کرونا کے تشخیصی ٹیسٹ ہی مریضوں کی اصل تعداد بتائیں گے

حکومت کی جانب سے وافرتعداد میں میڈیکل آلات اور کرونا ٹیسٹنگ کٹس دستیاب ہونے کے دعوؤں کے باوجود کرونا وائرس کی تشخیص کے لئے پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر انتہائی محدود ٹیسٹس کیے جارہے ہیں جس سے کہ غیر تشخیص شدہ مریضوں کے ذریعے یہ وائرس تیزی سے ملک بھر میں پھیلنے کا امکان ہے۔
پاکستانی ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر روزانہ 30 سے 40 ہزار لوگوں کے کرونا ٹیسٹس نہ کیے گئے تو اگلے دس دن میں یہ وائرس ملک بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل جائے گا۔ 22 کروڑ آبادی والے ملک پاکستان میں کہنے کو تو کورونا وائرس کی تصدیق کے لئے اڑھائی لاکھ ٹیسٹ کٹس موجود ہیں جن کی مدد سے ملک کی دس فیصد آبادی یعنی دو کروڑ پچیس لاکھ افراد کے ٹیسٹ کیے جاسکتے ہیں تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ وسائل ہونے کے باوجود ملک بھر میں روزانہ صرف دو سے تین ہزار مرتبہ مریضوں کے ٹیسٹ ہی کیوں کیے جارہے ہیں۔ شاید کام کو انتظار ہے کہ لوگ اس وائرس کا شکار ہو تب بھی ان کا ٹیسٹ لیا جائے۔
خیال رہے کہ ٹاسک فورس برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے سربراہ ڈاکٹر عطا الرحمٰن اپنے ایک حالیہ بیان میں کہہ چکے ہیں کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے روزانہ کی بنیاد پر محض دو سے تین ہزار ٹیسٹس ہورہے ہیں تاہم اگر روزانہ 30، 40 ہزار کرونا ٹیسٹس نہ کیے گئے تو اگلے دس دن میں یہ وائرس جنگل کی آگ کی طرح پھیل جائے گا۔ دوسری جانب حکومتی اعدادوشمار کے مطابق کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے پاکستان کو اب تک دیگر میڈیکل آلات کے علاوہ دو لاکھ سے زائد ٹیسٹ کٹس چین کی جانب سے مل چکی ہیں۔ اس کے علاوہ چین کے نجی اداروں نے بھی ہزاروں کی تعداد میں کورونا ٹیسٹنگ کٹس پاکستان کو عطیہ کی ہیں۔ علاوہ ازیں نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سائنسدانوں نے بھی ٹیسٹ کٹس بنانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے جو وہ قومی ادارہ صحت کو دیں گے جہاں سے وہ صوبوں کو بجھوائی جائیں گی۔ یہی نہیں بلکہ نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے بھی ایک لاکھ پی سی آر ٹیسٹنگ کٹس کا آرڈر دے دیا ہے اور ایک پی سی آر ٹیسٹنگ کٹس سے 90 ٹیسٹ کیے جاسکتے ہیں۔
مقامی طور پر دستیاب کٹس اور بیرونی امداد سے حاصل کردہ کٹس کا تمام ڈیٹا اکٹھا کرنے پر کرونا ٹیسٹ کِٹس کی کل تعداد تقریباً ڈھائی لاکھ کے لگ بھگ بنتی ہے، اگر اسے 90 سے ضرب دی جائے تو ان ٹیسٹ کٹس سے دو کروڑ 25 لاکھ افراد کے ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں، جو کہ پاکستان کے لیے موجودہ صورت حال کے لیے کافی ہیں اور اس بات کی تصدیق معاون خصوصی برائے صحت ظفر مرزا بھی کر چکے ہیں کہ پاکستان کے پاس ٹیسٹ کٹس کی کمی نہیں ہے اور مقامی سطح پر مزید کٹس تیار بھی کی جا رہی ہیں جو ضرورت کو پورا کر دیں گی۔
مقامی طور تیار ہونے والی اور چین، جاپان سے ملنے والی کرونا ٹیسٹ کٹس قومی ادارہ صحت اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمٹ اتھارٹی کے پاس ہیں۔ این ڈی ایم اے کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ تمام صوبوں تک ٹیسٹ کٹس کی فراہمی یقینی بنائے۔ آبادی کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں کورونا وائرس کی تشخیس کے لئے حکومت کے پاس کتنی ٹیسٹ کٹس کتنی ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر حکومت پنجاب کتنے افراد کا کرونا ٹیسٹ کر رہی ہے، یہ ابھی ایک راز ہے کیونکہ حکام اس حوالے سےکچھ بتانے کو تیار نہیں۔نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں اس وقت 652 کرونا وائرس کے مثبت کیسز موجود ہیں جبکہ 638 مشتبہ کیسز ہیں۔ پنجاب میں کورونا وائرس سے نو اموات ہو چکی ہیں۔ اس وقت صوبہ پنجاب میں سب سے زیادہ مثبت کرونا کیسز موجود ہیں۔
صوبہ سندھ کی بات کی بجائے تو اسے صرف چین کی مقامی کمپنی علی بابا کی جانب سے 50 ہزار ٹیسٹ کٹس موصول ہوئی تھیں مگر بدقسمتی سے صوبہ سندھ میں محض تین سے چار سو کرونا ٹیسٹ روزانہ کی بنیاد ہر ہو رہے ہیں۔ حکومت سندھ کا بھی عمران خان والا مؤقف ہے کہ ہر شخص کا ٹیسٹ نہیں کیا جا رہا بلکہ جو مشتبہ کیسز ہیں یا جن کی ٹریول ہسٹری ہے صرف ان کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں یا پھر ٹریول کیسز کے اہل خانہ اور احباب جو شک کے دائرے میں آتے ہیں اُن کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ تاہم اس حکمت عملی کی وجہ سے سندھ میں کورونا کیسز مسلسل بڑھ رہے ہیں۔تقریباً چھ کروڑ آبادی والے ملک کے دوسرے بڑے صوبے سندھ میں ابتک تقریباً ساڑھے چھ ہزار افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں، جن میں سے 627 مثبت کیسز جبکہ 578 مشتبہ کیسز ہیں۔ سندھ میں کرونا وائرس سے اب تک سات اموات ہو چکی ہیں۔
بلوچستان میں بھی صورتحال کچھ اچھی نہیں۔ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر فہیم آفریدی کے مطابق بلوچستان میں کرونا کے ٹیسٹ کے لیے پانچ مشینیں ہیں اور دس ہزار کٹس اس وقت موجود ہیں جبکہ روزانہ محض دو سے ڈھائی سو کے قریب ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔ حالانکہ بلوچستان کو دستیاب دس ہزار ٹیسٹ کٹس کے حساب سے نو لاکھ افراد کا ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے۔
خیبر پختونخوا کےصوبائی وزیر اطلاعات اجمل وزیر کے مطابق خیبر میڈیکل یونیورسٹی میں کورونا کے مشتبہ مریضون کے روزانہ کی بنیاد پر 500 ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس اور ایبٹ آباد میں بھی ٹیسٹ کٹس مہیا کر دی گئی ہیں۔جہاں روزانہ کی بنیاد پر 250 افراد کو ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں موجود قومی ادارہ صحت میں روزانہ کی بنیاد پر 800 ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔ زیادہ تر ٹیسٹس کا تعلق مضافاتی اور گرد و نواح کے علاقوں سے ہے جہاں کرونا وائرس کے ٹیسٹ کی سہولت میسر نہیں ہیں۔
گلگت بلتستان کے لیے چین کی حکومت نے دو ہزار ٹیسٹ کٹس اور دیگر میڈیکل آلات بھیجے ہیں۔نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈیٹا کے مطابق گلگت بلتستان میں کرونا وائرس کے 148 مثبت کیسز موجود ہیں جبکہ 142 مشتبہ کیسز ہیں اور دو اموات ہو چکی ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 100 افراد کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں جن میں سے زیادہ تر کا تعلق ایران سے آنے والے زائرین اور کچھ تبلیغی جماعت والے افراد ہیں۔اب تک گلگت بلتستان میں ٹوٹل 850 افراد کے ٹیسٹ ہوئے ہیں، جبکہ روزانہ کی بنیاد پر یہ تعداد 50 کے قریب ہے۔
کرونا ٹیسٹ کی جامع حکمت عملی کے حوالے سے ماہرین کا خیال ہے کہ کٹس کی تقسیم یونین کونسل کی سطح پر کرائی جائے اور اراکین اسمبلی کی ڈیوٹی لگائی جائے کہ وہ اپنے علاقے کا ڈیٹا نکالیں اور تمام مشتبہ افراد کے ٹیسٹ کیے جائیں۔ تفصیلی سکریننگ اسی کو کہتے ہیں اور امریکہ یورپ میں اس طریقہ کار کو اپنایا جا رہا ہے۔جب تک سکریننگ یونین کونسل کی سطح پر نہیں ہوگی تب تک یہ کہنا کہ پاکستان میں کرونا کیسز کی تعداد کم ہے، غلط ہو گا، کیونکہ جب تفصیلی سکریننگ ہی نہیں ہوئی تو یہ دعویٰ کیسے کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ رُک گیا ہے
