کراچی: گلشن حدید میں کریکر حملہ، خاتون سمیت 7 افراد زخمی

کراچی کے علاقےگلشن حدید میں جشن آزادی اسٹال کے قریب کریکر حملے میں خاتون سمیت 7 افراد زخمی ہوگئے۔
گلشن حدید فیز ون مدنی مارکیٹ کے قریب جشن آزادی کے ایک اسٹال کے قریب نامعلوم بائیک سوار ملزمان کریکر بم پھینک کر فرار ہوگئے جو زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔کریکر دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی اور دھماکے کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ کریکر دھماکے کے نتیجے میں خاتون سمیت 7 افراد زخمی ہوگئے جنہیں ایدھی ایمبولینس کے ذریعے قریبی اسپتال بعد ازاں جناح منتقل کردیا گیا۔کریکر حملے کی اطلاع ملنے پر پولیس اور رینجرز حکام بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے اور فوری طور پر بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کرلیا گیا۔ کریکر حملے میں زخمی ہونے والے افراد کی شناخت 23 سالہ اسد اللہ ولد نور محمد، 20 سالہ عبدالقادر ولد ہدایت اللہ، 28 سالہ حسن ولد جہانزیب، 30 سالہ عروسہ دختر جہانزیب، 28 سالہ افضل ولد فضل اور 18 سالہ عامر جنید علی اور دانش کے نام سے ہوئی۔
ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر نے بتایا کہ کریکر حملہ کرنے والے ملزمان کی تعداد 2 تھی اور حملے میں ملک دشمن عناصر ملوث ہیں، پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھا کرکے واقعے کی تفتیش شروع کردی ہے۔دریں اثنا بم ڈسپوزل یونٹ نے حملے کی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی جس کے مطابق حملے میں روسی ساختہ آر جی ڈی ون کریکر بم استعمال کیا گیا، کریکر بم کا وزن ڈھائی سو گرام تھا جس میں بارود کا وزن 65 گرام تھا۔بم ڈسپوزل حکام کا کہنا ہے کہ جائے وقوع سے کریکر کے ٹکڑے، لیور اور پن ملی ہے جسے تحویل میں لینے کے بعد متعلقہ تھانے کی پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ کریکر حملہ گزشتہ دنوں ہونے والے کریکر حملوں سے مماثلت رکھتا ہےاور حملوں میں اسی طرز کا کریکر بم استعمال کیا گیا۔
گلشن حدید تھانے کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) اعظم بلوچ نے کہا کہ کریکر حملہ گلشن حدید کے فیز ون میں واقع مکی مدنی مارکیٹ میں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ حملے میں 7 افراد زخمی ہوئے، جبکہ حملے سے متعلق مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔
واضح رہے کہ 5 اگست کو کراچی میں یونیورسٹی روڈ پر بیت المکرم مسجد کے قریب جماعت اسلامی کی کشمیر ریلی میں دستی بم حملے میں لگ بھگ 40 افراد زخمی ہوگئے تھے۔ترجمان جماعت اسلامی نے کہا کہ ریلی کے مخالف سمت کے روڈ پر مرکزی ٹرک کے قریب دھماکا ہوا۔سینئر سپرنٹندنٹ پولیس (ایس ایس پی) شرقی ساجد سدوزئی کا کہنا تھا کہ ریلی میں 2 نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے آر جی ڈی ون گرینیڈ پھینکا اور فرار ہوگئے، جبکہ یہ پلانٹڈ بم دھماکا نہیں تھا۔اسی روز کورنگی کے علاقے میں کریکر حملے کے دوسرے واقعے میں 3 افراد زخمی ہوگئے تھے۔پولیس نے کہا کہ نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے کورنگی کے علاقے میں ناصر پمپ کے قریب ایک اسٹیٹ ایجنسی پر دیسی ساختہ دستی بم پھینکا اور فرار ہوگئے۔
8 جولائی کو شہر قائد کے علاقے سچل میں نامعلوم ملزمان کے دستی بم حملے میں رینجرز کے سابق افسر جاں بحق ہوئے تھے۔پولیس اور ریسکیو عہدیداران کے مطابق بیکری کے مالک مبینہ طور پر دہشت گردی کے واقعے میں جاں بحق ہوئے۔ضلع شرقی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ساجد عامر سدوزئی نے کہا کہ نامعلوم ملزمان نے بلال شاہ گوٹھ میں واقع بیکری میں دستی بم پھینکا۔خیال رہے کہ کراچی میں گزشتہ چند ماہ سے ایک بار پھر فائرنگ اور دستی بم حملوں کے واقعات پیش آرہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button