کرونا کش دروازے بے سود نکلے، پنجاب میں پابندی عائد

کرونا وائرس پر قابو پانے کیلئے ملک بھر میں لگائے جانے والے ڈس انفیکٹنگ ٹنلز یا جراثیم کش دروازوں کو بے سود قرار دے کر پنجاب بھر میں ان کی تنصیب پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
صوبائی محکمہ صحت کے ذیلی ادارے سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کئے گئے حکمنامے کے مطابق کرونا سے بچنے کیلئے نصب کئے جانے والے جراثیم کش دروازے بے سود ہیں اس سے نہ تو کرونا وائرس سے نمٹا جا سکتا ہے الٹا یہ دروازے مختلف قسم کے انفیکشن اور سانس کی بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس لئے ایسے دروازوں کی تنصیب کرنے سے احتراز کیا جائے۔ واضح رہے کہ ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے کی لاگت سے تیار کی جانے والی ڈس انفیکٹنگ ٹنلز یا سپرے والے دروازے ایسے واک تھرو گیٹ ہیں جو کسی بھی عمارت کے داخلی حصے میں نصب کیے جاتے ہیں اور اس دروازے سے گزرتے وقت جراثیم کش محلول کا سپرے خود بخود نکلتا ہے۔ پنجاب کے کرونا ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ کے رکن ڈاکٹر محمود شوکت کے مطابق ترکی کے علاوہ چین سمیت دنیا کے کسی ملک میں کرونا سے بچاؤ کیلئے ایسی ڈس انفیکٹنگ ٹنلز کا استعمال نہیں کیا جاتا کیونکہ یہ ٹنلز بالکل بے فائدہ ہیں اور کرونا سے بچاؤ میں رتی برابر بھی موثر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا۔ل کہ کرونا ناک اور منہ کی رطوبتوں سے پھیلتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر ایک شخص کو کرونا ہو چکا ہے تو وائرس تو اس کے جسم کے اندر ہے، اس کی ناک اور گلے میں ہے ،یہ سپرے اس تک کیسے پہنچے گا؟‘
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگوں کو ڈس انفکٹ کرنے کے لیے لگائے جانے والے واک تھرو گیٹس ایک فراڈ سے زیادہ کچھ نہیں۔ اگر یہ طریقہ اتنا ہی مفید ہوتا تو دنیا اسے استعمال کر رہی ہوتی۔ ہمارے ہاں پانی میں کلورین ڈال کر سپرے کیا جا رہا ہے جو کہ ایسے افراد کے لیے ویسے ہی خطرناک ہے جو الرجی کے مریض ہیں۔ ان کو تو سانس کا سنجیدہ مسئلہ درپیش ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف طبی ماہرین پہلے ہی ایسے گیٹوں کو انسانی صحت کے لیے مضر اور ایک ’زہریلا شکنجہ‘ قرار دے چکے ہیں۔
یاد رہے کے ملک بھر میں بری تعداد میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے عوامی مقامات مثلاً ہسپتالوں، سبزی منڈیوں، ریلوے اسٹیشنز اور گروسری سٹورز پر اس طرح کے گیٹس نصب کیے گئے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دروازے دھوکے اور ایک نفسیاتی آسرے کے سوا کچھ نہیں۔ ماہرین نے بتایا کہ ان گیٹوں کو استعمال کرنے والے کئی لوگوں میں الرجی اور سانس کی بیماریوں کا انکشاف ہوا ہے جس کی بنیادی وجہ ان میں استعمال ہونے والا زہریلا کیمیکل اسپرے ہے جو کہ انسانی صحت کے لیے مضر ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک نیا مذاق ہے جو عوام کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ یہ صرف پیسے کا ضیاع ہے کیوں کہ اس سے کرونا وائرس نہیں مرے گا، اسے مرنے کے لیے 30 سیکنڈ درکار ہوتے ہیں اور کوئی بھی شخص تیس سیکنڈ واک تھر گیٹس میں نہیں رہتا۔ لوگ ان گیٹس میں ایک سائیڈ سے داخل ہوکر دوسرے سے نکل جاتے ہیں اور یہ سارا عمل زیادہ سے زیادہ تین سے پانچ سیکنڈ میں مکمل ہو جاتا ہے لہذا اس دوران کرونا وائرس کے مرنے کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔
تاہم ماہرین مانتے ہیں کہ ان گیٹس سے گزرنے سے کپڑوں کے جراثیم مر سکتے ہیں وہ بھی اس صورت میں کہ گزرنے والا آہستہ رفتار سے گزرے۔ لہذا حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں نام نہاد کرونا کش واک تھرو گیٹ نصب کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔
