کرغزستان کے معاملے پر انکوائری کمیٹی بنانے کا اعلان

وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کرغزستان میں طلبہ پر ہونے والے پر تشدد حملوں پر فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کمیٹی بنانے کا اعلان کردیا،
نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ ہمیں بتایا گیا تھا کہ 3 پاکستانی طلبہ اسپتال میں زیر علاج ہیں اور دیگر کو پہلے ہی ڈسچارج کردیا گیا، جب میں نے اسپتال کا دورہ کیا تو وہاں صرف ایک پاکستانی موجود تھا، اسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ 3 زخمیوں میں سے مزید 2 کو ڈسچارج کردیا گیا ہے اور وہاں موجود شاہ زیب کا جبڑا ٹوٹا ہوا تھا جو وہاں ایک ٹیکسٹائل مل میں کام کرتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جب میں شاہ زیب سے ملا تو وہ پریشان تھا اور اس نے بتایا کہ وہ اٹک کا رہائشی ہے اور میرے والدین اس وقت بہت پریشان ہیں جو چاہتے ہیں کہ میں فوری طور پر وطن واپس آجاؤں۔ وزیر خارجہ نے بتایا کہ میں نے اپنے ساتھ موجود کرغز ڈپٹی وزیر اعظم سے پوچھا کہ میڈیکل عملے سے بات کرکے بتائیں کہ یہ بچہ اس حالت میں سفر کرسکتا ہے؟، اس کا باقی علاج پاکستان میں کیا جائے گا، جس پر شاہ زیب کو اجازت مل گئی اور میں نے پاکستانی سفیر کو ہدایت دی کہ انہیں فوراً لے جانے کے انتظامات کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ کرغز ہم مںصب سے ملاقات کے دوران انہوں نے بتایا کہ اس واقعہ سے کچھ دن پہلے مقامی اور ہاسٹل طلبہ کے درمیان ایک جھگڑا ہوا تھا جس میں بھارتی، بنگلادیشی اور عرب طلبہ بھی شامل تھے، تاہم میں یقین دہانی کرواتا ہوں کہ اب حالات نارمل ہوگئے ہیں۔ کرغز نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے صدر نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اس طرح کے واقعات کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، یہ طلبہ اور ورکرز ہمارے مہمان ہیں اور ہم نے واقعے میں ملوث ملزمان کا تعین کرکے انہیں گرفتار بھی کرلیا ہے۔
ناب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے بتایا کہ حکومت کرغزستان واقعے پر انکوائری فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنارہی ہے، اور آج ہی انکوائری کمیٹی کا نوٹی فکیشن جاری کردیا جائے گا۔
