کرونا پھیلانے کے الزام کے بعد چینی لیبارٹری بند کر دی گئی

امریکہ اور فرانس کے تکنیکی اور مالی تعاون سے چین کے شہر ووہان میں 1956 سے قائم خطرناک ترین وائرسوں پر تحقیق کرنے والا وائرولاجیکل انسٹی ٹیوٹ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی آماجگاہ کے طور پر امریکی الزامات کی زد میں آنے کے بعد مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
امریکہ کا الزام ہے کہ کرونا وائرس دراصل چینی شہر ووہان کی اسی لیبارٹری سے نکل کر دنیا بھر میں پھیلا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو کیی جانب سے الزامات کے بعد ووہان وائرولاجیکل انسٹی ٹیوٹ اس وقت دنیا کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ امریکہ کی جانب سے مسلسل الزامات کے بعد چینی حکام نے لیبارٹری کو فوری طور پر بند کر دیا ہے۔
کرونا وائرس سے پھیلنے والی بیماری کووڈ 19 کا آغاز گذشتہ برس نومبر اور دسمبر میں ہوا۔ لیکن یہ وائرس آیا کہاں سے؟ چار ماہ گزرنے کے بعد بھی اس بارے میں ٹھیک ٹھیک معلوم نہیں ہو سکا۔ ابتدا میں کہا گیا کہ یہ وائرس چمگادڑ سے پینگولن میں گیا، اس چیونٹی خور جانور سے وائرس کسی انسان کو منتقل ہوا اور پھرارتقائی عمل سے گزرنے کے بعد انسان سے انسان میں پھیلنے لگا، اس کے بعد یہ وائرس پوری دنیا میں پھیل گیا تاہم وائرس کے امریکہ اور یورپ میں تباہی مچانے کے بعد امریکی حکام نے پہلے الزام عائد کیا کہ یہ وائرس چین نے تیار کیا ہے تاہم بعد ازاں الزام عائد کیا کہ کرونا وائرس وہان کی لیبارٹری سے پھیلا۔
تاہم یہ حقیقت ہے کہ ووہان میں واقع وائرولاجیکل انسٹی ٹیوٹ میں کرونا کی وبا پھیلنے سے بہت پہلے اس مہلک وائرس پر تحقیق کی جا رہی تھی۔ تاہم اب مسلسل الزامات کے بعد اس لیبارٹری میں تحقیقاتی کام روک دیا گیا ہے۔ 1956 میں قائم کیا جانے والا ووہان وائرولاجیکل انسٹی ٹیوٹ چین کے ابتدائی تحقیقی اداروں میں سے ایک ہے۔ آنے والے عشروں میں یہ انسٹی ٹیوٹ مختلف مراحل سے گزرتا رہا، حتیٰ کہ 2015 میں اسے چار کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی مالیت سے اپ گریڈ کیا گیا، جس کے بعد یہ ایشیا کی واحد انتہائی سکیورٹی والی لیبارٹری بن گئی جہاں کرونا وائرس سمیت کلاس 4 کے خطرناک ترین وائرسوں پر تحقیق کی جاتی ہے۔
اسی لیبارٹری کو 30 دسمبر کو اطلاع ملی تھی کہ ووہان کے ہسپتالوں میں ایک نئی قسم کے نمونیا کے شکار مریض آ رہے ہیں، جس کے بعد یہاں کی وائرالوجسٹ شی ژینگلی اور ان کے ساتھیوں نے اس نئے کرونا وائرس کو شناخت کر لیا۔ سات جنوری 2020 تک اس کا مکمل جینیاتی نقشہ بھی تیار کر لیا۔ یہ نقشہ دس جنوری کو آن لائن شیئر کیا گیا۔ڈاکٹر شی نے جریدے ’سائنٹفک امیریکن‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ چونکہ ان کی لیبارٹری میں متعدد کرونا وائرسوں پر تحقیق ہو رہی تھی اس لیے انہیں پہلے پہل شک گزرا کہ کیں یہ نیا کرونا وائرس ان کی لیبارٹری سے تو لیک نہیں ہوا۔ تاہم جب انہوں نے اس نئے وائرس کے جینیاتی مواد کا موازنہ اپنی لیبارٹری میں موجود وائرسوں سے کیا تو معلوم ہوا کہ اس کا تعلق ان کے ادارے سے نہیں ہے۔
ووہان کی لیبارٹری کا شمار دنیا کی ان گنی چنی لیبارٹریوں میں ہوتا ہے جنہیں بائیو سیفٹی لیول 4 کا درجہ حاصل ہے، یعنی یہاں پر آمدورفت اور امور کی انجام دہی کیلئے سخت پروٹوکولز پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جاتا ہے تاکہ لیبارٹری سے کسی وائرس کا اخراج کسی صورت ممکن نہ ہو۔ تاہم یہ پروٹوکول کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں، انسان سے کبھی نہ کبھی غلطی ہو ہی جاتی ہے اور حادثہ آخر حادثہ ہے، جو ہو کر رہتا ہے۔اس سے پہلے بیجنگ کی ایک لیبارٹری سے سارس وائرس اسی طرح کی ایک غلطی کے نتیجے میں خارج ہو گیا تھا، جب کہ 2003 میں ایسا ہی ایک واقعہ سنگاپور کی ایک لیبارٹری میں بھی پیش آ چکا ہے، جب وہاں کا ایک سائنس دان سارس وائرس پر کام کرتے کرتے خود اس کا شکار ہو گیا۔ یہی قیاس آرائیاں اب کرونا وائرس بارے بھی کی جا رہی ہیں کہ یہ وائرس چینی سائنسدانوں کی غلطی سے یا جان بوجھ کر کسی سازش کے تحت لیبارٹری سے نکال کر پوری دنیا میں پھیلا دیا گیا۔
یاد رہے کہ ووہان لیبارٹری چین نے اپنی مدد آپ کے تحت تعمیر نہیں کی، اس سلسلے میں اسے فرانس کا تعاون حاصل رہا ہے اورخود امریکہ نے بھی اس ادارے کی تعمیر میں دامے درمے حصہ لیا ہے۔ امریکہ کے قومی ادارہ برائے صحت نے اس انسٹی ٹیوٹ کو چمگادڑوں میں موجود کرونا وائرسوں پر تحقیق اور ان کی فہرست سازی کرنے کے لیے 74 لاکھ ڈالر کی گرانٹ دی تھی۔ واضح رہے کہ مختلف تحقیقات میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ کرونا وائرس قدرتی ہے۔ امریکی انٹیلی جنس ادارے بھی اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ وائرس انسان کا بنایا ہوا نہیں ہے، جس کی تائید صدر ٹرمپ اور وزیرِ خارجہ پومپیو بھی کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ وائرس قدرتی ہی تھا، لیکن تحقیق کے دوران یہ کسی طرح لیبارٹری سے باہر نکل گیا۔امریکی صدر کہہ چکے ہیں کہ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا چین نے اسے خود چھوڑا ہے یا یہ غلطی سے پھیلا ہے۔
دوسری طرف عالمی ادارہ صحت کا بھی کہنا ہے کہ کروناوائرس ووہان کی لیبارٹری میں تیار ہونے کے امریکی دعوے کا کوئی ثبوت نہیں ملا اور نہ ہی امریکی حکام نے اپنے الزام بارے کوئی ثبوت فراہم کیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ’اگر ڈیٹا اور شواہد موجود ہیں تو یہ فیصلہ امریکی حکومت کو کرنا ہے کہ انہیں فراہم کرنا ہے یا نہیں اور کب فراہم کرنا ہے لیکن عالمی ادارہ صحت کے لیے اس حوالے سے معلومات کی عدم موجودگی میں وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے۔
