کرونا کے ستائے عوام کو اپنے منتخب نمائندوں کی تلاش ہے

کرونا وائرس کے آتے ہی ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے منتخب نمائندے گھروں میں چھپ کر بیٹھ گئے ہیں اور عوام کا پرسان حال کوئی نہیں۔ لہذا سوشل میڈیا پر سیاسی جماعتیں عوامی تنقید کی زد میں ہیں کیونکہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں کوئی ایسا متبادل نظام دینے میں ناکام رہی جو عوامی رابطے کے ذریعے لوگوں کی بنیادی سطح پر منظم طریقے سے مدد کرسکے۔
کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے بحران کے بعد جہاں ایک طرف حکومت کو بیماری کا پھیلاؤ روکنے میں مشکلات کا سامنا ہے، وہاں کاروبار زندگی بند ہونے کی وجہ سے عام لوگوں کو ضرورت کی اشیا کے حصول اور طبی سہولیات تک رسائی کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ حکومت عام آدمی کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے وسائل اور افرادی قوت کی کمی کا جواز پیش کر رہی ہے تو اپوزیشن اس کو حکومتی نااہلی قرار دے رہی ہے۔ ایسے میں ملک میں ایک ایسے نظام کی کمی محسوس کی جا رہی ہے جس کے ذریعے سے اس نوعیت کے ہنگامی حالات میں لوگوں کی دہلیز پر جا کر ان کی مدد کی جا سکے۔
وزیراعظم عمران خان نے ایک ٹی وی خطاب میں عوام کو تلقین کی ہے کہ کرونا وائرس سے لڑنے کا واحد حل ایمان کو مضبوط کرنا ہے۔ انہوں نے ایک دوسرا نسخہ یہ بتایا کہ وہ ایک ٹائیگر فورس تیار کر رہے ہیں جو کرونا کا مقابلہ کرے گی۔ تاہم ٹائیگر فورس کا ابھی تک کچھ پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہے اور کب غریبوں کے گھروں تک راشن پہنچائے گی۔ لیکن عوام یہ سوال کر رہے ہیں کہ ان کی منتخب حکومت اور ان کے منتخب نمائندے کہاں ہیں ہیں جنہیں اس مشکل گھڑی میں عوام کی مدد کرنی چاہیے۔
کچھ سماجی تنظیمیں اور لوگ انفرادی سطح پر اس خلا کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر تمام سیاسی جماعتوں پر تنقید کی جا رہی ہے کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں کوئی ایسا متبادل نظام بنانے میں ناکام رہی ہیں جو عوامی رابطے کے ذریعے لوگوں کی بنیادی سطح پر منظم طریقے سے مدد کرے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت اور سیاسی جماعتوں کی عدم موجودگی میں سماجی تنظیمیں اور عام لوگ ایک دوسرے کے سہارے پر ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی جماعتیں صحیح معنوں میں اپنے ووٹروں سے قریبی رابطے میں ہوتیں تو آج اسی طرح گھر گھر جا کر دروازوں پر لوگوں کی مدد کرتیں جیسے کہ وہ الیکشن کے موقع پر ہر ووٹر کی پرچی اس کو اس کے گھر میں پہنچاتی ہیں اور ’ٹائیگر فورس‘ کے قیام کی ضرورت نہ پڑتی۔
وزیراعظم عمران خان کے حلقے میانوالی کے رہائشی مقامی صحافی محمد بلال خان نے بتایا کہ وہاں سے اب تک کرونا کے چار مریضوں کی تشخیص ہو چکی ہے لیکن مشکل حالات میں لوگوں کی مدد کرنے کے لیے کوئی بھی خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہا۔ بلال نے بتایا کہ ’میانوالی کے اس علاوے میں کسی نے بھی کوئی ڈور ٹو ڈور مہم شروع نہیں کی تا کہ مشتبہ مریضوں کو گھروں سے تلاش کیا جا سکے یا کسی ضرورت مند کو راشن پہنچایا جائے۔ سرکاری طور پر صرف اس علاقے میں کچھ امداد بھیجی گئی ہے جس کو کورونا مریض نکلنے پر بند کیا گیا تھا۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ’وزیر اعظم کے حلقے میں تقریبا 70 فیصد لوگ دیہاڑی دار مزدور ہیں، وہ انتہائی پریشان ہیں۔ حکومت ان کو آٹا فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے، روزانہ اگر آٹے کے 500 تھیلے چاہئیں ہوں تو وہ صرف 100 کا بندوبست کر پاتے ہیں۔‘ ان کے بقول ’سیاسی جماعتیں اور عوامی نمائندے تو موسمی پرندے بن کر غائب ہوگئے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کے خاص نمائندے جن کو انہوں نے حلقے کے امور دیکھنے کے لیے متعین کیا ہوا ہے نہ ان کا پتا ہے اور نہ ہی مسلم لیگ نواز کے کسی رکن کا۔ باقی سیاسی جماعتوں کو تو یہاں کوئی جانتا ہی نہیں۔‘صحافی بلال خان نے بتایا کہ مقامی سماجی تنظیمیں اور کچھ لوگ انفرادی سطح پر ضرورت مندوں کی مدد کر رہے ہیں جب کہ سرکاری انتظامیہ آٹے کے بحران سے ہی نہیں نکل پا رہی۔
اسی طرح اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے لاہور کے انتخابی حلقے کے رہائشی یونس عدیل کا کہنا ہے کہ لاہور کے کئی حصوں میں لاک ڈاؤن کامیاب نہیں ہوا اور لوگ اسی وقت گھروں کو جاتے ہیں جب انہیں پولیس دکھائی دیتی ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے ڈر رہے ہیں اور لوگوں سے مل کر انہیں لاک ڈاؤن پر رضا مند کرنے کی کوئی کوشش نہیں کر رہے۔ اس نے کہا کہ ’شہباز شریف خود تو نہیں آئے لیکن ان کے متعین کیے گیے نمائندے طلحہ برکی یہاں آتے رہتے ہیں۔ انہوں نے پارٹی کے کچھ اراکین کو لوگوں کی مدد کرنے کے لیے کہا ہے لیکن ابھی عملی طور پر کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ یہاں سماجی تنظیمیں بھی سرگرم نہیں ہیں۔ سب سرکاری مدد کا انتظار کر رہے ہیں۔‘
اسی طرح لاڑکانہ کے سماجی کارکن ریاض پیرزادہ نے بتایا کہ بلاول بھٹو کے حلقے کے پیپلز پارٹی کے صوبائی رکن اسمبلی اور کچھ یونین کونسلز کے اراکین نے اجلاس تو منعقد کیے ہیں لیکن لوگوں کی مدد کے لیے ابھی تک عملی سطح پر کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ اس نے کہا۔کہ ’حکومت لوگوں کو جمع ہونے سے روکنے کے لیے کافی سختی کر رہی ہے۔ کام بند ہونے کی وجہ سے بہت لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں۔ مزدور بہت ہی پریشان ہیں، کوئی انہیں راشن یا مدد نہیں پہنچا رہا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’لوگ حکومتی اراکین کے ڈیروں پر رابطے کرتے ہیں تو وہاں سے جواب ملتا ہے کہ سرکاری پیکیج آ رہا ہے، پیکیج آئے گا تو مدد ملے گی۔ بلاول نے خود کو کراچی یا دبئی میں سیلف آئیسولیشن میں رکھا ہوا ہے، دوسری بڑی سیاسی جماعتوں جی ڈی اے اور جئیے سندھ کی طرف سے بھی کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔’
اسی طرح جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک سرکاری ملازم عصمت شاہ کا کہنا تھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک دونوں اضلاع جو مولانا کا سیاسی گڑھ سمجھے جاتے ہیں میں کوئی بھی مستحق لوگوں کی مدد نہیں کر پا رہا۔ اس نے کہا کہ ’یہاں سب کچھ ہی ختم ہو گیا ہے، اس علاقے کے ہزاروں لوگ ریڑھی بان یا دیہاڑی دار مزدور ہیں۔ ان کا کام ٹھپ ہو گیا ہے۔ ان کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ سماجی حلقے سر توڑ کوشش کر کے بھی سب کی مدد نہیں کر سکتے اور سرکاری یا سیاسی طبقات کی اس طرف توجہ نہیں ہے۔‘اس نے مزید کہا کہ ’مولانا فضل الرحمان توآج تک گھر سے ہی نہیں نکلے۔ ان کے بیٹے اسد محمود جو ٹانک سے رکن قومی اسمبلی ہیں، آج اسلام آباد سے آئے ہیں اور ابھی تک صرف ایک پریس کانفرنس کی ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی علی امین گنڈاپور نے کورونا ٹیسٹ کی لیبارٹری قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، لیکن عملی قدم کوئی نہیں اٹھایا جا رہا۔‘
