کرونا کے معاملے پر پاکستانی پارلیمنٹ خاموش کیوں ہے؟

دنیا بھر میں پھیلی مہلک کرونا وبا کے باوجود جمہوری ملکوں میں منتخب عوامی نمائندے بدستور اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے باہمی مشاورت کے ساتھ اس موذی دشمن سے نمٹنے کے لیے اہم فیصلے کر رہے ہیں۔ دوسری طرف اپنی جھوٹی انا کے خول میں قید وزیر اعظم عمران خان پارلیمنٹ سے مشاورت کرنے یا اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لئے بغیر ہی فیصلہ سازی اور اعلانات کیے چلے جا رہے ہیں۔ اس مشکل ترین گھڑی میں بھی قومی اتحاد کرنے کی بجائے کپتان اپوزیشن رہنماوں کے ساتھ بیٹھنے کو بھی آمادہ نظر نہیں آتے۔ چند دن قبل پارلیمانی رہنماوں کے اجلاس میں بھی وزیر اعظم اپنی گفتگو کر کے اجلاس چھوڑ کر چلے گئے جس پر اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے شدید احتجاج کیا اور بائیکاٹ کر دیا، یوں وزیر اعظم کی خودپسندی کی وجہ سے کرونا سے نمٹنے کے لئے پارلیمانی پارٹیوں کے بلائے گے اجلاس میں کوئی متفقہ لائحہ عمل سامنے نہ آ سکا۔
چنانچہ اب کرونا سے نمٹنے کے لیے مشاورت سے متفقہ لائحہ عمل تیار کرنے کی بجائے تمام فیصلے پارلیمان سے باہر کیے جا رہے ہیں جو کہ افسوس ناک ہے۔اگر ہم اس حوالے سے دنیا کے دیگر ممالک کی پارلیمانی کارروائیوں پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ جرمنی جہاں کووڈ۔19 کے 50 ہزار کیس سامنے آئے اور 285 اموات ہوئیں، کی پارلیمان نے ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے 814 ارب ڈالرز کے پیکج کی منظوری دی۔ اسی طرح لاک ڈاؤن کے شکار سپین نے 3500 اموات اور 50 ہزار سے زیادہ کیسزکے باوجود پارلیمانی کارروائی کو نہیں روکا بلکہ سپین کی کانگریس میں تعلیمی اداروں کو 12 اپریل تک بند رکھنے کے سوال پر بحث ہوئی۔ برطانیہ کی پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی ہاؤس آف کامنز میں کرونا وبا کے بارے میں حکومتی پالیسیوں پر بحث کے لیے مخصوص اراکین کا اجلاس ٹیلی کانفرنسنگ کے ذریعے منعقد ہوا۔ کینیڈا کی پارلیمان کے ایوان زیریں میں کئی روز سے جاری اجلاس میں کرونا وبا پر بحث ہوئی جبکہ جنوبی کوریا کی پارلیمان کے ایوان زیریں میں بھی کرونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے حکومتی پالیسیوں پر بحث ہوئی۔
اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کے منتخب نمائندے آخری لمحات تک اپنی اپنی حکومتوں کی کرونا سے متعلق پالیسیوں پر بحث اور رہنمائی کرتے رہے۔ تاہم پاکستان میں اس حوالے سے پارلیمنٹ کا کردار صفر نظر آتا ہے جس کی بنیادی وجہ ایک ضدی وزیر اعظم کا غیرلچکدار رویہ ہے۔
پاکستان میں کرونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری کو سامنے آیا جبکہ قومی اسمبلی کا اجلاس نو مارچ کو شیڈول کے مطابق شروع ہوا، جو 20 مارچ تک چلنا تھا۔ تاہم یہ اجلاس 13 مارچ کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔ اس آخری اجلاس میں کرونا وبا سے متعلق بمشکل دو گھنٹے بحث ہوئی، جس میں ایران سے آنے والے زائرین اور تفتان میں قرنطینہ کے برے انتظامات کا تذکرہ ہوا۔ بعد ازاں اپوزیشن کی طرف سے پارلیمنٹ کے اجلاس کیلئے ریکوزیشن جمع کرائی گئی لیکن سپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس نہ بلانے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت پاکستان میں کرونا وبا سے متعلق تمام اہم فیصلے وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں قومی سلامتی کمیٹی کی سطح پر کیے جا رہے ہیں۔
جبکہ دوسری طرف انتخابی، قانون سازی اور مقامی حکومتوں کے موثر نظام کے لیے کام کرنے والی مقامی سول سوسائٹی کی تنظیموں کے نیٹ ورک ‘فری اینڈ فیئر الیکش نیٹ ورک’فافین نے حکومت کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس بلا کر منتخب نمائندوں کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
فافین کے ترجمان سرور باری کا اس ھوالے سے کہنا ہے کہ دوسرے ملکوں کی طرح پاکستان کا بھی موجودہ صورت حال سے نمٹنے کا تجربہ نہیں۔اتنے بڑے بحران سے متعلق فیصلہ سازی کے لیے حکومت اور حزب اختلاف کو مل کر کام کرنا ہو گا اور اسی لیے اسمبلیوں کا اجلاس بلانا بہت ضروری ہے۔ سرور باری کا مزید کہنا ہے کہ اراکین پارلیمنٹ کے لیے جسمانی طور پر موجود ہونا ممکن نہیں تو اجلاس ٹیلی ورکنگ کے ذریعے بھی منعقد کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی کئی اسمبلیوں میں منتخب نمائندے ٹیلی ورکنگ کے ذریعے اجلاسوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ ٹیلی ورکنگ ایک ایسا نظام ہے جس میں کسی ادارے سے منسلک افراد کو کام کی خاطر ادارے کے مرکزی دفتر تک سفر نہیں کرنا پڑتا بلکہ وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی مواصلات کے ذریعے گھر بیٹھے فرائض سر انجام دے سکتے ہیں۔ اس وقت دنیا میں مختلف کمپنیاں ایسے سافٹ ویئربنا رہی ہیں جن کے ذریعے ٹیلی ورکنگ سستی اور آسان ہو گئی ہے۔ پاکستان میں بھی کئی ادارے ٹیلی ورکنگ کا استعمال کر رہے ہیں، جس کے لیے سکائپ کے علاوہ دوسرے آپشنز زیر استعمال ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button