کرونا رمضان نشریات پر کیسے اثر انداز ہوگا؟

کرونا وائرس کے باعث پیمرا نے رمضان کی خصوصی نشریات کے حوالے سے جو ہدایات جاری کی ہیں ان کے مطابق نہ صرف حاضرین کے اسٹوڈیو میں آنے پر پابندی ہوگی بلکہ مہمانوں کی موجودگی بھی محدود کر دی گئی ہے جس سے رمضان نشریات کے پھیکا پڑ جانے کا امکان ہے خصوصا ایک ایسے وقت میں کہ جب بڑی تعداد میں پاکستانی اس موذی وبا کی وجہ سے گھروں میں وقت گزار رہے ہیں اور بوریت سے ہلکان ہیں۔
پرائیویٹ چینلز کے لانچ ہونے سے پہلے ایک ہی چینل ہوتا تھا اور وہ بھی سرکاری۔ عوام کو جو دیکھنے کو مل گیا انہوں نے وہی دیکھ لیا، پھر وہ دور آیا جب پرائیویٹ چینلز آنا ہونا شروع ہوئے، اس کے ساتھ ہی کمرشل ازم کے سائے بھی گہرے ہونے لگے، ٹی وی اسکرین پر نظر آنے والی ہر شے کمرشلائزڈ ہوگئی، کچھ یہی حال رمضان نشریات کا ہوا، پہلے کبھی اس طرح باقاعدہ رمضان نشریات نہیں ہوا کرتی تھیں۔ تاہم نعت، قوالی اور کوکنگ شو ہوا کرتے تھا۔ لیکن پرائیویٹ چینلز آہستہ آہستہ رمضان نشریات کا کینوس، سیٹ اور سیگمنٹس بڑھاتے چلے گئے، رمضان نشریات روحانیت اور انٹرٹینمنٹ کا امتزاج بن گئیں، گیم شو کے بغیر یہ نشریات ادھوری سمجھی جاتیں اور اسٹوڈیو میں حاضرین کی براہ راست موجودگی لازمی جز تصور کی جانے لگی۔
تاہم اب کرونا وائرس کے باعث پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یا پیمرا نے رمضان نشریات کے حوالے سے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں جن کے مطابق نہ صرف حاضرین کے اسٹوڈیو میں آنے پر پابندی ہوگی بلکہ مہمانوں کی موجودگی بھی محدود کر دی گئی ہے جس سے رمضان نشریات سے وابستہ افراد کی ساری منصوبہ بندی دھری کی دھری رہ گئی ہے۔
اس حوالے سے جیو نیوز پر رمضان نشریات کی میزبان اور معروف نیوز اینکررابعہ انعم کہتی ہیں کہ ’حاضرین کو اسٹوڈیو تک پہنچنے کے لیے کئی مراحل سے گزرنا پڑتا تھا۔ دو بجے شروع ہونے والی نشریات کےلیے میزبان کو 12 بجے دفتر پہنچنا ہوتا تھا جب کہ حاضرین صبح 10 بجے سے قطار میں لگے ہوتے تھے۔ کراچی میں گزشتہ دو سال رمضان میں ہیٹ ویو کے باوجود لوگ پورا دن گرمی برداشت کرتے اور ان نشریات کا حصہ بنتے۔ انہوں نے کہا کہ حاضرین کا اسٹوڈیو میں نہ لانے کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں تھا کیوںکہ لوگ بڑی رمضان نشریات کا حصہ بننے کےلیے لائنوں میں لگ کر بچوں اور بزرگوں کے ساتھ آتے ہیں اور کئی چینلز پر بدانتظامی بھی ہو جاتی ہے۔ لوگوں کو ٹی وی پر آنے اور انعامات جیتنے کا شوق ہوتا ہے اس لیے ضروری تھا کہ موجودہ حالات میں جبکہ کرونا حملہ آور ہو چکاہے، حاضرین کو اسٹوڈیو سے دور رکھا جاتا۔
اداکار اور میزبان فہد مصطفیٰ اے آر وائے ڈیجیٹل پر رمضان میں نشریات کے علاوہ گیم شو بھی کرتے ہیں۔ ان کے شو کے دوران بھی سینکڑوں لوگ سیٹ پر موجود ہوتے ہیں اور ہر طرح کا ہلہ گلہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس دفعہ رمضان شو تو کر رہے ہیں لیکن اس میں عوام نہیں ہوں گے کیوںکہ وہ اپنی ٹیم اور باقی لوگوں کی جانوں کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔ پروگرام کا نیا فارمیٹ کیا ہوگا اس کا فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے۔ اے ٹی وی پر طویل عرصے تک مارننگ شو کی میزبان فرح سعدیہ ان دنوں پبلک ٹی وی پر رمضان نشریات کرنے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں وہ کہتی ہیں کہ ’یہ فیصلہ بہت پہلے ہوجانا چاہئیے تھا۔ رمضان نشریات کا مقصد اسٹوڈیو میں بیٹھے افراد کو مخاطب کرنا نہیں بلکہ بڑی تعداد میں ناظرین تک اپنا پیغام پہنچانا ہوتا ہے۔ رمضان نشریات کے نام پر گیم شو نشر کرنے کی وجہ سے حاضرین کو بلایا جاتا تھا اس وجہ سے نشریات کی اصل روح متاثر ہوتی تھی ۔ لیکن ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی پبلک کو بلاتے رہے کیوں کہ یہ پبلک ڈیمانڈ بھی تھی۔
اب نئی صورت حال میں رمضان نشریات کیسی ہوں گی؟ ریٹنگ پر کیا اثر پڑے گا؟ اور چینلز کی توقع کے مطابق اشتہارات اور اسپانسرز مل سکیں گے یا نہیں؟ اس سوال کے جواب میں جیو نیوز سے وابستہ ارشد جیلانی کہتے ہیں کہ اگرچہ یہ وقت کی ضرورت ہے لیکن اس سے ریٹنگ پر تو فرق پڑے گا۔ رمضان نشریات کا فارمیٹ تبدیل ہونے سے اداروں کی کمزور مالی حیثیت میں بہتری آنے کے امکانات بھی کم ہوگئے ہیں۔ ان کے مطابق اداروں نے کرونا کے پیش نظر رمضان نشریات کےلیے سیٹ وغیرہ بنانے کے حوالے سے منصوبہ بندی روک دی تھی اس لیے اس مد میں تو انہیں کوئی نقصان نہیں ہوا۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ کئی سیگمنٹ نہیں ہوں گے اور نشریات کا دورانیہ کم کرنا پڑے گا اور ان سیگمنٹس کے اسپانسرز بھی دستیاب نہیں ہوسکیں گے۔ ان کا کہنا ہے اسکرین پر روزہ کشائی کرتے بچے اور انعامات جیتنے کےلیے تگ و دو کرتی خواتین کے مقابلے بھی نہیں ہوں گے۔ کسی لاچار و ضرورت مند کی مدد کےلیے پیسے اکٹھے کرنے کی مہم بھی نہیں چلے گی۔ ایسی صورت حال میں عوامی دلچسپی برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ جس کا اثر ریٹنگ پر بھی پڑے گا۔
اینکر رابعہ انعم کے مطابق صرف حاضرین کو بلانے پر ہی پابندی نہیں ہے بلکہ جو مختلف سیگمنٹس اور کوئز پروگرام کیے جاتے تھے ان کے شرکاء کو سیٹ پر لانے کےلیے پابندی ہے۔ ہمارے چینل کے پاس اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ان لوگوں کو ٹی وی پر دکھانا تقریباً ناممکن ہے۔ یعنی آپ سیٹ پر رونق نہیں دکھا سکتے نہ ہی بڑا سیٹ ہوگا۔ ایک وقت میں ایک میزبان اور ایک مہمان ہی سیٹ پر موجود ہوگا۔ نتیجتاً یہی محسوس ہوتا ہے کہ اب کی بار نشریات مختصراور پھیکی ہوں گی۔ جب نشریات مختصر ہوں گی تو پھر کمپنیاں اور برانڈز اشتہارات کی مد میں پیسہ بھی نہیں لگائیں گی جس سے نقصان تو ٹی وی چینلز کو ہی اٹھانا ہوگا جو موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پہلے ہی تباہی اور بدحالی کا شکار ہو چکے ہیں۔
