کرونا کا علاج: سوشل میڈیا کے مشورے ہزاروں جانیں لے گئے

دنیا بھر میں مہلک کرونا وائرس پھیلنے کے بعد سوشل میڈیا پر اس سے متعلق بلاروک ٹوک گمراہ کن معلومات اور ٹوٹکوں پر مبنی علاج اورتدابیراپنانے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے جس نے سوشل میڈیا کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل کرونا وائرس سے بچنے کے لیے ڈیٹول پینے جیسے ٹوٹکوں سے دنیا کے مختلف حصوں میں سینکڑوں ہلاکتوں کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے ایک نئی مشکل کھڑی ہو گئی ہے اور ممکنہ علاج اور گمراہ کن دعووں کے نتیجے میں عوام کی جانوں کو خطرہ بڑھ گیا ہے۔ امریکا، فرانس اور دیگر سائنسدان جہاں موثر علاج کے لیے کام کر رہے ہیں وہیں متعدد ممالک میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے جھوٹی رپورٹس بھی پھیل رہی ہیں۔
کینیا میں کرونا سے بچنے کے کیے ڈیٹول پینے سے 60 سے زائد اور ایران میں میتھانول پینے سے 200 کے قریب افراد کے ہلاک ہونے کے بعد اب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی ان خبروں کو چلانے کے حوالے سے بہت زیادہ محتاط ہو چکے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کو کرونا وائرس کے حوالے سے اب تک 200 سے زائد افواہیں اور جھوٹی کہانیاں ملی ہیں۔ اس ضمن میں آئی ٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو آن لائن پھیلنے والی غلط معلومات کے پھیلاو کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
امریکہ خے آئی ٹی اسکول آف مینیجمنٹ کے پروفیسر ڈیوڈ رانڈ کا کہنا ہے کہ عوام جسے سچ سمجھتی ہے اور جو لوگ شیئر کرنا چاہتے ہیں میں فرق ہے، صارفین مواد کے حوالے سے پسند یا شیئر رکھنے پر جانبدار ہیں اور ان کا یہ فیصلہ سب سے زیادہ آن لائن سامنے آتا ہے۔
پروفیسر رانڈ کے خیال میں اس کی وجہ میں سے ایک سوشل میڈیا کا الگوریتھم ہے جو کسی شخص کی عادت اور پسند سے چلتا ہے جس میں زور اس کی پسند پر ہوتا ہے نا کہ صحیح ہونے پر۔ اس کو تبدیل کرنے کے لیے فیس بک، ٹوئٹر اور دیگر کمپنیوں کو یہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہوگی کہ عوام اپنی اسکرین پر کیا دیکھیں گے۔
رواں ماہ شائع ہونے والی کرونا وائرس پر پھیلنے والی غلط معلومات پر تحقیق لکھنے والے ڈیوڈ رانڈ کا کہنا تھا کہ صارفین کو دیکھنا چاہیے کہ وہ جو سوشل میڈیا پر مواد شیئر کر رہے ہیں وہ صحیح ہے بھی یا نہیں۔ تقریباً ایک ہزار 600 شرکا پر کنٹرولڈ ٹیسٹس کرتے ہوئے تحقیق میں معلوم ہوا کہ جھوٹے دعوے اس لیے شیئر کیے جاتے ہیں کیونکہ عوام نہیں جانتے کہ یہ قابل اعتبار بھی ہے یا نہیں۔ ایک دوسرے ٹیسٹ میں جب عوام کو بتایا گیا کہ وہ جو شیئر کر رہے ہیں اس کے صحیح ہونے پر بھی غور کریں تو صحیح آگاہی کا پھیلاو دگنا ہوگیا۔
رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا گیا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کی جانب سے غلط معلومات کے پھیلاو کو محدود کرنے کے لیے اس کے صحیح ہونے کے حوالے سے ایک مداخلت مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ ڈیوڈ رانڈ کا کہنا تھا کہ ’اس طرح کی چیزیں ہیں جس سے لوگوں کے ذہن میں صحیح ہونے کا نظریہ پیدا ہوگا، نیوز فیڈز صارف کے اپنے ہی مواد اشتہارات سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔
