کرونا کے باعثPIA کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا

کرونا وائرس کی وجہ سے بین الاقومی اورملکی پروازوں کی منسوخی کے بعد قومی ائیر لائن پی آئی اے دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گئی ہے۔ مہلک کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر پاکستان سمیت دیگر ممالک نے اپنی فضائی حدود بند کردی ہیں جس کی وجہ سے آمدن کے مقابلے میں پی آئی اے کے اخراجات میں اضافہ ہو گیا ہے اور اس کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے پروازوں کی بندش سے متاثر ہونے والی دنیا کے دیگر ائیر لائنز کے مقابلے میں پی آئی اے کو بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ یاد رہے کہ 2018 میں قومی ایئر لائن پی آئی اے کو مالی خسارے میں اضافے اور آمدن میں کمی کے بعد سیکیورٹیز ایکسچینج کمیشن آف پاکستان یعنی ایس ای سی پی نے دیوالیہ ہونے والے اداروں کی فہرست میں ڈال دیا تھا تاہم 2019 میں مالی خسارے پر قابو پانے میں کامیابی کے بعد پی آئی اے کا نام ڈیفالٹر لسٹ سے نکال کر نارمل ٹریڈنگ لسٹ میں شامل کیا تھا۔ آڈٹ شدہ اعداد و شمار کے مطابق پی آئی اے کو سنہ 2019 میں 11 ارب خسارہ ہوا۔
سنہ 2018 میں ناقص حکمت عملی سے قومی ایئر لائن کو 67 ارب 32 کروڑ روپے کا خسارہ ہوا تھا جو 2017 کے خسارے کا 32 فیصد زائد تھا۔ 2017 میں ادارے کو 50 ارب 98 کروڑ کا خسارہ ہوا تھا۔ تاہم کرونا وائرس کی وجہ سے ملکی و بین الاقوامی پروازوں کی منسوخی کی وجہ سے پی آئی اے کو شدید مالی بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ آمدن کے مقابلے میں اخراجات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس کے بعد ماہرین نے پی آئی اے کے دیوالیہ ہونے کے خدشات کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کی طرف سے پی آئی اے کیلئے کسی قسم کے ریلیف پیکج کا اعلان نہ کیا گیا یا قومی ائیر لائن کی مالی اعانت نہ کی گئی تو پی آئی اے کیلئے آپریشن چلانا بھی ممکن نہیں ہو گا۔
دوسری طرف امریکی ویب سائٹ بلوم برگ کے مطابق پی آئی اے کے اپنے ترجمان کے مطابق قومی ایئر لائینز کا نقصان اور قرض اس قدر بڑھ گیا ہے کہ کمپنی کے لیے اکیلے اسے سنبھالنا ممکن نہیں اور اس کے لیے حکومت کو مختلف تجاویز دی گئی ہیں جس میں ڈیبٹ سے ایکویٹی تبادلہ اور طویل مدتی بانڈز کا اجرا شامل ہے۔
خیال رہے کہ دنیا میں ایئر لائن کا شعبہ اس سے قبل اتنی بری طرح کبھی بھی متاثر نہیں ہوا حتیٰ کہ امریکا میں ہونے والے گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد بھی اتنا نقصان نہیں ہوا تھا جتنا کرونا وائرس کے سبب پروازوں کی بندش سے ہوا۔ انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے مطابق رواں برس ایئر لائنز کو آمدن کی مد میں ڈھائی کھرب ڈالر تک کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے مالی خسارے کی وجہ سے لاکھوں افراد کے بے روزگار ہونے اور متعدد ائیر لائنز کے دیوالیہ ہونے کے خدشات بڑھنے لگے ہیں۔۔ دوسری جانب سڈنی کے سی اے پی اے سینٹر برائے ہوا بازی نے کہا ہے کہ اگر عالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے مدد نہ ملی تو زیادہ تر ایئر لائنز مئی کے اختتام تک دیوالیہ ہوجائیں گی۔
کرناوائرس کی طرح مختلف ائیر لائنز کو درپیش مالی بحران بھی شدید تو ہوتا جا رہا ہے جس سے بجٹ آپریٹر سے لے کر قومی ایئر لائنز تک ہر ایک متاثر ہورہا ہے جبکہ طیارہ ساز اور اشیا فراہم کرنے والے ادارے بھی سخت دباؤ میں ہیں۔ ایڈورڈ آلٹمین کے 1960 میں دیوالیہ پن کی پیش گوئی کے لیے بنائے گئے زیرو اسکور کے طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے بلوم برگ نے دستیاب اعداد و شمار کی بنیاد پر کمرشل ایئر لائنز کی فہرست تیار کی تا کہ دیکھا جاسکے کون سی ایئر لائن سب سے زیادہ تباہی کے خطرے میں ہے۔ اس حساب کتاب میں حکومت کی جانب سے بیل آؤٹس اور افعال جاری رکھنے کے لیے فنڈنگ کے دیگر ذرائع کو شامل نہیں کی گیا۔ اس فہرست میں ایشیائی ایئرلائنز زیادہ تر قرضوں کے بھاری حجم کے باعث شامل ہیں وہیں یورپی ایئرلائنز بھی اتنی مضبوط نظر نہیں آرہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button