کرونا کے بعد کی دنیا میں جہاز کا سفر کیسے ہوگا؟

کرونا وائرس نے دنیا میں بہت کچھ بدل کر رکھ دیا ہے اور لوگوں کو ایک نئے زاویے سے سوچنے پر مجبور کردیا ہے، جس طرح انسانی تاریخ کو مختلف ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے جیسے قبل از مسیح اور بعد از مسیح اسی طرح قبل از جنگ عظیم دوم اور اس کے بعد کا دور، اب کرونا کے وار کے بعد دنیا میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگیا ہے جسے بعد از کرونا وائرس کا دور بھی کہا جاسکے گا۔
محققین اور ماہرین نے اس بات پر اب سنجیدگی سے غور کرنا شروع کردیا ہے کہ جب کرونا کی وباء کا اختتام ہو گا تو دنیا کیسی ہوگیا؟ نوع انسانی کے معمولات زندگی میں کیا تبدیلی آئے گی؟۔ تجارت کیسے ہوگی؟، مسافر سفر کس طرح کریں گے؟۔
یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کرونا کے بعد مسافر بردار طیاروں میں سفر کرنے کا عمل بالکل تبدیل ہونے جا رہا ہے، مسافروں کے چہرے پر ماسک، ہاتھوں میں دستانے اور جہاز میں سیٹوں کے درمیان شیشے کے حفاظتی گلاس ہوں گے۔
ماضی قریب تک دیو ہیکل نما ہوائی جہاز مسافروں کو چوبیس گھنٹے دنیا کے ایک کونے تک پہنچاتے تھے۔ دوسری جانب معیاری قیمت اور کم دورانیے کی پروازیں ہوائی اڈوں کے رن ويز پر کم سے کم اور فضا میں زیادہ سے زیادہ وقت محو پرواز رہتی تھیں۔ لیکن اب کرونا کی عالمگیر وباء کے بعد ایک بات واضح طور پر نظر آ رہی ہے کہ دنیا بھر میں ہوائی جہاز کا سفر ماضی کی طرح شاید دوبارہ ممکن نہ ہو سکے کیوں کہ وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے سبب طیاروں کی مکمل صفائی کرنے، دوران پرواز طیارے میں مسافروں کے درمیان حفاظتی فاصلے کو برقرار رکھنے، چہرے پر لازمی ماسک پہننے اور روانگی سے قبل ایئر پورٹ میں کورونا وائرس کی تشخیص کے سلسلے میں مسافروں کا فٹا فٹ ٹیسٹ کرنے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔
کرونا وائرس کی وجہ سے متعدد ایئرلائنز اپنے طیاروں میں دوران پرواز مسافروں کے درمیان نشست خالی رکھنے پر پہلے سے عمل پیرا ہیں۔ ہوا بازی کے شعبے میں تحقیق کرنے والی ایک کمپنی ‘سمپلی فلائنگ‘ نے جراثیم کشی کے سخت حفاظتی انتظامات کے ساتھ سفر کو مؤثر بنانے کے حوالے سے نئی تجاویز پیش کی ہیں جن کے مطابق ہوائی جہاز کا سفر مستقبل میں کچھ اس طرح سے ہوا کرے گا کہ مسافروں کو آن لائن چیک اِن کے دوران ایک قسم کا ‘امیونٹی پاسپورٹ‘اپ لوڈ کرنا ہوگا تاکہ ان میں کووڈ انیس کے خلاف اینٹی باڈیز کی موجودگی کی تصدیق کی جا سکے۔
طیارے کی روانگی سے کم از کم چار گھنٹے قبل ایئر پورٹ پہنچنا ہوگا۔ چیک اِن ایریا میں داخل ہونے سے پہلے مسافروں کو جراثیم کشی کی مشین اور جسمانی درجہ حرارت چیک کرنے کے اسکینر سے گزرنا پڑے گا۔ مسافروں کو دوران پرواز چہرے پر لازمی حفاظتی ماسک پہننا ہو گا۔
ان سب سے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے اب اٹلی کی ایک ڈزائننگ کمپنی ‘آویو اِنٹیریئرز‘ نے جہاز خے مسافروں کو وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے سیٹوں کا ایک منفرد حفاظتی ڈیزائن پیش کیا ہے۔ ٹیلی فون بوتھ کی طرح ان سیٹوں کے گرد پلاسٹک یا شیشہ فٹ کیا جائے گا جو کہ حفظان صحت کے ساتھ ساتھ آرام دہ سفر، درمیانی فاصلے اور پرائیوسی کےلیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ ابھی تک اور کسی بھی ایئر لائن نے اپنے کیبن کےلیے اس طرح کے اینٹی کرونا فرنیچر کا آرڈر نہیں دیا۔ تاہم ایک ایشیائی کمپنی ہائیکو مسافر بردار طیاروں میں سیٹوں کی جگہ سامان کی پیٹیاں رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ہائیکو کے مطابق اس عمل کے دو فوائد ہوسکتے ہیں، سامان بھی منتقل ہو جائے گا اور مسافروں کی سیٹوں کے درمیان فاصلہ بھی قائم رہے گا۔
کرونا وائرس کی وباء کے بعد مسافروں کے ساتھ جہاز کے عملے کے لیے بھی تبدیلیاں رونما ہوں گی۔ فضائی عملے کو ایئرلائن کے یونیفارم کے ساتھ ساتھ حفاظتی لباس زیب تن کرنا ہوگا، روانگی سے قبل پورے طیارے میں جراثیم کشی کا اسپرے چھڑکنا ہوگا اور ہر آدھے گھنٹے کے بعد ہاتھوں کو جراثیم کش صابن یا لوشن سے صاف کرنا ہوگا۔
دوران پرواز طعام کا اہتمام صرف بزنس کلاس میں سفر کرنے والے مسافروں کےلیے کیا جائے گا۔ ان کو سیل پیک ڈبوں میں کھانا فراہم کیا جائے گا۔ جہاز میں آن بورڈ ٹوائلٹ اور کچن کی صفائی کے لیے ہر وقت خصوصی عملہ موجود رہے گا۔ سفر کے اختتام پر مسافروں کو ایئرپورٹ پر دوبارہ ‘امیونٹی پاسپورٹ‘ پیش کرنا ہوگا۔ تمام مسافروں کو جسمانی درجہ حرارت چیک کرنے کے اسکینرز سے گزرنا ہوگا۔ لگیج میں موجود سامان پر ایک مرتبہ پھر جراثیم کش اسپرے چھڑکا جائے گا۔ اس طرح شاید اب بہت سے لوگوں کےلیے فضائی سفر پہلے کی طرح لطف انھیز نہیں رہے گا۔
