کرونا وبا کے دوران اسکول کھولنے کا فیصلہ بے تکا کیسے؟

https://www.youtube.com/watch?v=x4k7KiWNU8M
حکومت کی طرف سے 15 ستمبر کو ملک بھر میں سکول کھولنے کے اعلان پر والدین دہری پریشانی کا شکار نظر آتے ہیں اور وہ یہ سوال کر رہے ہیں کہ وبا کے دنوں میں اسکول کھولنے کی کیا تک ہے۔ ایک طرف ٹیکنالجی کے کمزور انفراسٹرکچر کی وجہ سے آن لائن کلاسز لینے میں دشواری پر سکول نہ جانے والے بچوں کی تعلیم کا حرج ہو رہا ہے جبکہ دوسری طرف کرونا کی علامات اور صحت پر ہونے والے اثرات کی شدت کو کم کرنے کیلئے مصدقہ اور مؤثرادویات یا کرونا ویکسین کی عدم دستیابی کے باوجود بچوں کو سکول بھیجنے کے حکومتی فیصلے پر والدین تذبذب کا شکار ہیں۔
کرونا سے بچاؤ کیلئے ویکسین کی تیاری اور تجربات کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ ویکسین کب دستیاب ہوگی یا یہ کبھی دستیاب ہو بھی پائے گی یا نہیں اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔ 15 ستمبر تک اسکولوں کی بندش کو 6 ماہ گزر جائیں گے۔ اگر ویکسین دستیاب نہیں ہوپاتی تو مزید کتنا عرصہ اسکولوں کوبند رکھا جا سکتا ہے؟
ماہرین تعلیم کے مطابق پاکستان میں اسکول جانے والے بچوں کی ایک بڑی تعداد کم اور متوسط آمدن والے ایسے گھرانوں سے تعلق رکھتی ہے، جو انٹرنیٹ سروس حاصل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اس لیے اسکول بند رہنے سے اکثر بچے پڑھائی سے محروم رہیں گے۔اگرچہ ٹی وی، ریڈیو اور انٹرنیٹ کے ذریعے تعلیمی عمل جاری رکھنے کے لیے سرکاری و نجی شعبے کی جانب سے اقدامات اٹھائے گئے ہیں لیکن عوام تک انٹرنیٹ کی عدم رسائی اور ٹیکنالوجی کے کمزور انفراسٹرکچر کی وجہ سے زیادہ تر بچے مناسب انداز میں پڑھائی کے مواقع حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ چنانچہ پاکستان میں تعلیمی عمل کی بحالی کو اسکولوں کی بندش ختم کرنے سے مشروط تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم دنیا کے دیگر ایسے ممالک میں صورتحال مختلف ہوسکتی ہے کیونکہ وہاں انٹرنیٹ کی رسائی اور دیگر گھریلو ماحول سے جڑے مسائل مختلف ہیں۔
دوسری طرف ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بچوں اور اساتذہ کی صحت اور تحفظ کی اہمیت سب سے بڑھ کر ہے اس لیے ہمیں ویکسین کی دستیابی تک سکول کھول کر کسی قسم کا کوئی رسک نہیں لینا چاہیے۔ اگرچہ ویکسین کے حوالے سے کچھ حوصلہ افزا خبریں سننے کو مل تو رہی ہیں لیکن ہم یہ اندازے نہیں لگاسکتے ہیں کہ ایک مؤثر ویکسین وسیع پیمانے پر دنیا بھر میں دستیاب ہوگی اور آیا وہ قابلِ استطاعت ہوگی بھی یا نہیں؟
تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اب غیر معینہ مدت تک تعلیمی سرگرمیوں کو بند رکھا جائے؟ بہت سے ممالک کا یہ مؤقف سامنے آ رہا ہے کہ ہمیں ہر ممکن احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے بندش کے خاتمے کی طرف قدم اٹھانا ہوگا لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی ذہن میں رکھنی ہوگی کہ اس طرح ہمارے بچوں اور اساتذہ میں وائرس کی منتقلی کا خدشہ پہلے سے بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔
تاہم ماہرین صحت نے متنبہ کیا ہے کہ کرونا وبا کے دوران سکول کھولنے سے سامنے آنے والے رسک کی سطح بھی مختلف حالات میں مختلف ہوگی۔ سرکاری اور کم فیس والے نجی اسکول اضافی احتیاطی سامان مثلاً ماسک، سینیٹائزر، ہاتھ دھلوانے کی سہولت فراہم کرنے کی محدود صلاحیت رکھتے ہیں اوربہت سے اسکولوں میں گنجائش سے زیادہ بچے پڑھتے ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان میں عام طور پر ایس او پیز پر عمل کروانا آسان کام نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں جہاں بالغ افراد جسمانی دُوری کو برقرار نہیں رکھ پا رہے تو ایسی صورت میں چھوٹے بچوں کے لیے تو اس پر عمل تقریباً ناممکن ہوگا۔ دوسری طرف عالمی وبا کو 6 ماہ گزر چکے ہیں لیکن ہماری ٹیسٹنگ کی صلاحیت کا عالم یہ ہے کہ ہم ایک دن میں بمشکل 20 ہزار ٹیسٹ کر رہے ہیں۔ بالفرض اگر تعلیمی اداروں میں وبا پھوٹنے کا شبہ ہوتا ہے یا پھر واقعتاً ایسے حالات پیدا ہوجاتے ہیں تو کیا ہم تواتر کے ساتھ طلبا اور اساتذہ کے ٹیسٹ کرنے، پورے پورے اسکولوں اور یونیورسٹیوں کا ٹیسٹ اور اسے قرنطینہ کرنے کی صلاحیت اور اہلیت رکھتے ہیں؟ چنانچہ بندش ختم کرنے سے پاکستان کے زیادہ تر اسکولوں میں زیرِ تعلیم بچوں اور اساتذہ میں مرض کی منتقلی کا خدشہ غیر معمولی حد تک بڑھ جائے گا اور اگر طلبا اور اساتذہ غیر محفوظ ماحول میں رہے تو گھر بیٹھے بالغ افراد بھی اس سے محفوظ نہیں رہیں گے۔
تاہم اگرایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرا کروبائی منتقلی کی شرح قابو میں رہتی ہے تو اسکول کھول دینے چاہیں ، خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک کے لیے جہاں زیادہ تر بچوں کی پڑھائی کمرہ جماعت اور اساتذہ اور دیگر طلبا کی موجودگی میں ہی ممکن ہے۔ سکولوں کو کھولنے سے قبل اس کیلئے جامع ایس او پیز اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ کرنا وباء کے دوران اسکول نئے طریقوں کو استعمال کرسکتے ہیں جیسے کہ ایک دن چھوڑ کر ایک دن کلاسز لی جائیں تاکہ کسی بھی دن اسکول میں بچوں کی تعداد زیادہ نہ ہو، جہاں ممکن ہو وہاں ڈیسکوں کے درمیان فاصلہ رکھا جائے، اگر اسکولوں میں بڑے میدان ہیں اور موسم اجازت دیتا ہے تو کلاسوں کا انعقاد وہاں کیا جائے، صبح کی اسمبلی سمیت ایسی ہر طرح کی سرگرمی سے باز رہا جائے جس میں مجمع اکھٹا ہو، طلبا کی ٹولیوں کو آپس میں ملنے جلنے سے روکنے کے لیے تمام طلبا کو ایک ساتھ لنچ بریک نہ دیا جائے اورزیادہ تر اسپورٹس اور سماجی سرگرمیوں کو روک دیا جائے۔اس سب کے لیے اسکولوں کو بہت زیادہ خودمختاری درکار ہے۔
اسکولوں کی بندش ختم ہونے کے دن بظاہر قریب آ رہے ہیں، جس سےبچوں اور اساتذہ میں کرونا وائرس کی منتقلی کا خدشہ پہلے سے بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ کسی نہ کسی موقع پر ہمیں ایک بار پھر پڑھائی کے عمل کو دوبارہ شروع کرنا ہی پڑے گا اور پاکستان میں گھر بیٹھے یا آن لائن بنیادوں پر ایسا کرنا ممکن نہیں۔ اضافی خطرے سے نمٹنے کے لیے ہمیں ایس او پیز کے نفاذ کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بڑھانا ہوگا اور پالیسی سازی کے عمل کو مقامی سطح پر منتقل کرنا ہوگا۔ تاہم نجی اور سرکاری شعبے میں پالیسیاں بنانے اور نافذ کرنے میں اعتماد کی کمی کی وجہ سے یہ دونوں ہی کام کافی کٹھن محسوس ہوتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button