کرونا کے باعث پاکستان میں صاف پانی کے بحران کا خدشہ

کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے باعث جہاں پاکستان میں بہت سی چیزوں کے استعمال میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے وہیں پانی کے استعمال میں چالیس فی صد اضافہ ہوگیا ہے جسکے بعد ماہرین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بیس سیکنڈ تک ہاتھوں کو صابن ملنے کے دوران پانی کے نل کو بند رکھیں، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر پانی کے ضیا ع کو روکا نہ گیا تو ملک میں زاف پانی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے ۔
چونکہ کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کے علاج کےلیے ابھی تک کوئی دوا دستیاب نہیں ہے اس لیے دنیا بھر کے طبی ماہرین اس سے بچاؤ کےلیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور بار بار بیس سیکنڈ تک ہاتھ دھونے کی تاکید کر رہے ہیں، پاکستان میں حکومتی ادارے واسا کی طرف سے شہریوں کو مختلف مقامات پر ہاتھ دھونے کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔ پانی فراہم کرنے والے سرکاری اداروں نے بل ادا نہ کرنے والے شہریوں کے کنکشن کاٹنے کا سلسلہ معطل کر دیا ہے اور پانی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ اچھی بات ہے کہ شہری صفائی ستھرائی کا خیال رکھ رہے ہیں اور مسلسل ہاتھ دھو رہے ہیں لیکن اس میں ایک تشویش کا پہلو یہ ہے کہ پانی کے غیر محتاط استعمال سے اسک کے زیر زمین ذخائر پر دباؤ میں بہت اضافہ ہوتا جارہا ہے اور مستقبل قریب میں صاف پانی کی شدید قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اس حوالے سے واسا لاہور کے مینجنگ ڈائریکٹر سید زاہد عزیز کا کہنا ہے کہ صرف لاہور شہر کی بات کی جائے تو ایک آدمی جو عام دنوں میں یومیہ پچاس گیلن پانی استعمال کرتا تھا وہ آج کل یومیہ اسی سے نوے گیلن پانی استعمال کر رہا ہے، یہی صورت حال ملک کے دیگر شہروں میں نوٹ کی جا رہی ہے۔ تاہم کراچی، راولپنڈی اور فیصل آباد سمیت ایسے علاقے جہاں زمین سے اوپر ذخیرہ کیا گیا پانی استعمال ہو رہا ہے یا جہاں پر پانی دن میں کم وقت کےلیے آتا ہے، وہاں لوگ پانی کا استعمال بہتر طریقے سے کر رہے ہیں۔ واسا آفیسر کا کہنا تھا کہ 1960 کے وقتوں میں پاکستان میں ہر پاکستانی کےلیے چھ ہزار کیوبک میٹر پانی سالانہ میسر تھا جو اب کم ہو کر صرف ایک ہزار میٹر کیوبک سالانہ رہ گیا ہے، ایک طرف پانی کم ہو رہا ہے دوسری طرف ہماری آبادی بڑھتی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی تک دنیا بھر میں کسی بھی جگہ پر پینے کے پانی میں کرونا وائرس کی موجودگی نہیں پائی گئی ہے، ہم لاہور میں اسی لاکھ سے زائد لوگوں کو صاف اور محفوظ پانی مہیا کر رہے ہیں ، اعر ہم نے طبی طور پر قابل اجازت حد تک پانی میں کلورین کا استعمال بڑھا دیا ہے۔ جس کی وجہ سے یہ پانی مزید محفوظ ہو گیا ہے۔
پاکستان بھر میں صاف پانی فراہم کرنے والے اداروں کے کنسورشیم، پاکستان واٹر آپریٹرزنیٹ ورک کے چئیرمین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا نوے فی صد پانی زراعت میں استعمال ہوتا ہے اس لیے کم پانی لینے والی فصلوں کو اگانے اور پانی کی بچت والی زرعی ٹیکنالوجی اختیار کرنے کی ضرورت ہے، شہریوں کو ہاتھ دھوتے ہوئے، یا شاور لیتے ہوئے پانی کو دھیان سے استعمال کرنا چاہیئے،خواتین برتن دھوتے ہوئے پانی کے ضیاع کو روکیں، گاڑیاں پائپ سے نہیں پانی کی بالٹی سے دھوئیں، گھر کے باہر پانی کے غیر ضروری چھڑکاؤ سے گریز کیا جانا چاہیئے۔
انہوں نے کہا کہ ہم حکومتی سطح پر بھی پانی بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بارشی پانی کو ذخیرہ کرنے کا بندوبست کر رہے ہیں، لاہور کے کار واش سنٹرز کو پانی کی ری سائیکلنگ کے ساتھ چلایا جا رہا ہے، لاہور کی پچاس مساجد میں وضو کےلیے استعمال شدہ پانی کو پارکوں میں استعمال کیا جا رہا ہے، ہم داتا گنج بخش ہجویری کے مزار پر پچاس ہزار گیلن کا اسٹوریج بنا رہے ہیں جس کے ذریعے ہم وہاں وضو میں استعمال ہونے والے پانی سے سرکلر گارڈن اور اقبال پارک کے سبزے کو سیراب کریں گے۔
