کرونا کا خطرہ: نواز شریف کو آئسولیشن میں جانے کا مشورہ

گزشتہ پانچ مہینوں سے علاج کی غرض سے لندن میں مقیم سابق وزیراعظم نواز شریف کے ڈاکٹرز نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ چونکہ وہ پہلے سے ہی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں اس لئے ان پر کرونا وائرس زیادہ جلدی حملہ کر سکتا ہے لہذا انہیں آئسولیشن میں چلے جانا چاہیئے۔
نوازشریف کی میڈیکل ٹیم کا مؤقف ہے کہ وہ شوگر اور گردوں سمیت دیگربیماریوں میں مبتلا ہیں لہذا بہتر یہی ہو گا کہ وہ علاج کے لیے برطانیہ میں ہی مقیم رہیں کیوں کہ کندن میں ناصرف ڈاکٹرز ان کی بیماری سے مکمل طور پر واقف ہیں بلکہ یہاں علاج کی اعلیٰ سہولیات بھی میسر ہیں۔ ڈاکٹرز نے نواز شریف کو سیلف آئسولیشن میں جانے کا مشورہ بھی دیا ہے اور امکان یہی ہے کہ میاں صاحب ڈاکٹرز کا یہ مشورہ قبول کرلیں گے۔
خیال رہے کہ گزشتہ برس نیب کی حراست کے دوران نواز شریف کی طبیعت اچانک بگڑ گئی تھی جس کے بعد انہیں لاہور کے سروسز ہسپتال میں داخل کروایا گیا تھا۔ تاہم مسلسل علاج کے باوجود بھی بیماری کی تشخیص نہ ہونے پر انکا کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکال کر انہیں علاج کے لیے 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔
سابق وزیراعظم 19 نومبر کو اپنے بھائی شہباز شریف اور ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کے ہمراہ قطر ایئرویز کی ایئر ایمبولینس کے ذریعے علاج کے لیے لندن گئے تھے۔ علاج کے لیے لندن جانے کی غرض سے دی گئی 4 ہفتوں کی مہلت ختم ہونے پر 23 دسمبر کو سابق وزیر اعظم نے بیرونِ ملک قیام کی مدت میں توسیع کے لیے درخواست دی تھی جس کے ساتھ انہوں نے ہسپتال کی رپورٹس بھی منسلک کی تھیں۔تاہم لندن کے ایک ریسٹورنٹ میں نواز شریف کی تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد ان کی بیماری کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا جارہا تھا جس پر صوبائی حکومت متعدد مرتبہ ان کی تازہ میڈیکل رپورٹس طلب کرچکی ہے۔
دنیا بھر کی طرح برطانیہ میں بھی کرونا وائرس سے ہونے والی ہزاروں اموات کے بعد نواز شریف کی صحت کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ دوسری طرف حکومت پاکستان کی جانب سے نواز شریف کی صحت کے حوالے سے برطانوی حکومت سے رابطے کے بعد ان کی برطانیہ سے تصدیق شدہ مہڈیکل رپورٹس حکومت کو بھیج دی گئی ہیں جن میں ڈاکٹرز نے کرونا وائرس کے حوالے سے ان کی صحت کو لاحق سنگین خطرات کے سب آئسولیشن میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔
لندن کے نوٹری پبلک کے ڈاکٹر چارلس درستان گوتھری کی جانب سے نواز شریف کی رپورٹس کی تصدیق کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں اور ان پر کرونا وائرس زیادہ جلدی اثرانداز ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر لارنس کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف نے اپنی بیماری کے سلسلے میں اس سے قبل بھی مجھ سے رائل برمپٹن اور ہیئر فیلڈ ہسپتال میں رابطہ کیا تھا جس سے پتہ چلا تھا کہ وہ دل کے شدید عارضے میں مبتلا ہیں اور دل تک خون کی روانی کا عمل متاثر ہو رہا ہے جس سے ان کے دل کے ایک حصے کو شدید خطرات لاحق ہیں۔19مارچ کو جاری کی گئی اس رپورٹ میں ان کا کہنا تھا کہ رواں ماہ کے سوئٹزرلینڈ کے یونیورسٹی ہسپتال سے بھی ایک اس حوالے سے چیک اپ کرانا تھالیکن کورونا وائرس کی وبا کے سبب وہ ہسپتال نہیں جا سکے۔ ڈاکٹر لارنس نے مزید لکھا کہ نواز شریف کی صحت تاحال خراب ہے، ان کے دل کو خون پہنچانے والی شریانیں مکمل فعال نہیں۔ ڈاکٹر لارنس نے واضح کیا کہ اس عمر میں کرونا وائرس کی وجہ سے نواز شریف کو شدید خطرات لاحق ہیں لہٰذا یہ بہتر ہو گا کہ وہ خود کو آئسولیشن میں رکھیں۔
