہے کہ کراچی میں سال 2020 کی پہلی ہیٹ ویو 5 سے 8 مئی کے دوران محسوس کی گئی تھی۔ یاد رہے کہ پاکستان میں 50 سال سے زائد عرصے کی بدترین ہیٹ ویو سال 2015 میں کراچی میں محسوس کی گئی تھی۔اسی سال 19 جون کو شہر قائد میں شدید گرمی کی لہر دیکھی گئی تھی جو 5 روز تک جاری رہی تھی جس کے نتیجے میں 1200 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 40 ہزار لوگ ہیٹ اسٹروک سے متاثر ہوئے تھے۔
واضح رہے کہ ان وجوہات کے باعث ہیٹ ویو ہوسکتا ہے اور متاثرہ شخص میں یہ علامات ہوسکتی ہیں۔جسم میں پانی کی کمی، گرم و خشک موسم ،گرم موسم میں سخت مشقت یا ورزش، دھوپ میں براہ راست بہت زیادہ گھومنا، گھر سے باہر کام یا آﺅٹ ڈور ورکنگ، غشی طاری ہونا، جسم سے پسینے کا اخراج رک جانا، دل کی دھڑکن بہت زیادہ بڑھ جانا، جلد سرخ، گرم اور خشک ہوجانا شامل ہیں. ماہرین صحت کے مطابق ہیٹ ویو سے متاثر ہونے پر سب سے پہلے تو ایمبولینس کو طلب کریں یا متاثرہ شخص کو خود ہسپتال لے جائیں (طبی امداد میں تاخیر جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے)، ایمبولینس کے انتظار کے دوران مریض کو کسی سایہ دار جگہ پر منتقل کردیں۔ مریض کو فرش پر لٹا دیں اور اسکے پیر کسی اونچی چیز پر رکھ دیں (تاکہ دل کی جانب خون کا بہاﺅ بڑھ جائے)۔مریض کے کپڑے تنگ ہوں تو ان کو ڈھیلا کردیں۔مریض کے جسم پر ٹھنڈی پٹیاں رکھیں یا ٹھنڈے پانی کا اسپرے کریں۔پیڈسٹل پنکھے کا رخ مریض کی جانب کردیں تاہم بجلی نہ ہو تو کسی بھی چیز سے خود مریض کو ہوا دیں۔اس سے ہٹ کر بھی گھر سے باہر نکلتے ہوئے پانی کی بوتل اپنے پاس رکھیں اور طبیعت بگڑنے پر فوری پانی کا استعمال کریں۔
یاد رہے کہ پاکستان میں 5 سال قبل 2015 میں 50 سال کی بدترین گرمی کی لہر آئی تھی، جس کے نتیجے میں کراچی میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button