کرونا وائرس بارے سوشل میڈیا پرموجود اعدادوشمارغیر مصدقہ قرار

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کورونا وائرس کے حوالے سے حکومتی ہدایات پر سختی سے عمل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے ھوالے سے سوشل میڈیا پر غلط معلومات اور اعدادوشمار پھیلائے جا رہے ہیں جبکہ غیر متعلقہ افراد ماسک اور گاؤن سمیت دیگر حفاظتی اشیا کا بے جااستعمال کررہے ہیں جو درست نہیں.
وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا نے مشیر سلامتی امور ڈاکٹر معید یوسف کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ‘میڈیا میں مختلف آرا دی جاتی ہیں جو ضروری نہیں ہے کہ وہ مصدقہ سچ بھی ہو اور ساتھ ساتھ پیش گوئی بھی کی جارہی ہے اور اعداد وشمار گردش کررہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں پاکستان کے اندر کورونا وائرس کے کیسز کی تعدادکیا ہوگی، اموات کتنی ہوں گی اور کن علاقوں میں ہوں گی’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ پیش گوئی اندرون ملک اور بیرون ملک محققیقین کررہے ہیں لیکن مستقبل کے بارے میں دیے جانے والے اعداد وشمار تخمینے ہیں، ان کے پیچھے مختلف تصورات اور خیالات ہیں، ان کا درست ہونا یا نہ ہونا اس وقت غیریقینی بات ہے،ان تخمینوں کو حرف آخر مت سمجھیں’۔
انہوں نے کہا کہ ‘پاکستان میں حکومت اور ادارے صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے اور ان تخمینوں کا بھی جائزہ لے رہے ہیں اور خود بھی اس سلسلے میں منصوبہ بندی کررہے ہیں’۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ‘ہم نے اپنی تیاری اس حوالے سے کرنی ہے کہ پاکستان میں آنے والے دنوں میں جو ہماری ضروریات ہوں گی کیا ہم ان کو پورا کرنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارا ہدف صرف یہ ہے کہ پاکستانیوں کے لیے کورونا وائرس کے حوالے سے جو سہولتیں اور ڈاکٹروں سمیت مختلف طبقوں کی ضروریات کوپوری کرنی ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘ان تخمینوں پر کان نہ دھریں لیکن حکومت کی ہدایات پر عمل کریں اور دوسروں کو بھی ترغیب دیں’۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ‘پچھلے دنوں پاکستان کاایک مستند ادارہ پی ایس کیو سی اے نے پاکستان میں فروخت ہونے والے مختلف سنیٹائزرز کا تجزیہ کیا ہے اوراس کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ بہت بڑی تعداد میں سنیٹائزر کم معیار کے ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘لاہور میں تجزہ کیا گیا اور 22 نمونے حاصل کیے گئے جن میں 70 فیصد سے کم الکوحل تھا جس سے ان کو بنانے والوں کے اخلاق کے حوالے سے سوال اٹھتا ہے’۔معاون خصوصی نے کہا کہ ‘دوسری طرف حکومت کی ذمہ داریوں کا بھی احساس دلاتا ہے کہ ان کی مستقل نگرانی، جائزہ لینے اور ٹیسٹ کرنے کی ضرورت ہے’۔کورونا وائرس سے حفاظت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے مشاہدے میں آیا ہے کہ ہمارے ہیلتھ پروفیشنل اور ہیلتھ سے متعلق دیگر لوگ یا قرنطینہ کی سہولت سے متعلق لوگ ہیں ان کے ذاتی تحفظ مثلا ماسک، چشمے، گاؤن، گلوز کیپس کا استعمال مناسب طریقے سے نہیں کیا جارہا ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘وزیراعظم عمران خان متعدد مرتبہ اس بات پر زور دے کر کہہ چکے ہیں حکومت اور ان کے لیے ضروری ہے کہ ہیلتھ پروفیشنل کی حفاظت کے لیے جو چیزیھں ملنی چاہیے اور جو ان کو درکار ہیں وہ ملیں’۔
انہوں نے کہا کہ ‘اگرعام لوگ گاؤن اور این 95 ماسک پہننا شروع کریں جن اس کی قطعاً ضرورت نہیں ہے، تو پھر پاکستان میں ان ضروریات کو کبھی بھی پورا نہیں کیا جاسکتا ہے’۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ‘ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس سلسلے میں مناسب رویہ اپنائیں،حکومت کی ہدایات کو سمجھیں اورعمل کریں’۔طبی عملے کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘اس سلسلے میں خاص طور سینئر پروفیسرز کا انتہائی اہم فریضہ ہے کہ وہ اپنے ان ساتھیوں کے لیے جو کورونا وائرس کے مریضوں کی نگہداشت کی ذمہ داری ان کی تربیت بھی کریں اور معلومات بھی پہنچائیں’۔انہوں نے کہا کہ ‘اس سلسلے میں ہم آنے والے دنوں میں بڑا پروگرام شروع کرنے والے ہیں جس میں نہ صرف ذاتی تحفظ کی اشیا اپنے فرنٹ لائن عملے تک پہنچائیں بلکہ ان کے صحیح استعمال پر بھی بات چیت کریں گے’۔
