’’کرونا وائرس کی نئی قسم نے خطرے کی گھنٹی بجا دی‘‘

کرونا وائرس کی نئی قسم انفلوئنزا نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، طبی ماہرین نے وائرس کو مہلک قرار دیا ہے جس پر عالمی ادارہ صحت نے انتباہ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو حفاظتی طور پر ویکسی نیشن کرانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق کوویڈ ۔19 بدستور ایک خطرہ ہے کیوںکہ دنیا بھر میں وائرس کی ایک قسم بتدریج گردش کر رہی ہے، WHO کی ایک ماہر ماریا وین کرکوو نے کہا کہ اس وقت SARS-CoV-2 وائرس ہر ملک میں گردش کر رہا ہے اور اس سے بدستور خطرہ لاحق ہے۔ماریہ وان کرکوو، 2019 میں شروع ہونے والی کرونا کی عالمی وبا کے دوران ڈبلیو ایچ ا و کی ٹیکنیکل ٹیم کی سر براہ تھیں اور ان دنوں وہ اقوام متحدہ کے ادارے کی ایپیڈیمک اور پینڈیمک کیلئے تیاری اور بچاؤ کے شعبے کی عبوری ڈائریکٹر ہیں۔انہوں نے ڈبلیو ایچ او کے سوشل میڈیا چینلز پر ایک ڈسکشن کے دوران کہا کہ ہمیں مسلسل ہوشیار رہنا چاہئے کیوںکہ وائرس گردش کر رہا ہے، نئی شکل اختیار کر رہا ہے اور تبدیل ہو رہا ہے، اس وقت کوویڈ۔ 19 کی تین اقسام قابل توجہ ہیں XBB.1.5, XXB.1.16 and EG.5جو یہ ہیں اور چھ اقسام کی مانیٹر ہو رہی ہیں جن کے بارے میں ابھی تشویش کی سطح نسبتأ کم ہےکرکو و نے کہا کہ ان چھ میں سے ایک قسم BA.2.86 پرتوجہ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اگرچہ ہمیں دوسری اقسام کی نسبت اس کی شدت میں زیادہ تبدیلی دکھائی نہیں دے رہی لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا بھر میں اس کی نشاندہی میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔اس نئی درجہ بندی سے ان کی نگرانی اور ریسرچ کے فروغ میں مدد ملے گی ۔ ڈبلیو ایچ او ایک وائرس ای جی ،5 کے خطرے کے بارے میں اپنے اندازے پر مبنی ایک نئی رپورٹ بھی شائع کر رہا ہے، اس وائرس کی شدت میں ڈبلیو ایچ او نے کوئی تبدیلی رجسٹرڈ نہیں کی لیکن یہ دنیا بھر میں پھیلنے والے وائرسوں کے تقریباً نصف پر مشتمل ہے۔ڈبلیو ایچ او نے جنوری 2020 میں کوویڈ کے بارے میں صحت عامہ کی بین الاقومی ہنگامی تشویش کا اعلان کیا تھا، جو اس عالمی ادارے کی جانب سے انتہائی درجے کا انتباہ تھا، ڈبلیو ایچ او کو شدید انفیکشن اور بیماری کے ساتھ ساتھ طویل دورانیے کے کوویڈ یا اور کوویڈ کے بعد پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے دیر پا اثرات کے بارے میں بھی تشویش ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اس بارے میں کوئی شواہد نہیں ہیں کہ آیا کوویڈ ۔19 کی ویکسین کوویڈ کے بعد کی پیچیدگیوں کے خطرے کو کم کر سکتی ہیں یا نہیں، دنیا بھر میں کوویڈ۔ 19 کی 13 ارب ویکسینز لگائی جا چکی ہیں۔
