کرونا لاک ڈاون کے باعث آن لائن شاپنگ ٹرینڈ زوروں پر

کرونا لاک ڈاون کی وجہ سے حالیہ دنوں پاکستان میں آن لائن شاپنگ کا رجحان اس قدر بڑھ گیا ہے کہ عید سیزن میں 25 فیصد کے قریب خریداری روایتی بازاروں اور مارکیٹوں کی بجائے آن لائن ہو رہی ہے۔
کرونا وائرس نے ملک میں آن لائن کاروبار کے لیے حالات زیادہ سازگار بنا دیے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس سال
کرونا کے پھیلاؤ کی وجہ سے لاک ڈاون، بازاروں کی بندش اور آن لائن شاپنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کے حوالے سے تاجر تنظیموں کا مؤقف ہے کہ موجودہ صورتحال میں آن لائن شاپنگ ایک مجبوری بن چکی ہے اور پاکستان میں اب آن لائن کاروبار ایک بہتر شکل میں ابھر رہا ہے۔ اس برس عید کی بیس سے پچیس فیصد خریداری آف لائن سے آن لائن پر چلی گئی یے۔
کرونا وائرس کے باعث ملک گیر لاک ڈاؤن کی وجہ سے روایتی بازار اور دکانیں گزشتہ پانچ ہفتوں سے بند ہیں جس کے باعث ملک میں آن لائن شاپنگ کے رجحان میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور آن لائن کمپنیوں کے کاروبار میں تیزی آئی ہے۔ تاہم اس رجحان سے انفرادی سطح پر آن لائن کاروبار کرنے والوں کی بجائے بڑی کمپنیوں نے فائدہ اٹھایا جن کے پاس آرڈرز کی ڈیلیوری کے لیے مطلوبہ افرادی قوت موجود ہے۔ کرونا کی وجہ سے زیادہ تر مارکیٹیں بند ہونے کی وجہ سے ایک جانب آن لائن بزنس کرنے والی کمپنیوں کو کپڑوں، جوتوں اور دوسری اشیا کے آرڈر تواتر سے مل رہے ہیں تو دوسری جانب ماسک، ہینڈ سینیٹائزر کے ساتھ اشیائے ضرورت، پھلوں اور سبزیوں کے آرڈرز میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملا۔ کرونا وائرس کے بعد پاکستان میں آن لائن خریداری کی ایک بڑی کمپنی ’دراز‘ کو ملنے والے آرڈرز میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ فروری کے مقابلے مارچ میں کمپنی کو 36 فیصد زیادہ آرڈر وصول ہوئے جس کی وجہ سے اس کی فروخت میں پچاس فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔
لاک ڈاؤن میں آن لائن خریداری کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے کمپنیوں کو بعض اوقات ان آرڈرز کی تکمیل میں دشواری کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے اور کبھی کبھار تو انہیں آن لائن آرڈر وصول کرنا بند کرنا پڑتا ہے۔ دراز کمپنی کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق اپریل کے مہینے میں صرف گروسری کی آن لائن فروخت میں ستر فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پاکستان میں آن لائن کاروبار بیرونی دنیا کے مقابلے میں کافی دیر سے شروع ہوا تاہم گزشتہ چند برسوں میں اس میں اضافے کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستانی وزارت تجارت کے ای کامرس پالیسی فریم ورک کے مطابق ملک میں آن لائن کاروبار کا رجحان دنیا کے مقابلے میں ابھی نیا ہے جس میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔اقوام متحدہ کے تجارت اور ترقی کے ادارے کے مطابق دنیا میں آن لائن کاروبار کا حجم ساڑھے پچیس ٹریلین ڈالر سے زائد ہے اور دنیا کی ایک چوتھائی آبادی آن لائن شاپنگ کے ذرائع استعمال کرتی ہے۔اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق دنیا میں آن لائن کاروبار اور شاپنگ کے رجحان میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس میں کورونا وائرس کی وجہ سے سماجی دوری مزید اضافہ کرے گی۔اس کے مقابلے میں ملک میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق اس کا حجم سو ارب روپے ہے تاہم ملک میں آن لائن کاروبار کی گنجائش کے مقابلے میں یہ حجم بہت کم ہے۔ ملک میں رواں سال اس میں 30 فیصد کے قریب اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔
کراچی کے ایوان صنعت و تجارت کے ایک تحقیقی جائزے کے مطابق پاکستان میں سات کروڑ سے زائد افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں جن میں سے چھ کروڑ سے زائد تیز انٹرنیٹ سروس تھری جی اور فور جی استعمال کرتے ہیں۔تاہم ابھی بھی آن لائن خریداری اپنی گنجائش کے اعتبار سے پاکستان میں بہت کم ہے جس کی وجہ مالیاتی نظام میں ڈیجیٹل طریقوں کا کم استعمال اور آن لائن کاروباری ٹرانزیکشنز کے لیے ضروری خواندگی کی کمی ہے۔ اس سلسلے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں آن لائن کاروبار کے سو ارب روپے کے حجم سے زیادہ سودے ہوتے ہوں گے تاہم ڈیجیٹل ادائیگی کی بجائے لوگ ڈیلیوری پر نقد ادائیگی کر دیتے ہیں جو بینکنگ سسٹم میں شامل نہیں ہوتی۔
ایک حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ آن لائن کاروبار سے وابستہ افراد میں سے ستر سے پچھتر فیصد افراد نوجوان ہیں جس کہ وجہ ان کی آن لائن پر مارکیٹنگ کی مہارت کے ساتھ آن لائن اپیلی کیشنز کو چلانے کا ہنر ہے۔ یہ افراد زیادہ تر کپڑوں، موبائل فون سے جڑی مصنوعات، گھڑیوں، لینزز، جوتوں، کاسمیٹکس سمیت دوسری اشیا کے آن لائن کاروبار سے وابستہ ہیں۔ پاکستان کی وزارت تجارت کے پالسی فریم ورک کے مطابق ملک کی ساٹھ فیصد سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جن کے اندر ٹیکنالوجی کو اپنانے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔
