کرتار پور سے گورداسپور تک کی کہانی ہے کیا؟

صرف 11 ماہ کی قلیل مدت میں اپنی تعمیر مکمل ہونے کے بعد کرتار پور گردوارہ دنیا کا سب سے بڑا گردوارہ بن گیا ہے جس میں بارہ دری، لائبریری، میوزیم، مہمان خانہ اور لنگر خانہ بھی شامل ہے۔
اتفاق سے دنیا کا سب سے بڑا مرکز قادیان یا احمدیہ سینٹر بھی کرتارپور سے صرف چند کلو میٹر دور بھارت کےعلاقے گورداسپور میں واقع ہے جہاں جماعت احمدیہ کے بانی مرزا غلام احمد کی پیدائش ہوئی تھی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق کرتارپور میں تعمیر ہونے والے گوردروارہ دربار صاحب کی تعمیر 11 ماہ میں مکمل کی گئی اور 4 ایکڑ کے گوردوارے کو 42 ایکڑ تک وسیع کردیا گیا ہے جب کہ گوردوارے کے گرد 800 ایکڑ اراضی دربار صاحب کے لیے مختص ہے، اس کے علاوہ گوردوارے سے محلقہ 26 ایکڑ پر باغات اور36 ایکڑ پر فصلیں اگائی جارہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہےکہ دربار صاحب دنیا کا سب سے بڑا گوردوارہ بن گیا ہے جس میں بارہ دری، لائبریری، میوزیم، مہمان خانہ اور لنگر خانہ بھی شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق کرتارپور ٹرمینل پر بھارتی سکھ یاتریوں کی بائیومیٹرک تصدیق کی جائے گی اور کرتار پور کے راستے آنے والے یاتریوں سے 20 ڈالر فی کس سروس چارجز لیے جائیں گے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ کرتار پور راہداری کے راستے یومیہ 5 ہزار یاتری دربار صاحب آسکیں گے، یاتری صبح آکر شام کو واپس جائیں گے جب کہ ویزہ لے کر واہگہ ائیرپورٹ سے آنے والے یاتری زیادہ دن قیام کرسکیں گے۔
یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے کرتارپورراہداری منصوبے کا سنگ بنیاد 28 نومبر 2018ء کو رکھا تھا، تقریباً ایک سال میں دربار صاحب سے پاک بھارت سرحد تک ساڑھے چار کلو میٹر لمبی سڑک اور دریائے راوی پر پلُ کی تعمیر مکمل کی جاچکی ہے۔ وزیراعظم عمران خان بابا گرو نانک کے 550 ویں جنم دن کے موقع پر 9 نومبر کو کرتارپور راہداری کا افتتاح کریں گے۔ کرتارپور گوردوارہ ضلع نارووال کی تحصیل شکر گڑھ میں واقع ہے جو بھارتی سرحد سے کچھ دوری پر ہے، گوردوارہ دربار صاحب 1539 میں قائم کیا گیا۔
لاہور سے تقریباً 120 کلومیٹر کی مسافت پر ضلع نارووال میں دریائے راوی کے کنارے ایک بستی ہے جسے کرتارپور کہا جاتا ہے۔ نارووال شکر گڑھ روڈ سے کچے راستے پر اتریں تو گوردوارہ کرتار پور کا سفید گنبد نظر آنے لگتا ہے، یہ گوردوارہ مہاراجہ پٹیالہ بھوپندر سنگھ بہادر نے 1921 سے 1929 کے درمیان تعمیر کروایا تھا۔ بابا گرونانک نے وفات سے قبل 18 برس اس جگہ قیام کیا اور گرونانک کا انتقال بھی کرتارپور میں اسی جگہ پر ہوا۔ گرو نانک مہاراج نے اپنی زندگی کے آخری ایام یہیں بسر کیے اور اُن کی سمادھی اور قبر بھی یہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ کرتارپور سکھوں کے لیے مقدس مقام ہے۔
دوسری طرف جماعت احمدیہ کی سب سے بڑی عبادت گاہ یا مرکز شادیاں بھی کرتار پور سے تقریبا چالیس کلومیٹر دور بھارت کے ضلع گورداس پور میں واقع ہے جہاں سکھ یاتریوں کی طرح قادیانی حضرات ہر سال لاکھوں کی تعداد میں جاتے ہیں۔
