کرونا وائرس: چین میں مزید 23 اموات، اٹلی کے آرمی چیف بھی متاثر

چین میں کورونا وائرس کے باعث مزید 23 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جب کہ دنیا بھر میں موذی وائرس سے اموات کی تعداد 3 ہزار 800 سے تجاوز کر گئی ہے۔ جنوبی کوریا میں 69 اور چین میں 43 نئے کیسز سامنے آئے ہیں، وائرس دنیا کے 109 ممالک تک پھیل گیا ہے
چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 43 نئے کیسز سامنے آئے اور 23 ہلاکتیں ریکارڈ ہوئی ہیں۔ چین میں وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 3 ہزار 120 تک پہنچ گئی ہے جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 80 ہزار 738 تک پہنچ گئی ہے۔
اس کے علاوہ جنوبی کوریا میں بھی 3 مزید افراد کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد وہاں جان سے ہاتھ دھونے والے افراد کی تعداد 53 ہو گئی ہے۔
اٹلی میں گزشتہ روز 133 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد وہاں اموات کی تعداد 366 جب کہ ایران میں 193 افراد اب تک موذی وبا سے ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکا میں بھی کورونا وائرس کے 13 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جب کہ جنوبی کوریا میں 69 اور آسٹریلیا میں 10 کیسز سامنے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ بھارت، سعودی عرب، کینیڈا اور جارجیا میں بھی کورونا وائرس کے کیسز سامنے آئے ہیں۔
خیال رہے کہ کورونا وائرس گزشتہ برس دسمبر میں چین کے صوبے ہوبئی کے شہر ووہان میں منظر عام پر آیا تھا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے 109 ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
پاکستان میں بھی کورونا وائرس کے 5 مریض زیر علاج ہیں جب کہ ایک مریض کو صحتیاب ہونے کے بعد گھر روانہ کر دیا گیا ہے۔
دوسری طرف اٹلی میں کورونا وائرس کے باعث صورتحال خطرناک ہوتی جا رہی ہے، گزشتہ روز مہلک وائرس نے 133 افراد کی جان لے لی تھی۔ اب اطلاعتا یہ ہیں کہ اٹلی کے چیف آف آرمی اسٹاف سیلواتور فرینہ میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد انہیں قرنطینہ میں رکھ دیا گیا ہے۔
اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق آرمی چیف میں کورونا وائرس کی تشخیص ہونے کے بعد انہیں اس وقت تک قرنطینہ میں رکھا جائے گا جب تک وہ صحتیاب نہیں ہو جاتے۔ اٹلی کے آرمی چیف کو کورونا وائرس کی تشخیص ہونے کے بعد جنرل فیڈیریکو بوناٹو نے قائم مقام آرمی چیف کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔
واضح رہے کہ اٹلی میں کورونا وائرس سے خطرناک صورتحال پیدا ہوتی جا رہی ہے اور گزشتہ روز مہلک وائرس نے 133 افراد کی جان لے لی تھی۔ چین سے دنیا بھر میں پھیلنے والے کورونا وائرس نے یورپی ملک اٹلی میں خطرناک صورتحال پیدا کر دی ہے جہاں مہلک وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق اٹلی میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے 133 افراد ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد مجموعی تعداد 366 تک جاپہنچی ہے۔ حکام نے بتایا کہ 1492 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد متاثرہ مریضوں کی تعداد 7375 ہو گئی ہے۔ خطرناک صورتحال کے بعد اٹلی کی حکومت نے کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے شمالی اٹلی اور دیگر 14 صوبوں کو لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اٹلی کے وزیراعظم جوزپے کونٹے نے حکمنامے پر دستخط کیے ہیں۔ حکومت کے اِس اقدام سے تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ کی آبادی کو قرنطینہ میں رکھا جائے گا اور یہ قرنطینہ 3 اپریل تک رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ متاثرہ شہروں میں داخلے اور نکلنے پر پابندی ہوگی جس کی خلاف ورزی پر 3 ماہ قید کی سزا اور 206 یورو جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ حکومتی فیصلے سے میلان اور سیاحتی مقام وینس بھی متاثر ہوں گے۔
اٹلی کی حکومت نے اسکولز اور یونیورسٹیز پہلے ہی 15 مارچ تک بند کر رکھی ہیں تاہم اب عوامی اجتماعات، کھیل اور مذہبی تقریبات بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔
خیال رہے کہ چین میں کورونا وائرس سے اب تک 3 ہزار 98 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 80 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ چین کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالک میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 704 تک جاپہنچی ہے اور ہزاروں افراد مہلک وائرس سے متاثر ہیں۔
