کرنٹ سے نوجوان کی ہلاکت؛ کے الیکڑک کے سی ای او کیخلاف مقدمہ درج

کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 7 میں کرنٹ لگنے سے نوجوان کی ہلاکت کا مقدمہ کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) سمیت 4 افراد کے خلاف درج کرلیا گیا۔
جاں بحق ہونے والے 19 سالہ فیضان کے چچا محمد فیاض کی شکایت پر ڈیفنس پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی۔ایف آئی آر کے مطابق فیضان تصویر بنا رہا کہ اس دوران کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگیا۔ایف آئی آر کے مطابق فیاض نے بتایا کہ متوفی فیضان خیبرپختونخوا کے ضلع مانسہرہ کا رہائشی تھا 10 اگست کو بذریعہ روڈ کراچی پہنچا تھا اور قیوم آباد سے متصل علاقے میں اپنے انکل کی رہائش گاہ پر رات گزاری۔انہوں نے بتایا کہ 11 اگست کی صبح فیضان گھر کے بچوں کے ہمراہ چہل قدمی کے لیے نکلا تو کسی نے اطلاع دی کہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی فیز 7 ایکسٹینشن میں واقع کے الیکٹرک کے سب اسٹیشن میں کرنٹ کی وجہ سے فیضان جاں بحق ہوگیا۔متوفی کے انکل نے بتایا کہ جب وہ وہاں پہنچے تو ایک رکشہ ڈرائیور نے بتایا کہ فیضان کی لاش سب اسٹیشن کے پاس تھی اور جب فیضان کو پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) منتقل کیا گیا تو ڈاکٹروں نےموت کی تصدیق کردی۔ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ نوجوان کی موت کے الیکٹرک کے سی ای او مونس الہیٰ، ڈسٹری بیوشن کے سربراہ عامر ضیا، سینئر سیکیورٹی افسر ڈیفنس آئی بی سی فہیم اور اسسٹنٹ منیجر ڈیفنس اویس کی ‘لاپرواہی اور احتیاطی تدابیر سے متعلق غفلت’ کی وجہ ہوئی ہے۔ایف آئی آر میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 322 اور 34 شامل کی گئی ہیں۔
خیال رہے مذکورہ پیش رفت ایسے وقت پر سامنے آئی جب چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے کراچی میں لوڈشیڈنگ اور کرنٹ لگنے سے لوگوں کی ہلاکتوں پر کے الیکٹرک پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ شہر میں کرنٹ لگنے سے جتنی بھی ہلاکتیں ہوئی ہیں، سب کے مقدمے میں سی ای او کے الیکٹرک کا نام شامل کیا جائے اور ان کا نام ای سی ایل میں بھی ڈالا جائے جبکہ کے الیکٹرک کا تفصیلی آڈٹ کروایا جائے۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں بینچ نے شہر قائد میں لوڈشیڈنگ، کرنٹ لگنے سے لوگوں کی اموات سمیت دیگر اہم معاملات پر سماعت کی، جہاں چیئرمین نیپرا اور کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی سمیت دیگر حکام پیش ہوئے تھے۔دوران سماعت شہر قائد میں کرنٹ لگنے سے ہونے والی ہلاکتوں کے معاملے پر عدالت نے کہا تھا کہ جتنی بھی ہلاکتیں ہوئیں سب کے مقدمے میں سی ای او کے الیکٹرک کا نام شامل کیا جائے۔
کراچی میں بارش کے دوران پچھلے ڈیڑھ مہینے میں کرنٹ لگنے سے کم از کم 20 افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔گزشتہ ماہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کرنٹ سے ہونے والی ہلاکتوں کا ‘سنجیدہ نوٹس’ لیا تھا اور عوام کو اس سلسلے میں ثبوت پیش کرنے کی دعوت دی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button