کرونا واک تھرو گیٹ الرجی اور سانس کی بیماری کا باعث

پاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد لوگوں کو ڈس انفکٹ کرنے کے لیے واک تھرو گیٹس لگانے کا رجحان چل نکلا ہے اور سرکاری عمارتوں کے علاوہ مختلف علاقوں کے داخلی دروازوں پر بھی واک تھرو گیٹس لگوا دئیے گے ہیں۔ تاہم طبی ماہرین نے ان گیٹوں کو انسانی صحت کے لیے مضر اور ایک ’زہریلا شکنجہ‘ قرار دے دیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ واک تھرو گیٹوں میں استعمال ہونے والا کیمیکل سپرے الرجی اور سانس میں تکلیف کا سبب بن رہا ہے۔
ملک میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے عوامی مقامات مثلاً ہسپتالوں، سبزی منڈیوں، ریلوے اسٹیشنز اور گروسری سٹورز پر اس طرح کے گیٹس نصب کیے گئے ہیں۔اس حوالے سے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دروازے دھوکے اور ایک نفسیاتی آسرے کے سوا کچھ نہیں۔ عوام کو یاد رکھنا چاہیئے کہ ان گیٹوں سے گزر کر جسم کے اندر موجود وائرس نہیں مر سکتا، یہ واک تھرو گیٹ وائرس کے خلاف مکمل تحفظ فراہم نہیں کرتے اور نہ ہی اسے عالمی ادارہ صحت نے تجویز کیا ہے۔ ماہرین نے مزید بتایا کہ ان گیٹوں کو استعمال کرنے والے کئی لوگوں میں الرجی اور سانس کی بیماریوں کا انکشاف ہوا ہے جس کی بنیادی وجہ ان میں استعمال ہونے والا زہریلا کیمیکل اسپرے ہے جو کہ انسانی صحت کے لیے مضر ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک نیا مذاق ہے جو عوام کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ یہ صرف پیسے کا ضیاع ہے کیوں کہ اس سے کرونا وائرس نہیں مرے گا، اسے مرنے کے لیے 30 سیکنڈ درکار ہوتے ہیں اور کوئی بھی شخص تیس سیکنڈ واک تھر گیٹس میں نہیں رہتا۔ لوگ ان گیٹس میں ایک سائیڈ سے داخل ہوکر دوسرے سے نکل جاتے ہیں اور یہ سارا عمل زیادہ سے زیادہ تین سے پانچ سیکنڈ میں مکمل ہو جاتا ہے لہذا اس دوران کرونا وائرس کے مرنے کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔
تاہم ماہرین مانتے ہیں کہ ان گیٹس سے گزرنے سے کپڑوں کے جراثیم مر سکتے ہیں وہ بھی اس صورت میں کہ گزرنے والا آہستہ رفتار سے گزرے۔ ان کے خیال میں واک تھرو گیٹوں پر استعمال ہونے والے اسپرے میں موجود کیمیکل الرجی اور سانس میں تکلیف کا سبب بن سکتا ہے لہذا دمے اور سانس کے مریضوں کو تو اس گیٹ میں سے بالکل بھی نہیں گزرنا چاہیے۔
اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان میں جراثیم کش واک تھرو گیٹ متعارف کرانے والے لاہور کے انجنئیر کلیم اللہ نے تسلیم کیا کہ وہ کیمیا دان نہیں بلکہ انجینئر ہیں۔ لیکن ڈاکٹرز سے مشورہ کر کے جو محلول انہوں نے سپرے کے لیے بنایا تھا اس میں کلورین، مینتول، ڈیٹول اور پانی کا مکسچر استعمال ہوتا ہے۔ کلورین جراثیم کو ختم کرنے کے لیے مستند تصور کی جاتی ہے اور یہ اگر وائرس کو مکمل طور پر ختم نہ بھی کرے تو اس کو اتنا کمزور کر دیتی ہے کہ وائرس نقصان پہنچانے کے قابل نہیں رہتا۔انہوں نے مزید بتایا کہ اُن کے بنائے گئے واک تھرو گیٹس وزیراعظم ہاؤس ، آرمی چیف ہاؤس ، جی ایچ کیو اور این ڈی ایم اے میں بھی لگائے گئے ہیں لیکن اس میں استعمال ہونے والا محلول اُن متعلقہ اداروں نے اپنے ماہرین کی رائے کی روشنی میں تیار کر کے استعمال کیا ہے۔ اس لیے وہ یہ نہیں جانتے کہ باقی جگہوں پر کون سا محلول استعمال کیا جا رہا ہے۔’
دوسری طرف نسٹ یونیورسٹی کے ایک سائنسدان نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پہ بتایا کہ ‘کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے کلورین محلول سپرے کے واک تھرو گیٹ کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ معلوم نہیں یہ مشورہ انتظامیہ کو کس نے دیا ہے؟ ڈبلیو ایچ او کی گائیڈ لائن میں ایسے واک تھرو گیٹ کے ذریعے جراثیم ختم کرنے کی کوئی مثال نہیں ہے انہوں نے کہا کہ ‘اگر ایک انفیکٹڈ شخص واک تھرو گیٹ سے گزرے گا تو اس کے اندر کے جراثیم تو پھر بھی ختم نہیں ہوں گے۔ وہ عمارت کے اندر جا کر کھانسے گا تو کرونا وائرس جراثیم پھر بھی پھیلیں گے۔ بس یہ ایک ذہنی اور نفسیاتی تسلی ہے۔’ انہوں نے مزید بتایا کہ سڑکوں اور گلیوں میں کیے گئے کلورین سپرے میں کلورین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے وہ سطح کو ایک بار تو صاف کر دے گا لیکن ہمیشہ کے لیے جراثیم ختم نہیں ہو سکتے۔
کیمیائی لیب ماہر ڈاکٹر آصف ریاض نے بتایا کہ جب کلورین کو پانی میں ڈالا جاتا ہے تو ایک یا دو ملی گرام کلورین فی لیٹر محلول میں ڈالی جاتی ہے تاکہ پانی جراثیم سے پاک ہو سکے اور زیادہ سے زیادہ چار ملی گرام کلورین فی لیٹر پانی کے لیے مخفوظ ہے، اسے پیا بھی جا سکتا ہے۔ لیکن اگر اس کو موثر جراثیم کش سپرے بنانا ہے تو پانی میں کلورین کی مقدار بڑھانی پڑے گی لیکن کلورین کی مقدار زیادہ ہونے کی صورت میں یہ نقصان ہو سکتا ہے کہ چھینکیں یا گلا خرابی کی شکایت ہو سکتی ہیں۔’
علاوہ ازیں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ویب سائٹ پر اس سوال کے جواب میں کہا ہے کہ ’اپنے جسم پر الکوحل یا کلورین اسپرے کرنے سے جسم کے اندر جانے والا وائرس ہلاک نہیں ہوگا بلکہ اس قسم کی اشیا کے اسپرے سے آپ کے کپڑوں، چہرے اور آنکھوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ الکوحل اور کلورین سطح کو جراثیم سے پاک کرسکتے ہیں لیکن اس کے لیے مناسب ہدایات کی ضرورت ہے۔
خیال رہے کہ جراثیم سے پاک کرنے والے محلول میں 70 فیصد الکوحل شامل کرنا مہنگا ہے اس لیے لوگ اس میں کلورین یعنی گھروں میں استعمال ہونے والا بلیچ شامل کررہے ہیں۔ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کلورین کو اسپرے کی شکل میں استعمال کرنے سے گریز کریں ان کا کہنا تھا کہ ’جراثیم کش اسپرے کا استعمال لوگوں پر نہیں ہونا چاہیئے یہ سطح اور چیزوں کو جراثیم سے پاک کرنے کے لیے اور کیمیکل آپ کی جلد، آنکھوں گلے اور پھیپھڑوں کو نقصان بھی پہنچاسکتے ہیں۔
