کرونا پر کپتان کی کنفیوژن کا بھیانک نتیجہ سامنے آ نے والا ہے

پاکستان میں کرونا وائرس کے خلاف گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری جنگ کے دوران جو سوال عوام مسلسل کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان اب تک اس معاملے پر کنفیوژڈ کیوں ییں اور ایک واضح حکمتِ عملی کے ساتھ سامنے کیوں نہیں آرہے؟ وہ کیوں اب تک عوام کو واضح انداز میں یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ کرونا سے بچاؤ کے لیے کون سے اقدامات کرنے ضروری ہیں۔ یہ بات اس لیے کہی جارہی ہے کہ اب تک وزیرِاعظم نے قوم سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کے دوران جو پیغام دینے کی کوشش کی ہے اس سے خاطر خواہ وضاحت نہیں ہوپائی ہے بلکہ کنفیوژن میں اضافہ ہوا جس کا خمیازہ بالآخر پوری پاکستانی قوم کو کرونا کے بڑے حملے کی صورت میں بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
وزیراعظم نے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ یہ وائرس نزلے زکام جیسا مرض ہے اور97 فیصد مریض صحتیاب ہوجاتے ہیں۔ مگر جس کسی نے بھی کرونا کے اعداد پر کام کیا ہے وہ جانتا ہے کہا اصل نکتہ یہ نہیں کہ 97 فیصد مریض مکمل صحتیاب ہوجاتے ہیں بلکہ اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ 3 فیصد مریض صحتیاب نہیں ہوپاتے اور مر جاتے ہیں کیونکہ اگر وقت پر ٹھوس اور فیصلہ کن ایکشن نہ لیا جائے تو ان 3 فیصد مریضوں کے ذریعے کرونا متاثرین کی تعداد لاکھوں تک پہنچ سکتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستانی آبادی کا 3 فیصد حصہ ایک بڑا لاکھوں میں بنتا ہے۔
یاد رہے کہ دوسری جنگِ عظیم میں دنیا کی 3 فیصد آبادی ہی موت کے گھاٹ اتاری گئی تھی اور مرنے والوں کی تعداد تقریبا 75 لاکھ افراد کے قریب تھی لیکن خطرے کی اس قدر سنگینی کے باوجود پاکستانی عوام کو کپتان کی جانب سے مسلسل یہی کہا جارہا ہے کہ زیادہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔
اپنے آخری خطاب میں بھی کپتان نے ایک بار یہ بات دہرائی کہ کرونا وائرس سے صرف عمر رسیدہ اور بیماروں کو خطرہ ہے۔ یہ بات نہ صرف غلط ہے بلکہ گمراہ کن بھی ہے اور یہ ایک خطرناک پیغام بھی ہے جو اعلیٰ منصب پر بیٹھے شخص کی جانب سے دیا جارہا ہے۔ اگر یہ بات درست ہوتی تو یہ سوال ضرور پیدا ہوتا کہ دنیا بھر کے ممالک کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیوں اٹھا رہے ہیں؟ کیا وہ کرونا کے خطرے کو سمجھنے میں ناکام رہے؟ مختلف ملکوں کی حکومتوں سے لے کر عالمی ادارہ صحت سے منسلک اعلیٰ حکام نے اپنے پیغام کو دُور دُور تک پھیلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، اور یہ پیغام ہمارے وزیرِاعظم کے پیغام سے یکسر مختلف ہے۔ دیگر حکومتوں اور عالمی ادارہ صحت نے کہا کہ جن افراد کو ہسپتال میں داخل کرنے کی ضرورت ہے یا پھر جن کی جان کو خطرہ ہے وہ بھلے ہی بڑی عمر کے افراد ہوں، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ جو افراد عمر رسیدہ نہیں یا جن میں ابتدائی علامات ظاہر نہیں ہیں وہ خود کو محفوظ سمجھنا شروع کردیں۔ مسلہ یہ ہے کہ ایک ذمہ دار ملکی قیادت ممکنہ خطرات کی اہمیت کو گھٹانے کے بجائے انہیں اجاگر کرتی ہےلیکن وزیرِاعظم نے ایک بار پھر اپنے تازہ خطاب میں لاک ڈاؤن کے خیال پر تنقید کی۔ جس کی وجہ شاید یہ ہے کہ وہ اپنے مؤقف کو درست ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ان کی یہ ضد اور ہٹ دھرمی مستقبل قریب میں پوری قوم کو بھگتنا پڑ سکتی ہے۔
کپتان نے اپنے موقف کے حق میں دلائل دیتے ہوئے یہ دعوی بھی کیا کہ بھارتی وزیرِاعظم نے لاک ڈاون کے نفاذ پر اپنے عوام سے معافی مانگی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھارتی وزیرِاعظم نے اپنے عوام سے لاک ڈاؤن کے باعث پیدا ہونے والی دشواریوں پر معافی مانگی تھی اور لاک ڈاون کے اقدام کو ضروری قرار دیا تھا۔
ہم پاکستانیوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ اعلیٰ قیادت لاک ڈاؤن کے خلاف دلیل تو پیش کرتی ہے، مگر اس وائرس کو روکنے کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے، اس حوالے سے ان کے پاس کوئی واضح حکمتِ عملی ہے ہی نہیں۔ وزیرِاعظم نے یہ دلیل دی تھی کہ کوئی نہیں جانتا کہ یہ معاملہ کتنا طویل ثابت ہوگا، یہی بات ان کے پہلے خطاب کا مرکزی خیال بھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے بارے میں صرف اسی وقت سوچا جاسکتا ہے جب ’حالات بہت زیادہ بگڑ جائیں‘۔ لگتا یہی ہے کہ وزیراعظم ملک میں مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان اسی وقت کریں گے جب پانی سر سے گزر جائے گا اور حلات بہت زیادہ بگڑ جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button