کرونا سے مرنے والوں کی سرکاری تعداد مشکوک ہو گئی

کراچی کے ہسپتالوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران مرنے والے لوگوں کی تعداد میں ہوشربا اضافے اور ڈاکٹروں کی طرف سے ان افراد کے کرونا وائرس سے متاثر ہونے کے اندیشے نے ملک میں اس وبا کی وجہ سے ہونے والی اموات کےاعداد و شمار کو مشکوک بنا دیا ہے اور اب اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ کرونا سے ہونے والی اموات حکومتی اعدادوشمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں لاک ڈاؤن کے باعث اسٹریٹ کرائمز اور ٹریفک حادثات میں نمایاں کمی کے باوجود کراچی کے ہسپتالوں خصوصاً جناح ہسپتال میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران مرنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ روزانہ 15 سے 20 افراد کو مردہ حالت میں لایا جارہا ہے یا پھر وہ ہسپتال پہنچ کر دم توڑ جاتے ہیں۔ گزشتہ دو ہفتوں میں کراچی کے مختلف ہسپتالوں میں 400 سے زائد افراد مردہ یا نازک حالت میں منتقل کئے گئے ہیں۔ مرنے والے ان تمام لوگوں کو ایدھی فاؤنڈیشن نے سپرد خاک کیا۔ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر شہر قائد میں ہونے والی ان پراسرار اموات پر ڈاکٹرز اور عملے میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی شہر میں نامعلوم وجوہات کے سبب بڑھتی ہوئی اموات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کر چکے ہیں کہ یہ افراد کرونا وائرس کے مریض ہو سکتے ہیں۔ اسی بنیاد پر مراد علی شاہ نے 15 اپریل کو ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ صوبے میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات معلوم تعداد سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہیں۔
تاہم دوسری طرف کراچی میں ہلاکتوں میں غیر معمولی اضافے کے بارے میں ڈاکٹر رتھ فاؤ سول ہسپتال کے ٹراما سینٹر کے سابق ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عامر رضا کہتے ہیں کہ کراچی میں کرونا کے علاوہ شہر میں جاری لاک ڈاؤن کی وجہ سے بھی اموات کی شرح میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ڈاکٹر عامر رضا کے مطابق لاک ڈاؤن کی وجہ سے نجی ہسپتالوں یا محلوں کے کلینکس بھی بیماروں کو نہیں دیکھ رہے، اس لیے جب لوگ بہت زیادہ بیمار ہو رہے ہوں تو وہ سول ہسپتال، جناح ہسپتال اور عباسی شہید جیسے سرکاری ہسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں، جہاں ممکنہ طور پر وہ پہلے سے ہی خراب حالت کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہوں۔انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں موت کے منہ میں جانے والے ہر شخص کو کرونا سے جوڑنا درست عمل نہیں۔
دوسری طرف ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے کراچی میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ہونے والی اموات میں غیر معمولی اضافے کے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ انہوں نے یکم اپریل سے 13 اپریل تک کراچی کے مختلف علاقوں اور ہسپتالوں سے کم از کم 387 لاشیں مختلف قبرستانوں میں تدفین کے لیے منتقل کیں جبکہ گزشتہ سال اس ہی عرصے کے دوران یہ تعداد 230 تھی۔ فیصل ایدھی کے مطابق اس سال بہت مختصر وقت میں اموات میں 60 سے 70 فیصد اضافہ ہوا ہے، زیادہ تر اموات بڑی عمر کے افراد کی ہوئیں، جو متعدد بیماریوں کا شکار تھے۔ ذرائع کے مطابق شہر قائد میں 15 مارچ سے 13 اپریل تک 759 اموات ہوئیں، ایدھی ہومز میں 15 مارچ سے 31 مارچ تک 371 میتوں کو غسل دیا گیا جن میں 249 مرد اور 121 خواتین شامل تھیں۔ مرحومین کے لواحقین کا کہنا ہے کہ اکثر افراد طویل عرصے کسی نہ کسی عارضے میں مبتلا تھے لواحقین کے مطابق اکثر افراد کا انتقال دل کادورہ یا فالج کے اٹیک سے ہوا، کینسر، جگر اور گردے کی بیماریاں بھی انتقال کی وجہ بنیں، ذرائع کے مطابق 15 سے 31 مارچ تک غسل دی گئی میتوں میں اکثر کی عمر 50 سال سے زائد تھیں، انتقال کرجانے والوں میں سے 358 افراد کی عمر 41 سے 88 سال کے درمیان تھیں۔جبکہ میتوں میں اکثر کی عمر 50 سال سے زیادہ تھی۔ تاہم دوسری طرف طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جان کی بازی ہارنے والے افراد کے پراپر ٹیسٹ نہ ہونے کی وجہ سے موت کے منہ میں جانے والے افراد کی موت کی اصل وجہ کے حوالے سے تصدیق ممکن نہیں لیکن ان افراد کے کرونا کی وجہ سے موت کا شکار ہونا بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔
