کرپشن کیس میں سابق وزیر کامران مائیکل پر فرد جرم عائد

احتساب عدالت نے کراچی پورٹ ٹرسٹ آفیسرز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کی زمین کی نجی افراد کو مبینہ طور پر غیرقانونی الاٹمنٹ کے ذریعے 11 ارب 73 کروڑ 30 لاکھ روپے کرپشن سے متعلق کیس میں سابق وزیر بندرگاہ و جہاز رانی (پورٹس اینڈ شپنگ) کامران مائیکل سمیت 12 ملزمان پر فرد جرم عائد کردی۔
فروری 2019 میں قومی احتساب بیورو نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما کامران مائیکل، اس وقت کے چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ آفیسرز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی احمد پرویز یونس اور اس وقت کے سیکریٹری غلام خان کو اختیارات کا غلط استعمال کرنے اور ہاؤسنگ سوسائٹی میں 16 کمرشل پلاٹس کو 12 نان ممبران کو الاٹ کرنے کے لیے لاکھوں روپے رشوت وصول کرنے پر گرفتار کیا تھا۔علاوہ ازیں منگل کو جب معاملہ احتساب عدالت نمبر 2 کی جج عالیہ لطیف انڑ کے سامنے آیا تو انہوں نے موجود ملزمان پر فرد جرم عائد کی۔جج کی جانب سے ملزمان کے الزامات کو پڑھ کر سنایا گیا تاہم انہوں نے جرم سے انکار کرتے ہوئے مقدمے کی پیروی کا فیصلہ کیا۔جس پر جج نے آئندہ سماعت پر استغاثہ کے گواہان کو بیان ریکارڈ کرانے کےلیے طلب کرلیا۔
واضح رہے کہ ریفرنس میں نیب نے الزام لگایا ہے کہ کی پی ٹی افسران کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی زمین کی غیرقانونی الاٹمنٹ کے معاملے کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ کامران مائیکل نے بطور وزیر بندرگاہ و جہاز رانی اپنے دور میں 16 رہائشی و تجارتی پلاٹس ان نجی افراد کو غیرقانونی طور پر الاٹ کیے جو سوسائٹی کے اراکین نہیں تھے۔
ساتھ ہی یہ بھی الزام لگایا گیا کہ ملزمان نے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر نیلامی اور بولی کے طریقہ کار کی ضرورت کو پورا کیے بغیر پلاٹس الاٹ کیے۔ریفرنس میں کہا گیا کہ ملزمان نے مارکیٹ کی موجودہ قیمت کے مقابلے میں کم قیمت پر پلاٹس الاٹ کیے جس سے سوسائٹی کو 11 ارب 73 کروڑ 30 لاکھ روپے کا نقصان ہوا جبکہ ان لوگوں کو بڑا فائدہ حاصل ہوا۔یہ بھی مدنظر رہے کہ فروری 2019 میں کامران مائیکل کی گرفتاری کے بعد مارچ میں کابینہ کمیٹی نے سابق وفاقی وزیر برائے پورٹس اینڈ شپنگ کامران مائیکل پر سفری پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
خیال رہے کہ کامران مائیکل 2013 سے 2016 تک وزیر برائے پورٹس اینڈ شپنگ رہے تھے اس کے علاوہ وہ مختلف ادوار میں وفاقی کابینہ میں دیگر عہدوں پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔
