کرونا سے تمام کاروبار ٹھپ، ماسک اورحفاظتی لباس کا بزنس کامیاب

مہلک کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد لاک ڈاؤن کے نتیجے میں جہاں پاکستان میں تمام کاروبار ٹھپ ہو گئے ہیں، وہیں اس مہلک وائرس سے بچاؤ کے لئے حفاظتی ماسک، پروٹیکٹو کٹس، گلوز اور دیگرسازوسامان بنانے کا بزنس چمک اٹھا ہے اور یہ تمام چیزیں ہاتھوں ہاتھ بک رہی ہیں۔
تاہم ان آئٹمز کی ڈیمانڈ اور سپلائی میں بڑا گیپ ہونے کی وجہ سے مقامی سطح پر تیار کیا جانے والا حفاظتی سامان ناقص اور کسی حد تک ناقابل بھروسہ بھی ہے۔ پاکستان میں لاک ڈاون جاری ہے اور بظاہر کاروباری سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں مگر ایسے میں ایک کاروبار ایسا ہے جس نے نئی جہتیں تلاش کر لی ہیں اور وہ ہے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے سازو سامان کی تیاری اور ملک کے طول و عرض میں اس کی ترسیل۔ کئی لوگوں نے تو اپنے چھوٹے موٹے بزنس ٹھپ ہونے کے بعد گھروں میں درزی بٹھا کر یہ کام شروع کر دیا ہے۔
اس کاروبار سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں کرونا کے بچاؤ کے لیے استعمال ہونے والی اشیا کی اتنی ڈیمانڈ ہے کہ چوبیس گھنٹے کام ہو رہا ہے لیکن پھر بھی آرڈر پورے نہیں ہو رہے۔ ایک مقامی وینڈر کے مطابق سب سے زیادہ جس چیز کی ڈیمانڈ آرہی ہے وہ ہے ہر طرح کا ماسک اور ڈاکٹروں کے پہننے والی پروٹیکٹو کٹس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد اور سیالکوٹ کے کچھ چھوٹے کارخانیں جو پہلے شاپنگ بیگ یا اس سے ملتی جلتی پراڈکٹ بناتے تھے اب وہ ماسک اور کٹس بنا رہے ہیں چونکہ اس معیار کی مشینری نہیں ہے اس لیے سست روی سے کام ہو رہا ہے اور جو بھی چیز بنتی ہے وہ ہاتھوں ہاتھ بک جاتی ہے۔
مختلف سرکاری ہسپتالوں میں حفظان صحت سے متعلق پراڈکٹس سپلائی کرنے والے طارق حسین نے بتایا کہ اس وقت ایمرجنسی صورت حال ہے اور حفاظتی سامان کی خرید و فروخت اپنے عروج پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کا ایک کارگو طیارہ ایئرپورٹ پر لینڈ ہونے کے بعد جس نے بھی کرونا سے متعلق حفاظتی سامان درآمد کیا ہوتا ہے، وہ ایئرپورٹ سے ہی اس کی تصاویر اور ویڈیوز مختلف گروپس میں ڈال دیتا ہے اور اگلے گھنٹے تک وہ سامان بک بھی چکا ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ کاروباری افراد جو کسی نہ کسی طرح سے میڈیکل سپلائی لائن سے وابستہ تھے ان کا ایک نیٹ ورک ہے جو سرکاری و غیر سرکاری ہسپتالوں سے لے کر میڈیکل سٹورز تک پھیلا ہوا ہے۔ ہر وقت وٹس ایپ پر کسی نا کسی پراڈکٹ کی تصویر یا ویڈیو آرہی ہوتی ہے اور آپ نے اسی وقت خریدنے کے لیے ہاں یا نہ میں جواب دینا ہوتا ہے۔
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی یہ ٹرینڈ دیکھنے میں آیا ہے کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کا سازوسامان کئی گنا مہنگا ہو چکا ہے۔ اس حوالے سے طارق حسین کا مذید کہنا ہے چونکہ سپلائی چین میں بہت سے لوگ شامل ہو چکے ہیں اور ہر کوئی اپنا منافع سائیڈ پر کر لیتا ہے اس لیے یہ چیزیں مہنگی فروخت ہورہی ہیں۔ ایک پروٹیکٹو کٹ یا حفاظتی لباس سیالکوٹ سے 200 روپے میں تیار ہو کر نکلتا ہے اور اس میں دو سے تین بروکر شامل ہونے کے بعد یہ 450 سے 500 روپے میں فروخت ہو رہی ہے اور یہ سارا کام کیش پر ہو رہا ہے۔
شعبہ طب اور فارمیسی سے متعلقہ ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد حفاظتی سامان کی دھڑا دھڑ خرید کو دیکھتے ہوئے بعض افراد نے پرانے بزنس چھوڑ کر ماسک اور پروٹیکٹو کٹس بنانا شروع کر دی ہیں جو کہ انتہائی غیرمعیاری ہیں۔ اس حوالے سے فارمسسٹ نورمحمد مہر کا کہنا ہے کہ سال 2015 میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے ایس آر او 204 جاری کیا تھا۔ یہ قانون بنیادی طور پر حفاظتی لباس سے متعلق ہے جس میں اس میٹیریل کا سٹیرلائز ہونا بڑا ضروری ہے جس سے ڈاکٹروں کے حفاظتی لباس بنائے جا رہے ہیں۔نور مہر کا کہنا ہے کہ اب تو ہر چیز بغیر کسی پیمانے کے بنائی جا رہی ہے، ہوزری کا کام کرنے والوں نے دھڑا دھڑ کپڑے کے ماسک بنانا شروع کر دیے ہیں۔ آپ کو ہر سڑک پر بکتے نظر آئیں گے حالانکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق کپڑے کا ماسک کسی بھی وائرس سے بچاؤ میں صفر حد تک معاون ہے۔ اسی طرح جو سرجیکل ماسک یا دستانے بنائے جا رہے ہیں وہ جس میٹیریل کے بنتے ہیں اس کا معیاری اور سائز کا درست ہونا بہت ضروری ہے۔
