کرونا وباء کے دوران سندھ کارڈ نہیں صرف پاکستان کارڈ چلے گا

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ آج صوبائی تعصب کی بو آرہی ہے تاہم اب سندھ کارڈ نہیں صرف پاکستان کارڈ چلے گا۔
قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں نے جوانی پیپلز پارٹی کو دی، بھٹو اور بینظیر وفاق کی بات کرتی تھیں، پیپلز پارٹی وفاق کی خوشبو ہے مگر آج صوبائی تعصب کی بو آرہی ہے تاہم اب کوئی سندھ کارڈ نہیں، صوبائی کارڈ نہیں، صرف پاکستان کارڈ چلے گا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم نے لاک ڈاؤن کو نرم کیا تو اس پر بھی تنقید کرتے ہوئے ہم پر طعنہ زنی کی گئی، ایک طرف کورونا وائرس اور دوسری طرف معاشی بحران ہے، ہمیں کورونا کے ساتھ بھوک و افلاس کا بھی مقابلہ کرنا ہے، مراد علی شاہ کی کوشش کے باوجود لاک ڈاؤن اس طرح نہیں ہوسکا جیسا ہونا چاہیے تھا، اگر لاک ڈاؤن کو برقرار رکھتے تو 7 کروڑ سے زائد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے جاتے۔اجلاس سے خطاب میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ دنیا کورونا وبا کے باعث کرب کا شکار ہے، گزشتہ دنوں مختلف سیاسی جماعتوں نے مشاورتی بیٹھک کی اورتمام سیاسی جماعتیں اس نتیجے پر پہنچیں کہ پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا جائے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے مطالبے پر مشاورت کے لیے اجلاس منعقد کیا، مشاورت اور تجاویز کے بعد مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ ماہرین متفق ہیں کہ کورونا کی ویکسین آنے تک مختلف طریقوں سے پھیلاؤ روکنے کی کوشش کی جائے، دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا نے اتنا بڑا بحران نہیں دیکھا، خیال ہے کہ ویکسین 18 ماہ سے 2 سال تک آئے گی۔وزیرخارجہ کا کہنا تھاکہ 18 ویں ترمیم کے بعد صحت کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہوچکا ہے، گزشتہ 12 سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت سندھ میں ہے جبکہ گزشتہ 10 سال پنجاب میں ن لیگ کی حکومت رہی، ہمیں جوخدشات تھے، اگر وہ ہوتے تو سسٹم اب تک تباہ ہوچکا ہوتا لیکن اللہ کا کرم ہےکہ ہمارا صحت کا نظام ناکام نہیں ہوا۔انہوں نے مزید کہا کہ متفقہ رائے کے ذریعے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا گیا اور پاکستان نے دیگر ممالک کی نسبت زیادہ بڑا ردعمل دیا، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) مرتب کی گئی اورتمام اکائیوں کو اس میں نمائندگی دی گئی، 18 ویں ترمیم کو جانتے ہوئے صحت عامہ میں صوبوں کے لیے لچک کا مظاہرہ کیا گیا۔شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ایک تاثر ابھرا کے سندھ کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے، یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ سندھ سے زیادتی کی گئی ہے، سندھ حکومت کو آبادی کے تناسب سے سب سے زیادہ حفاظتی لباس دیے گئے جبکہ حفاظتی ماسک بھی سندھ کو دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ دیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن نرم نہ کرتے تو 2 کروڑ سے 7 کروڑ لوگ خط غربت سے نیچے چلے جاتے، اگر اسمارٹ لاک ڈاؤن میں جانوں کا ضیاع زیادہ ہوتا ہے تو نظر ثانی کا اختیار رکھتے ہیں، تمام صوبائی حکومتوں سے مشاورت کرکے لاک ڈاؤن میں نرمی کا عمل شروع کیا گیا، وفاقی حکومت اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے اور ہماری خواہش ہے کہ جانیں بھی بچ جائیں اور معیشت کا بھی نقصان نہ ہو۔قومی اسمبلی سے خطاب میں وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی نیک نیتی کے باوجود سندھ میں لاک ڈاؤن کے ثمرات نہیں ملے، ہم نے اسمارٹ لاک ڈاؤن کا کہا تو مذاق اڑایا گیا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کیا ہے؟ جس پیپلزپارٹی سے وفاق کی خوشبو آتی تھی، آج صوبائی تعصب کی بو آرہی ہے، کورونا کے خلاف جنگ میں سندھ کارڈ یا صوبائی کارڈ نہیں چلے گا۔
خیال رہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ارکان کا کورونا ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا ہے جب کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر سینیٹائزر گیٹ اور ٹمپریچر معلوم کرنے کی مشین لگائی گئی ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر خود کورونا کا شکار ہیں جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری چلارہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button