کرونا سے متاثرہ پاکستانی زائرین کی ایران سے واپسی جاری

اس حقیقت کے باوجود کے پاکستان میں کرونا وائرس بنیادی طور پر ایران سے واپس آنے والے پاکستانی زائرین کے ذریعے پہنچا، تفتان کے بارڈر اور ملک کے مختلف ایئرپورٹس سے زائرین کی بڑی تعداد کی پاکستان میں انٹری کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق کرونا کی وبا پھیلنے کے بعد سے ایران سے 20 ہزار کے قریب پاکستانی زائرین ملک میں داخل ہو چکے ہیں۔ 30 مارچ تک کوئٹہ ایئرپورٹ سے 12 ہزار 938 افراد، تربت ایئرپورٹ سے 174، تربت پوائنٹ سے 218، گوادر پوائنٹ سے 131، تفتان بارڈر سے 6 ہزار 428 افراد پاکستان میں داخل ہو چکے ہیں۔
ایران میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد فروری میں بلوچستان حکومت نے ایران سے متصل سرحد کو تفتان کے مقام پر بند کرتے ہوئے آمد ورفت معطل کردی۔ تاہم بعد ازاں سیاسی دباؤ کی وجہ سے تفتان بارڈر پاکستانی زائرین کیلئے کھولنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ایران سے آنے والے زائرین سمیت دیگر افراد کو سرحد پر ہی قرنطینہ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن صوبائی حکومت تفتان میں ناقص انتظامات اور مقیم افراد کی طرف سے جاری کردہ ویڈیوز کے بعد مسلسل تنقید کی زد میں ہے کہ وہ کرونا وائرس کو روکنے میں ناکام ہوچکی ہے اور تفتان بارڈر پر قرنطینہ کے ناقص انتظامات کی وجہ سے کرونا وائرس پورے ملک میں پھیل گیا ہے۔ تاہم صوبائی حکومت حقائق سامنے آنے کے باوجود حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے، حکام کے مطابق انھوں نے ایران سے آنے والے زائرین کے حوالے سے وفاقی حکومت کی طرف سے وضع کردہ ایس او پیز پر عملدرآمد کیا اور صرف سکریننگ پر اکتفا کیا۔
اعدادوشمار کے مطابق فروری سے تفتان بارڈر کے ذریعے ایران سے پاکستان میں داخل ہونے والے زائرین کی تعداد 6080 سے زائد ہے 6080 افراد میں سے 4596 کو اپنے اپنے صوبوں میں واقعہ قرنطینہ سینٹرز میں بھیجا جا چکا ہے جبکہ 1484 افراد ابھی تک تفتان قرنطینہ مرکزمیں مقیم ہیں۔ اس کے علاوہ 14 ہزار کے قریب زائرین پاکستان کے مختلف ایئرپورٹ پر اترے ہیں۔
بلوچستان کے وزیر داخلہ ضیا اللہ لانگو کے مطابق صوبائی حکومت نے وبا کے سامنے آتے ہی وفاقی حکومت سے رابطہ کیا تھا کہ ایرانی حکام کو آگاہ کیا جائے کہ وہ پاکستانی زائرین کو سکریننگ کے بغیر پاکستان واپس نہ بھیجیں۔ تاہم ایرانی حکام نے بغیر سکریننگ پاکستانیوں کو ملک واپس بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھا اور ہزاروں زائرین کی واپسی کی صورت میں ان کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا سوائے اس کے کہ پاکستانی زائرین کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت دے کر انہیں تفتان میں قرنطینہ میں رکھا جائے۔ بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے زائرین کو قرنطینہ میں رکھنے اور مکمل ریکارڈ کے ساتھ باقی صوبائی حکومتوں کے حوالے کرنے کی اپنی ذمہ داری کو بخوبی نبھایا ہے۔ تاہم ہم سچ یہ ہے کہ حکومت نے یہ ذمہ داری ٹھیک طرح ادا نہیں کی جس وجہ سے کرونا وائرس پورے ملک میں پھیل چکا ہے۔
دوسری جانب ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ ایران سےواپس آنے والے پاکستانی زائرین کوحکمت عملی کے مطابق تفتان قرنطینہ میں رکھا گیا اور قرنطینہ میں رکھی جانے والی اپنی مدت پوری کرنے کے بعد انہیں مخصوص سفری حفاظت کے ساتھ متعلقہ صوبوں میں پہنچایا گیا۔’ تاہم انھوں نے اعتراف کیا کہ پاکستان میں سامنے آنے والے کرونا کیسز میں سے 78فیصد سے زائد کیسز کی ٹریول ہسٹری ایران کی تھی یعنی پاکستان میں 78 فیصدر کرونا وائرس ایران سے آنے والے زائرین کی وجہ سے پھیلا۔
بلوچستان حکومت کے ایک سینئیر عہدیدار کے مطابق ایران اور افغانستان کے بارڈرز 16 مارچ سے بند تھے اور دونوں ممالک کو اس حوالے سے اطلاع کر دی گئی تھی لیکن اس کے باوجود ایران سے زائرین کی آمد جاری رہی ۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے رکاوٹ بننے والے کسٹم حکام کو تفتان بارڈر سے تبدیل کر دیا گیا تاکہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے باوجو ایران سے زائرین کی وطن واپسی کا سلسلہ جاری رکھا جا سکے۔
یاد رہے ایران سے زائرین کی واپسی کے حوالے سے حزب اختلاف کی جماعتوں اور صحافیوں کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے مشیر برائے بیرون ملک پاکستانیوں زلفی بخاری پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے اپنا ‘اثرورسوخ’ استعمال کرتے ہوئے زائرین کو پاکستان میں داخلے کی اجازت دلوائی تھی۔ تاہم زلفی بخاری ایسے تمام الزامت کی تردید کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ میرا تفتان کے معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اس حوالے سے میں کوئی اختیار رکھتا ہوں۔’ ان کے مطابق ان پر لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں۔ حکومت کے اعداد وشمار کے مطابق مقدس مقامات کی زیارت کے لیے چھ ہزار زائرین بلوچستان کے راستے ایران گئے تھے۔ سب سے زیادہ زائرین زیارت کے لیے ایران کے شہر قم گئے تھے جہاں سے کرونا وائرس پھیلا ہے اسی وجہ سے ایران سے آنے والے اکثر زائرین کرونا کا شکار نکلے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے، جہاں سے پاکستان میں رہنے والے شیعہ مسلمان ایران میں مذہبی مقامات کی زیارت کے لیے جاتے ہیں۔ گذشتہ ہفتوں میں ایران سے واپس آنے والے زائرین کے بلوچستان میں تفتان کے مقام پر قیام کے دوران قرنطینہ انتظامات میں بدنظمی اور ٹیسٹنگ نہ ہونے کی وجہ سے تفتان کرونا وائرس کیسز کا مرکز بن چکا ہے۔ ایران میں کرونا کیسز کے سامنے آنے کے بعد پاکستان نے ایران سے ملحقہ سرحد کو 16 مارچ کو بند کر دیا تھا تاہم ابھی تک تفتان بارڈر سے زائرین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button