کرونا وائرس کے بعد کی دنیا کیسی ہوگی؟

کرونا وائرس نے دنیا کو جنگی صورتحال سے دوچار کر تے ہوئے نظام زندگی کو مفلوج کر دیا ہے. تاہم اس وائرس پر قابو پانے کیلئے جہاں ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے ، وہیں لوگ یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ کرونا کے بعد کی دنیا کیسی ہوگی؟ یہ زیادہ محفوظ دنیا ہوگی یا زیادہ غیر محفوظ ہو گی؟
اس حوالے سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں کہ کیااس عالمی وبا سے نمٹنے میں ناکامی کا سامنا کرنیوالے امریکہ کا اثر و رسوخ ختم ہو جائے گا؟ اور دنیا میں نئی طاقتیں ابھریں گی اور کیا گلوبلائزیشن کا خاتمہ ہو جائے گا یا اس کی باگ ڈور چین کے ہاتھ میں آ جائے گی۔ کیا دنیا میں مزید ناکام ریاستیں جنم لیں گی اور جنگیں چھڑ جائیں گی؟
امریکی انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹیجک سڈیز کے ڈائریکٹر جنرل کوری شیک کا ماننا ہے کہ مستقبل قریب میں امریکہ اپنی حکومت کے تنگ نظر مفادات اور نااہلی کی وجہ سے دنیا کا لیڈر نہیں کہلائے گا۔ ان کے مطابق کرونا وبا کے اثرات کو بین الااقوامی غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے دنیا تک جلد معلومات پہنچا کر کم کیا جا سکتا تھا جس سے حکومتوں کو اس سے نمٹنے کے لیے تیاری کرنے کا وقت ملتا اور یہ امریکہ کر سکتا تھا لیکن اس نے ظاہر کیا کہ اسے صرف اپنے مفاد سے غرض ہے۔ جس سے یہ واضح ہے کہ امریکہ اس امتحان میں ناکام ہو گیا ہے۔
ہاورڈ یونیورسٹی میں بین الااقوامی تعلقات کے پروفیسر سٹیفن ایم والٹ کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس سے طاقت اور اثرو رسوخ کی مغرب سے مشرق منتقلی میں تیزی آئے گی۔ جنوبی کوریا اور سنگاپور نے اس سے بہترین طریقے سے نمٹنا ہے، چین نے ابتدائی طور پر کچھ غلطیاں کرنے کے بعد بہت اچھا ردعمل دیا ہے۔
ان کے مطابق امریکہ اور یورپ کا ردعمل سست اور افراتفری پر مبنی رہا ہے جس سے دنیا کے سامنے مغرب کا تاثر اچھا نہیں ابھرا۔
پروفیسر سٹیفن نے مزید لکھا ہے کہ مختصر یہ ہے کہ کووڈ 19 ایسی دنیا تخلیق کرے گا جو کم خوشحال، کم کھلی اور کم آزاد ہوگی۔ ایسا نہیں ہونا تھا لیکن مہلک وائرس، نامناسب منصوبہ بندی اور نااہل قیادت نے دنیا کو ایک نئے اور فکر انگیز راستے پر ڈال دیا ہے۔
دوسری جانب نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور کے ایشیا ریسرچ انسٹیٹوٹ کے فیلو کشور ماہببانی نے لکھا ہے کہ کورونا وائرس عالمی معاشی سمت کو تو نہیں بدلے گا لیکن وہ اس تبدیلی کو ضرور ہوا دے گا جس کا آغاز پہلے ہی ہو چکا ہے یعنی گلوبلائزیشن کی باگ ڈور امریکہ کے بجائے چین کے ہاتھ میں آجائے گی۔
بروکنگ انسٹیٹیوٹ کے سربراہ اور سابق امریکی فور سٹار جنرل جون ایلین نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کے طاقت کے نظام میں میں وہ تبدیلیاں آئیں گی جن کے بارے میں ہم ابھی سوچ بھی نہیں سکتے۔ کرونا وائرس سے معاشی نظام کمزور ہوگا اور دنیا میں ممالک کے اندر اور باہر کشمکمش بڑھے گی۔
کونسل آف فارن ریلیشن کے سربراہ رچرڈ این ہاس کا کہنا ہے کہ خدشہ ہے کہ بہت سارے ممالک کو اس بحران سے نکلنے میں مشکل پیش آئے جس سے دنیا میں مزید ناکام ریاستیں جنم لیں گی۔
