کرونا بحران کے باوجود گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ

کرونا وائرس کی وجہ سے ملکی معیشت گراوٹ کا شکار ہے جبکہ عوام کی قوت خرید ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہوتی نظر آ رہی ہے۔ دوسری طرف نئی گاڑیوں کی طلب اور فروخت میں کمی کے باوجود خریداروں کو متوجہ کرنے اور حاضر سٹاک کے خاتمے کیلئے پاکستان میں گاڑیاں تیارکرنے والی کمپنی ٹویوٹا نے اپنی گاڑیوں کی قیمتیں پانچ لاکھ روپے تک بڑھا دی ہیں جبکہ ہونڈا اور سوزوکی نے بھی اپنی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہ دے دیا ہے، ملک میں جاری معاشی بحران اور طلب میں کمی کے دوران منصوبہ بندی کے تحت کارساز کمپنیوں کی طرف سے گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے کو حیران کن اور مضحکہ خیزقرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں گاڑیوں کے تین بڑے برانڈز میں سے ٹویوٹا نے اندرون ملک تیار ہونے والی اپنی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا ہے جبکہ سوزوکی اور ہنڈا نے بھی آئندہ چند روز میں ایسا قدم اٹھانے کا عندیہ دے دیا ہے۔ ٹویوٹا نے جن گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے ان تین قسم کی کاروں کے علاوہ بڑی گاڑیاں بھی شامل ہیں۔ ملک بھر میں ٹویوٹا کے ڈیلرز کو بھیجی گئی نئی ریٹ لسٹ کے مطابق فی گاڑی کی قیمت میں ایک لاکھ 20 ہزار سے پانچ لاکھ روپے تک کا اضافہ ہوا ہے۔
یاد رہے کہ اس وقت پاکستان میں کرونا کی وجہ سے معاشی بحران ہے اورمہلک وبا کے باعث دنیا بھر کی طرح یہاں بھی معاشی اور کاروباری سرگرمیاں تقریباً بند ہیں۔ ملک میں اس مہلک وبا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے مارچ میں آخری دنوں میں شروع ہونے والا لاک ڈاؤن تاحال جاری ہے، جس کی وجہ سے گاڑیاں بنانے والے کارخانوں سمیت تقریبا تمام صنعتیں بند پڑی ہیں۔ ایسی صورت حال میں گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان لوگوں کے لیے حیران کن بلکہ مضحکہ خیز ہے۔
گاڑیوں کا کاروبار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ مارچ سے کراچی بند ہے تو ہم بھی بند ہیں۔ اس دوران کوئی کاروبار نہیں ہوا۔ ایسے میں کاروں کی قیمتوں میں اضافہ سمجھ نہیں آیا۔کار دیلرز کا کہنا ہے کہ جو گاڑیاں پہلے سے بُک ہیں وہ ان کے پاس کھڑی ہیں اور وہ بھی خریدار لے کر جانے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھا رہے۔ دوسری طرف پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن پاما کے ایگزیکٹیو ممبر جہانزیب خان کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی بیشی کا تعلق حکومتی ٹیکسوں اور غیر ملکی کرنسی کے ریٹ کے اتار چڑھاؤ سے ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی قریب میں کوئی نیا ٹیکس تو نہیں لگایا گیا لیکن ڈالر کی قیمت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ‘ایسے میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ٹویوٹا گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ ڈالر کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔انہوں نے گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کی دوسری ممکنہ وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ کمپنیاں صنعت بند ہونے کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کا بھی حساب کتاب رکھتی ہیں اور حالیہ اضافے کی یہ ایک وجہ بھی ہو سکتی ہے۔
گذشتہ 35 سال سے آٹوموبیلز انڈسٹری سے وابستہ افراد کا ایسی معاشی بدحالی میں گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے کہنا ہے کہ دراصل یہ اضافہ صرف کاغذوں پر کیا گیا ہے۔ اس کا اطلاق صرف نئی بننے والی گاڑیوں پر ہو گا، جو آئندہ کچھ مہینوں تک ممکن نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جو گاڑیاں شو رومز میں موجود ہیں وہ پرانی قیمتوں پر ہی دستیاب ہیں۔ اس لیے اس وقت گاڑی کے خریداروں کو اضافی قیمت ادا نہیں کرنا پڑے گی۔عبدالمجید نے مزید کہا کہ ایسی صورت حال میں قیمتوں کا اضافہ ایک کاروباری چال ہو سکتی ہے، جس کا مقصد ممکنہ خریداروں کو گاڑیاں خریدنے کا لالچ دینا ہے۔اپنی بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا: جو لوگ گاڑی خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور موجودہ صورت حال کے باعث ایسا کرنے سے گریز کر رہے ہیں تو قیمتوں میں اضافہ انہیں اس خریداری پر مجبور کر سکتا ہے۔ان کے خیال میں کار ساز کمپنیاں ایسا اپنا موجود سٹاک نکالنے کے لیے کر رہی ہیں۔
واضح رہے کہ کرونا وبا کی وجہ سے گاڑیوں کی فروخت میں کمی آئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2019 کے دسمبر میں گاڑیوں کی فروخت میں 38 فیصد کمی واقع ہوئی۔اسی طرح گذشتہ سال کے آخری مہینے میں 10 ہزار گاڑیاں کم فروخت ہوئیں جبکہ دسمبر 2018 میں فروخت ہونے والی گاڑیوں کی تعداد 16 ہزار سے زیادہ تھی۔اسی طرح 2018 میں مجموعی طور پر ایک لاکھ سے زیادہ گاڑیاں فروخت ہوئیں جبکہ گذشتہ سال گاڑیوں کی فروخت محض انسٹھ ہزار رہی۔گاڑیوں کی خریدو فروخت میں کمی کی بڑی وجہ ان کی قیمتوں میں اضافہ بتایا جاتا ہے جو 2019 کے دوران حکومتی ٹیکسز کی وجہ سے کارساز کمپنیوں کو کرنا پڑا تھا۔ قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے گاڑیوں کی خریدو فروخت میں گذشتہ کئی مہینوں سے کمی کے باوجود دام میں اضافے کا مقصد ممکنہ خریداروں کو لالچ دینا ہی لگتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button