کرونا کے مریضوں کی شناخت بھی آئی ایس آئی کے سپرد

کرونا وائرس کی مہلک وباء کے دوران ہر گزرتے دن کے ساتھ ملکی معاملات چلانے والے اصل حکمران بھی سامنے آتے جا رہے ہیں۔ اہم ترین اداروں کی سربراہی حاضر سروس یا ریٹائرڈ فوجی افسران کے سپرد کرنے کے بعد اب کپتان سرکار نے کرونا متاثرین کی تلاش کا فریضہ بھی فوج کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس یعنی آئی ایس آئی کے ذمہ لگا دیا ہے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ اس عمل سے کرونا متاثرین کی شناخت ہو یا نہ ہو لیکن لوگوں کی ذاتی خفیہ معلومات لیک ہونے کے خطرات ضرور پیدا ہو گئے ہیں۔
معلوم ہوا ہے کہ کرونا وائرس کے متاثرین کا ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم مربوط بنانے کیلئے فوج کے خفیہ ادارے کو معلومات بہم پہنچانے کی درخواست کی گئی ہے۔ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے ذریعے خفیہ ایجنسی کرونا وائرس سے متاثرہ کسی بھی شخص کی ذاتی معلومات کو حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی کالز اور لوکیشن ریکارڈ سے یہ معلومات حاصل کر کے متعلقہ حکام کو پہنچائے گی کہ متاثرہ شخص حالیہ دنوں میں کن کن مقامات پر گیا، کن لوگوں سے ملا، کن کے ساتھ رابطے میں رہا۔ یوں ان تمام تر معلومات کی بنیاد پر متعلقہ حکام کو کرونا کے مشتبہ افراد اور متعلقہ علاقے کی شناخت میں آسانی میسر مل جائے گی۔
آئی ایس آئی کی مدد سے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم لانے کا انکشاف وزیرِ اعظم عمران خان نے چند روز قبل سرکاری اور نجی ٹی وی چینلز پر ٹیلی تھون میں یہ کہتے ہوئے کیا تھا کہ کرونا وائرس کے متاثرین کی شناخت کرنے کے لیے جدید ترین ذرائع کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ہمیں آئی ایس آئی نے زبردست سسٹم دیے دیا ہے جو مریضوں کو ٹریک اینڈ ٹریس کرنے میں مدد کرتا ہے۔
یاد رہے کہ یہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم بنیادی طور پر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تیار کیا گیا تھا تاہم اب اس سے کرونا متاثرین کی شناخت کے لیے مدد لی جا رہی ہے۔ کرونا متاثرین کی شناخت کے حوالے سے آئی ایس آئی کی مدد کی تصدیق کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کے فوکل پرسن برائے کرونا وائرس، ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا کہ خفیہ ایجنسی کے پاس موجود معلومات کا استعمال کر کے ایسے لوگوں کا پتا لگایا جارہا ہے، جو کرونا وائرس سے متاثر ہوا ہو۔ انھوں نے کہا کہ خفیہ ایجنسیوں اور موبائل کمپنیوں کے پاس لوگوں کی معلومات جیسے کہ ان کے گھر کا پتہ اور دیگر تفصیلات موجود ہوتی ہیں جن کے ذریعے ہم یہ پتہ کرتے ہیں کہ کرونا سے متاثرہ شخص کے آس پاس کس حد تک وائرس پھیل چکا ہے۔ چنانچہ ہم کرونا سے متاثرہ شخص کے آس پاس موجود لوگوں کی معلومات اکٹھا کرتے ہیں اور اس علاقے کو کرونا کا ہاٹ سپاٹ بننے سے پہلے ہی روک دیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’لوگوں کے پتے اور فون نمبر کے ذریعے متاثرہ افراد کو تلاش کیا جائے گا جس کے بعد ان میں کرونا وائرس کی تصدیق بھی کی جائے گی جس کے بعد یہ معلومات وفاق کے ساتھ ساتھ صوبوں کو بھی منتقل کی جائیں گی۔
تاہم ناقدین اس حکومتی اقدام پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار سے لوگوں کی خفیہ ذاتی معلومات عام ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ زیادہ تر لوگوں کو تواس بارے میں معلوم بھی نہیں کہ ان کی معلومات خفیہ ایجنسی کے ذریعے آگے منتقل کی جا رہی ہیں۔ تاہم ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے استعمال سے خفیہ معلومات کے افشاء ہونے کے حوالے سے ڈاکٹر فیصل اتفاق نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم کوئی خفیہ آپریشن نہیں چلا رہے ہیں۔ ہمیں اندازہ ہے کہ یہ معلومات حساس ہیں اور ان کا استعمال غلط طریقے سے ہوسکتا ہے۔ ہم خفیہ اداروں سے صرف تکنیکی مدد حاصل کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار اس وقت اپنے ابتدائی مراحل میں ہے۔ اور اب تک حکومتِ پاکستان کو اسے استعمال کرتے ہوئے صرف چند روزہوئے ہیں اس لئے اس میں حائل پیچیدگیوں کا ساتھ ساتھ تدارک کیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button