کرونا کے 50 فیصد مریض حملے سے بے خبر رہتے ہیں

کرونا وائرس کے حوالے سے ہونیوالی تازہ ترین تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس مرض کا شکار ہونے والے 50 فیصد افراد کو علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کرونا زدہ ہو چکے ہیں لہذا اس بے خبری میں وہ اس وبا کو دوسرے لوگوں میں بھی منتقل کر دیتے ہیں۔
جب سے کرونا وائرس دنیا بھر میں پھیلنا شروع ہوا ہے ماہرین مسلسل تحقیق میں لگے ہوئے کہ یہ وائرس کیسے پھیلتا ہے اور اسکے پھیلاو کو کیسے روکا جائے، دنیا میں جتنی بھی بیماریاں پائی جاتی ہیں انہیں انکی علامات سے تشخیص کیا جاتا ہے تاہم کووڈ 19 میں یہ معاملہ کافی حد تک مختلف ہے، جہاں اس بیماری کا سب سے بڑا مسئلہ اچھوت کی بیماری ہونا ہے یعنی ایسی بیماری جو کسی کو چھونے سے لگ جائے وہیں ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ اس کی علامات اکثر ظاہر نہیں ہوتیں، جس سے وائرس زدہ شخص لاعلم رہتا ہے جب تک کے ٹیسٹ نہ ہوجائے، اور یہی لاعلمی اس وائرس کے پھیلاؤ کا سب سے بڑا سبب بن رہی ہے۔ ماہرین نے تحقیق سے اندازہ لگایا ہے کہ کرونا وائرس کے 50 فیصد مریضوں کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ اس وبا کا شکار ہوچکے ہیں چناچہ وہ معمول کے مطابق زندگی گزارتے رہتے ہیں اور وائرس پھیلاتے رہتے ہیں۔ جب انہیں کرونا ٹیسٹ کے ذریعہ پتہ چلتا ہے کہ وہ اس مرض کا شکار ہو چکے ہیں تب تک وہ درجنوں دیگر لوگوں کو بھی یہ وائرس منتقل کرچکے ہوتے ہیں۔ اور اس موذی مرض کے اتنی تیزی سے پھیلنے کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ اس کی علامات ظاہر ہونے میں بہت دیر ہو جاتی ہے۔
چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کی تحقیق کے مطابق اس وائرس کے شکار فرد میں ایک سے 14 دن تک کوئی علامات سامنے نہ آنے کا امکان ہوتا ہے اور اسی دوران یہ دوسرے افراد میں منتقل ہو جاتا ہے۔ یوں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنا مشکل ہورہا ہے اور اس کے ایک سے دوسرے فرد میں منتقل ہونے کی صلاحیت مضبوط ہوتی جارہی ہے۔ امریکا کے محکمہ صحت کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن نے بھی اب اس بات کی تصدیق کی ہے کہ آدھے سےزیادہ وبا کا شکار افراد میں اس بیماری کی علامات ہی ظاہر نہیں ہوتیں۔ جن متاثرہ افراد میں کرونا کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں، وہ کووڈ 19 کے 50 فیصد تشخیص ہونے والے کیسز کا باعث بنتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق لوگوں میں یہ وائرس اس وقت زیادہ متعدی ہوتا ہے جب ان میں علامات طاہر نہیں ہوتیں۔ ایسے بغیر علامات والے مریض اس وائرس کو پھیلانے میں اہم ترین کردار ادا کررہے ہیں اور ممکنہ طور پر علامات ظاہر ہونے سے 48 گھنٹے پہلے ان سے وائرس صحت مند افراد میں منتقل ہوسکتا ہے’۔
کرونا وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک امریکا میں بھی یہ وائرس تیزی سے پھیلنے کی بڑی وجہ اسکی علامات کے ظاہر ہونے میں تاخیر ہے۔ اس دوران نظام تنفس کے ذریعے وائرس بڑی خاموشی سے ایک سے دوسرے فرد میں منتقل ہوتا رہتا ہے.
