کراچی: کیماڑی میں ’زہریلی گیس‘ سے 4 افراد جاں بحق

رواں سال کے آغاز میں کیماڑی کے علاقے میں پراسرار گیس کے اخراج سے ایک درجن سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے تھے جس کے بعد اب ایک مرتبہ پھر انتہائی گنجان آباد علاقے میں یہ خطرہ دوبارہ منڈلانے لگا ہے۔
علاقے کے اسپتال کا کہنا ہے ایک ہفتے سے بھی کم میں اسی علاقے سے 22 مریض انہیں علامات اور شکایات کے ساتھ آئے اور ان میں سے اب تک 4 انتقال کرچکے ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بنا جب ڈاکٹر ضیا الدین اسپتال نے باضابطہ طور پر جاری ایک بیان میں بگڑتی صورت حال سے خبردار کیا جس پر اب تک انتظامیہ توجہ دینے میں ناکام رہی ہے، یہاں تک کہ وہ گزشتہ اموات کے واقعے کی وجوہات تک جاننے میں ناکام رہی ہے اور بہت سے سوالات کا جواب نہیں دیا ہے۔ ایک بیان میں کہا گیا کہ منگل کی رات کو 2 لوگوں کو تشویشناک حالت میں اسپتال لایا گیا، جو دوران علاج چل بسے، اس کے علاوہ 11 دیگر مریضوں کو بھی اسپتال منتقل کیا گیا، جنہیں سانس لینے میں دشواری اور ہوا میں شدید بو محسوس ہورہی تھی۔ اسپتال کے بیان کے مطابق ان تمام افراد میں وہی علامات تھیں جو رواں سال فروری میں اس وقت کیماڑی میں دیکھی گئی تھیں جب متعدد لوگ سانس لینے میں دشواری سمیت مختلف شکایات کے باعث انتقال کرگئے تھے۔ کیماڑی میں پیش آئے پہلے واقعے پر الجھن ابھی تک برقرار ہے چونکہ وفاقی اور صوبائی حکام اس مہلک معاملے جو بظاہر دوبارہ اٹھ رہا ہے کی اصل وجوہات جاننے کے بجائے واقعے کےلیے ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
دوسری جانب کراچی یونیورسٹی کے انٹرنیشنل سینٹر برائے کیمیکل اینڈ بائیولاجیکل سائنسز (آئی سی سی بی ایس) کی رپورٹ میں یہ شبہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ’سویا بین ڈسٹ (ایروالرجنز)‘ شاید ان اموات کی وجہ بنی ہو تاہم اس دعویٰ کو دیگر ماہرین اور حکام نے خود سے مسترد کردیا تھا۔یہاں یہ بات مدنظر رہے کہ 19 دسمبر کو کراچی پورٹ ٹرسٹ نے ایک تصویر جاری کی تھی جس میں اس کے اعلیٰ حکام اس جہاز کا معائنہ کر رہے ہیں جو یہاں درآمدی سویا بین لایا ہے۔فروری میں کیماڑی میں گیس کی مبینہ اخراج کی وجہ سے 14 افراد کی موت جب کہ 250 سے زیادہ کی حالت خراب ہوئی تھی، اس واقعہ پر حکام کو تب آگاہ کیا گیا تھا جب کیماڑی کے علاقے کے رہائشی سانس لینے میں شدید دشواری پر قریبی اسپتالوں میں جانا شروع ہوئے تھے۔ تاہم لاشوں کو چونکہ کسی سرکاری اسپتال نہیں لے جایا گیا تھا تو اموات کی اصل وجوہات معلوم نہیں ہوسکی تھیں۔ ماہ فروری میں 150 سے زیادہ لوگ ڈاکٹر ضیا الدین اسپتال لائے گئے تھے، تاہم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بڑھتی سیاسی کشیدگی کے دوران یہ معمہ حل نہیں ہوا۔ تاہم ذرائع نے فروری کے واقعے اور اس کے نتائج کی تحقیقات کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’سندھ کی ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی (سیپا) کی جانب سے واقعے کی ابتدائی تحقیقات میں یہ معلوم ہوا تھا کہ رہائشی علاقوں میں خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کا ذخیرہ کرنے والے ٹرمینل سے زہریلی گیس کا اخراج ہوا تھا‘۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ پھر آئی سی سی بی ایس کی اس رپورٹ پر آئے تھے جس میں سویا بین ڈسٹ (ایروالرجنز) کو اموات کے واقعہ کی وجہ قرار دیا گیا تھا لیکن ماہرین اور حکام نے اسے بھی مسترد کردیا تھا، انہوں نے سوال اٹھایا تھا کہ اگر سویا بین ڈسٹ اموات اور بیمار ہونے کی وجہ ہے تو کیوں اس نے بندرگاہ پر مال اتارتے والے 369 ورکرز اور جہاز کے عملے کو متاثر نہیں کیا؟ ذرائع کا کہنا تھا کہ ماضی میں دیکھائی جانے والی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے آپ کو اس معمہ کے مستقبل کی قسمت کا اندازہ ہوسکتا ہے۔
