کرونا وائرس کی تصدیق کے بعد میڈیکل اسٹورز سے ماسک غائب

ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں نے پاکستان میں کورونا وائرس کی سرکاری سطح پر تصدیق ہونے کے بعد حفاظتی ماسک غائب کردئیے۔ جب کہ بلیک مارکیٹ میں ماسک کا ایک ڈبہ 300 میں فروخت ہو رہا تھا جس کی قیمت اب ہزاروں روپے میں لی جا رہی ہے۔ زیادہ قیمت این 95 ماسک کی بڑھی ہے تاہم اس قیمت میں بھی مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہے۔
حکومت پاکستان نے چھ کمپنیوں کو ماسک چین برآمد کرنے کی اجازت دی ہے جو اب تک 36 لاکھ سے زائد ماسک چین بھیج چکے ہیں۔ تاہم ملک میں کرونا وائرس کی تصدیق کے بعد ماسک میڈیکل اسٹورز سے غائب ہو گئے ہیں۔
میڈیکل اسٹور مالکان کا کہنا ہے کہ عام ماسک کا ڈبہ پہلے 300 سے 400 روپے تک کا تھا جس کی قیمت اب ہزار روپے سے بھی بڑھ گئی ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ این 95 ماسک مہنگا ہو گیا ہے اور ماسک مہنگے ہونے کے باوجود بھی مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہے۔
حکومت پاکستان کی جانب سے ماسک کی برآمد پر پابندی کے باوجود چین کو 10 ہزار این 95 اور 36 لاکھ 13 ہزار عام ماسک برآمد کیے گئے۔ پابندی کے باوجود 6 کمپنیوں کو ماسک کی برآمد کی خصوصی اجازت دی گئی جس کے بعد ملک میں ماسک کی کمی ہو گئی ہے اور قیمتوں میں بھی کئی گنا اضافہ ہو گیا۔ حکام وزارت صحت کا اس حوالے سے مؤقف ہے کہ پاکستان میں ماسک کی مصنوعی قلت ذخیرہ اندوزوں نے کر رکھی ہے۔
دوسری جانب کسٹم حکام نے لاہور ائیر پورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے بیرون ملک جانے والے مسافر سے 43 کلو وزنی ماسک برآمد کر لیے۔ کسٹم حکام کے مطابق فیصل آباد کا مسافر ماسک تھیلوں میں بھر کر غیر ملکی پرواز سے بنکاک جا رہا تھا جس حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
واضح رہے ایک ہی دن میں پاکستان میں کرونا وائرس کے دو کیسز کی تصدیق ہوئی تھی۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام دیتے ہوئے معاون خصوصی برائے نیشنل ہیلتھ ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ ملک میں کرونا وائرس کے دو کیسز کی تصدیق کرتا ہوں، دونوں مریضوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں انکا علاج جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں مریضوں کی حالت خطرے سے باہر ہے اور حالات قابو میں ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ تمام ترحالات قابو میں ہیں، میں تافتان سے واپسی پر اس بارے میں ایک پریس کانفرنس کروں گا۔
خیال رہے کہ اس سے قبل کراچی میں کرونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آ گیا ہے۔ اس حوالے سے محکمہ صحت سندھ کا کہنا تھا کہ مریض کی شناخت 22 سالہ یحییٰ جعفری کے نام سے ہوئی ہے جس کو علاج کےلیے نجی اسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔
بتایا گیا تھا کہ یحییٰ جعفری ایران سے بس کے ذریعے پاکستان پہنچا تھا اور اس کے ساتھ اہل خانہ بھی موجود تھے جن کا بھی معائنہ کیا جا رہا ہے۔ اس حوالےسے ڈی جی ہیلتھ سندھ ڈاکٹر مبین کا کہنا تھا کہ مذکورہ مریض کو فوری طور پر آئسولیشن وارڈ میں منتقل کردیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button