کرونا سے مرنے والا پہلا ریٹائرڈ فوجی ایک تبلیغی نکلا

خیبر پختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد میں کرونا وائرس کے باعث انتقال کرنے والے میجرریٹائرڈ محمد الیاس تبلیغی جماعت کے ایک متحرک کارکن تھے اور آج کل بیرون ملک سے آئے ہوئے ایک تبلیغی مشن کے ساتھ مختلف مساجد کے دورے کررہے تھے۔ ان کا انتقال 29 مارچ کو ہوا جس کے بعد انکی نمازہ جنازہ محکمہ صحت کے بنائے گئے پروٹوکول کے مطابق ادا کر دی گئی۔ نماز جنازہ کے وقت ان کی میت کا تابوت آرمی ایمبولینس میں موجود رہا جبکہ نماز جنازہ پڑھنے والے اس سے 20 فٹ کی دوری پر کھڑے تھے۔ نماز جنازہ کے بعد خصوصی یونیفارم میں ملبوس چار افراد نے ان کی میت کو قبر میں اتارا اور تدفین کردی۔
محکمہ صحت کے مطابق 78 سالہ میجر ریٹائرڈ الیاس بیرون ملک سے آئی ہوئی تبلیغی جماعت کے ساتھ گذشتہ 15 دنوں سے مختلف مساجد کے دورے کر رہے تھے اور اسی دوران وہ کرونا وائرس کا شکار ہوئے۔ اس سے پہلے انہوں نے لاہور میں 11 سے 15 مارچ تک ہونے والے سالانہ تبلیغی اجتماع میں بھی شرکت کی تھی۔
اب محکمہ صحت اس بات کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ آیا یہ وائرس بیرون ملک سے آنے والے تبلیغی جماعت کے اراکین میں موجود تھا یا رائے ونڈ اجتماع میں۔ محکمہ صحت نے میجر الیاس کے ساتھ ایبٹ آباد کی مختلف مساجد میں جا کر تبلیغ کرنے والے گروہ کے تمام افراد کے کرونا ٹیسٹ کروانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ لاہور کے تبلیغی اجتماع میں شرکت کرنے والے کراچی کے دو لوگ 30 مارچ کو کرونا وائرس کا شکار ہوکر کر موت کی وادی میں اتر گئے تھے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں یہ کرونا وائرس کے نتیجے میں فوج سے وابستہ افراد میں پہلی ہلاکت سمجھی جا رہی ہے۔ ایبٹ آباد کے ضلعی ہیلتھ آفیسر فیصل خانزادہ نے میجر ریٹائرڈ الیاس کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ’78 سالہ میجر ریٹائرڈ الیاس پہلے سے ہی شوگر سمیت مختلف بیماریوں کا شکار تھے اس لیے کرونا کا حملہ برداشت نہ کر پائے اور خالق حقیقی سے جا ملے۔
میجر ریٹائرڈ الیاس کے بھتیجے سردار مجتبیٰ نے بتایا کہ وہ بیماری کے باعث کئی دنوں سے ہسپتال میں زیرعلاج تھے اور ان میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ میجرریٹائرڈ الیاس کے ایک پرانے ساتھی کرنل ریٹائرڈ سردار شبیر احمد نے بتایا کہ الیاس 38 بلوچ رجمنٹ میں ان کے یونٹ آفیسر رہے ہیں جبکہ وہ 1971 کی جنگ میں جنگی قیدی بھی رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بعد میں انہوں نے ملیر کینٹ میں یونٹ جوائن کی اور وہاں فرائض انجام دئیے جبکہ وہ 56 بلوچ رجمنٹ میں بھی رہے ہیں۔
سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی سردار یعقوب کے صاحبزادے کرنل ریٹائرڈ سردار شبیر احمد نے مزید بتایا کہ میجر ریٹائرڈ الیاس انتہائی نفیس اور دین کی طرف مائل انسان تھے جبکہ سروس کے زمانے سے دعوت تبلیغ کے ساتھ وابستہ تھے۔ انہوں نے بتایا: ‘جب 1991 میں وہ ریٹائرڈ ہوگئے تو انہوں نے اپنے آپ کو مکمل طور پر تبلیغ کے لیے وقف کردیا۔ ان کا ٹھکانہ لاہوررائیونڈ ہی ہوتا تھا اور وہاں سے تبلیغ کا کام کرتے تھے۔ میری زندگی کو بہتر بنانے میں بھی میجر الیاس نے بہت اہم کردار کیا تھا۔’ محکمہ صحت کے مطابق میجر ریٹائرڈ محمد الیاس بیرون ملک سے آئی ہوئی تبلیغی جماعت کے ساتھ گذشتہ15 دنوں سے مختلف مساجد میں تبلیغ کے سلسلے میں دورے کرتے رہے ہیں۔ ان میں کرونا وائرس کی تصدیق کے بعد بیرون ملک سے آئے ہوئے تبلیغی جماعت کے دیگر دس مرد اراکین اور پانچ خواتین کو نجی ہوٹل منتقل کرکے ان کے کرونا وائرس ٹیسٹ کے نمونے لے لیے گئے ہیں اورانہیں لیبارٹری بھجوا دیا گیا ہے۔
