کرونا سے چھپے گھروں میں بند عوام قید سے تنگ آ گئے

کرونا وائرس کے جان لیوا وار سے بچنے کے لیے گھروں میں چھپے ہوئے لوگ اب گھر بیٹھ بیٹھ کر بھی تنگ آ چکے ہیں۔
کرونا وائرس نے عوام کے رہن سہن اور معمولات زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ دوستوں، رشتہ داروں اور فیملی کے ہمراہ ہوٹلنگ کے دلدادہ افراد لاک ڈاؤن کی وجہ سے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ لاک ڈاؤن کا یہ دور خاص طور پر سوشلائزنگ کے شوقین ان افراد کے لیے زیادہ دشوار ثابت ہو رہا ہے جو اپنے معمول کے مطابق باہر جاتے تھے اور اپنے دوستوں، کولیگز اور کلاس فیلوز سے روزانہ ملنا اور گپ شپ کرنا ان کا معمول تھا جبکہ گھریلو خواتین بھی اتنے لمبے عرصے تک گھروں میں قید رہنے سے اکتا چکی ہیں اور سوال کرتی نظر آتی ہیں کہ یہ قید کب ختم ہو گی؟
لاک ڈاؤن کے دوران گھروں میں محصور افراد میں کوئی دوستوں کی گپ شپ کو مس کر رہا ہے، کسی کو کسی کزن کے لطیفوں کی یاد آ رہی ہے،کسی کو اپنے بہن بھائیوں کی یاد آ رہی ہے اور کوئی اپنے والدین سے ملنے کیلئے بے تاب ہے۔ کوئی من پسند مشروبات کو یاد کر رہا ہے اور کوئی برگر، پیزا، باربی کو سمیت اپنے پسندیدہ کھانوں کو مس کر رہا ہے غرضیکہ کرونا کی وجہ سے گھروں میں قید افراد کسی نہ کسی چیز کو مس کرتے نظر آتے ہیں۔ جہاں مرد حضرات کا گھروں میں مسلسل قیام مشکل ہو چکا ہے وہیں گھریلو خواتین کے لیے بھی اتنا طویل عرصہ گھر میں رہنا آسان نہیں ہے۔
صالحہ بیگم ایک ہاوس وائف اور تین بچوں کی ماں ہیں۔ آخری بار وہ پندرہ مارچ کو ایک ولیمے میں شرکت کے لیے گھر سے نکلی تھیں۔ اس کے بعد اب تک ان کا سارا وقت گھر پر ہی گزرتا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ ‘یاد نہیں پڑتا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا طویل عرصہ گھر سے باہر نہ نکلی ہوں۔ کہیں نہ کہیں تو جانا پڑ ہی جاتا ہے۔ اب اگرچہ بچے اور شوہر سب گھر پر ہیں۔ کسی چیز کی کمی بھی نہیں لیکن گھر سے باہر جانے کا دل کرتا ہے۔ اب تو دل کرتا ہے کہ کسی کھلی جگہ پر جا کر کئی گھنٹے سکون سمیٹا جائے۔ وہ لاک ڈاؤن سے پہلے کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ‘بچوں کو سکول بھیج کر جو سکون کا ناشتہ کرتی تھیں اب وہ ممکن نہیں ہو پا رہا جس کو میں شدت سے مس کر رہی ہوں۔
زیادہ تر گھروں میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے نہ کوئہ ملازم ہے اور نہ کوئی ملازمہ ۔ اب لوگوں کو یہ احساس شدت سے ہو رہا ہے کہ ان غریب لوگوں کا ہماری زندگی میں کتنا اہم کردار ہوتا ہے۔ کئی گھریلو خواتین تو اب اکیلے گھر کے کام کر کرکے تھک چکی ہیں اور اپنے شوہروں کو کام پر لگا رہی ہیں۔ ان خواتین نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا ہے کہ کاش کرونا عید سے پہلے ہماری جان چھوڑ دے۔کرونا لاک ڈاون کے دوران نوکری پیشہ خواتین کی اور بھی سختی ہے۔ انھیں گھر اور دفتر دونوں کا کام کرنا پڑتا ہے۔
لیکن صرف خواتین ہی گھروں تک محدود نہیں ہیں بلکہ مرد بالخصوص نوجوانوں کی بڑی تعداد بھی اپنے گھروں یا محلے تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ ان نوجوانوں کی بڑی تعداد یونیورسٹی کے طلبہ کی ہے جن میں سے کچھ ہاسٹل میں رہتے تھے لیکن کرونا کے باعث اب وہ یونیورسٹی اور ہاسٹل دونوں سے دور ہیں۔ ایسے ہی ایک نوجوان مہتاب احمد ہیں جو گذشتہ چھ سال سے لاہور میں قیام پذیر ہیں۔ آج کل ایک یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں۔ ہاسٹل بند ہوا تو گاؤں چلے گئے۔ کہتے ہیں کہ ‘پچھلے چھ برسوں میں پہلی بار ہے کہ تیس دن سے لاہور نہیں دیکھا۔ موقعہ ملتے ہی سب سے پہلے لاہور کے درشن کرنے جاؤں گا اور دوست تو رابطے میں ہیں لیکن صحبت یاراں کی بحالی کا انتظار ہے۔ ایک اور طالب علم رضوان علی کا کہنا ہے کہ ’ایک ماہ ہوگیا ہے گاؤں سے ہی باہر نہیں گیا۔ لاک ڈاؤن ختم ہو گا تو لاہور کے کھابوں کی یاد ستا رہی ہے دوستوں کے ساتھ وہیں جاؤں گا۔مانا کہ لاک ڈاؤن کے دوران گھروں میں قید ہو کر رہنا اگرچہ انتہائی مشکل کام ہے لیکن اپنی اور اپنے پیاروں کی صحت اور جان کو کسی قسم کا نقصان پہنچانے سے بچنے کیلئے گھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دینی چاہیے۔
