کرونا وائرس کچھ ممالک میں زیادہ جان لیوا کیوں ہے؟

یوں تو کرونا وائرس پوری دنیا میں بلا تفریق رنگ و نسل ،امیر و غریب، حاکم و محکوم، حکمران و عوام، مذہب و ملت، مسلک و فرقہ پھیلا اور پھیلتا ہی جارہا ہے تاہم ایک حیران کن تفریق یہ سامنے آئی ہے کہ اس سے ایشیاء کے مقابلے میں یورپ اور امریکا میں زیادہ اموات ہوئی ہیںں۔ لہذا طبی ماہرین کےلیے یہ سوال معمہ بنا ہوا تھا کہ مختلف خطوں میں کرونا وائرس سے اموات کی شرح میں اتنا فرق کیوں ہے؟
چینی سائنسدانوں نے پہلی بار لیبارٹری شواہد کی بنا پر یہ پتہ لگایا ہے کہ کرونا وائرس کی کچھ اقسام دیگر کے مقابلے میں زیادہ جان لیوا ثابت ہوتی ہیں اور یہ کہ کرونا وائرس اپنے اندر جنیاتی تبدیلیاں لانے کی صلاحیت پیدا کرچکا ہے۔ تحقیق میں پہلی بار یہ شواہد بھی فراہم کیے گئے ہیں کہ اس وائرس کی اقسام کی شدت بھی مختلف ہوتی ہے۔ تحقیق میں وائرس میں جینیاتی تبدیلیوں کی تفتیش کےلیے غیرمعمولی طریقہ کار اپنایا گیا اور کووڈ 19 کے 12 مریضوں کے جسم کے نمونے حاصل کیے گئے اور دیکھا گیا کہ وہ انسانی خلیات کو متاثر کرنے اور مارنے میں کتنے موثر ہیں؟
محققین نے دریافت کیا کہ یورپ بھر کے بیشترمریضوں میں اس وائرس کی جان لیوا اقسام موجود ہیں جبکہ امریکا کے مختلف حصوں جیسے ریاست واشنگٹن میں اس کی معتدل شدت کا باعث بننے والی اقسام کو دریافت کیا گیا۔ مگر نیویارک میں اسی ٹیم کی ایک الگ تحقیق میں اس وائرس کی جو قسم دریافت ہوئی، وہ یورپ سے وہاں پہنچی تھی اور یہی وجہ ہے کہ وہاں شرح اموات بیشتر یورپی ممالک سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں۔ مگر محققین کے مطابق کمزور وائرس کی اقسام کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ایک کے لیے خطرہ کم ہوگیا، درحقیقت 30 اور 50 سال کی عمر کے 2 مریضوں میں وائرس کی کمزور قسم موجود تھی مگر وہ بہت زیادہ بیمار ہوگئے، اگرچہ وہ دونوں آخر میں بچ گئے، مگر زیادہ عمر والے مریض کو آئی سی یو میں داخل کرنا پڑا۔
اس تحقیق سے مختلف خطوں میں اموات کی شرح میں فرق پرروشی ڈالی گئی، کیونکہ ابھی ہر ملک میں اموات اور کیسز کی شرح مختلف ہے اور سائنسدانوں کی جانب سے مختلف وضاحتیں کی جاتی ہیں۔ جینیاتی سائنسدانوں نے پہلے شبہ ظاہر کیا تھا کہ وائرس کی مختلف اقسام اموات کی شرح میں اس فرق کا باعث بنتی ہیں مگر کوئی ثبوت نہیں ملا تھا۔ اس نئی تحقیق کے نتائج اس وبا کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں کیوں کہ جان بچنے کی شرح کا انحصار متعدد عناصر جیسے عمر، پہلے سے کوئی بیماری یا خون کے گروپ پر بھی ہوتا ہے۔ ہسپتالوں میں کووڈ 19 کے تمام مریضوں کا علاج ایک ہی بیماری سمجھ کر کیا جاتا ہے یعنی ایک جیسا علاج ہوتا ہے، مگر چینی سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ کسی خطے میں وائرس کی قسم کی وضاحت کی جانی چاہیے تاکہ اس کے مطابق علاج کیا جاسکے۔
اس تحقیق کا حجم چھوٹا تھا جس کا مطلب ہے کہ وائرس کی اقسام پر دیگر تحقیقی رپورٹس میں سینکڑوں یا ہزاروں اقسام بھی دریافت ہوسکتی ہیں۔اس تحقیق میں 30 سے زائد اقسام کو دریافت کیا گیا جن میں سے 19 اقسام بالکل نئی تھیں۔ تحقیق کے مطابق ان تبدیلیوں سے وائرس کے اسپائیک پروٹین یا وہ حصہ جو یہ وائرس کسی خلیے کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے، کے افعال میں تبدیلیاں آتی ہیں۔ اس خیال کو ثابت کرنے کے لیے تحقیقی ٹیم نے خلیات کو اس وائرس کی مختلف اقسام سے متاثر کیا اور معلوم ہوا کہ سب سے زیادہ جارحانہ اقسام کمزور اقسام کے مقابلے میں 270 گنا زیادہ وائرل لوڈ کا باعث بنتی ہیں جبکہ وہ خلیات کو بھی بہت تیزی سے مارتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button