کرکٹر وزیر اعظم بن سکتا ہے تو اداکارہ کیوں نہیں؟

اداکارہ مہوش حیات نے مستقبل میں سیاست میں انٹری دینے کا عندیہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وہ مستقبل میں ملک کی وزیر اعظم بنیں گی۔
مہوش حیات نے نہ صرف اپنے مستقبل کے منصوبوں پر کھل کر بات کی بلکہ انہوں نے خواتین کے حقوق، ’می ٹو مہم‘، سماجی مسائل اور شوبز انڈسٹری پر بھی کھل کر بات کی۔
اداکارہ نے طویل پروگرام میں اپنی محبت اور شادی سے متعلق ارادوں پر بھی کھل کر گفتگو کی اور بتایا کہ انہوں نے آج تک محبت اور شادی کو اہمیت ہی نہیں دی۔
اداکارہ نے بتایا کہ چوں کہ ان کی والدہ اداکارہ رہی ہیں اور بہن و بھائی بھی موسیقی اور اسی انڈسٹری سے ہی وابستہ ہیں تو انہیں اپنے کیریئر کو آگے بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔
انہوں نے ڈراموں میں کام کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں ڈراموں میں یکسانیت ہوگئی ہے، جس وجہ سے انہوں نے چھوٹی اسکرین پر کام کرنا بند کیا، تاہم اب وہ کچھ اسکرپٹس پڑھ رہی ہیں، جنہیں پڑھنے کے بعد وہ ممکنہ طور پر ڈراموں میں واپسی کریں گی۔
مہوش حیات کو 2019 میں تمغہ امتیاز دیا گیا تھا—فائل فوٹو: انسٹاگرام
ایک سوال کے جواب میں مہوش حیات نے بتایا کہ بینظیر بھٹو کی زندگی پر بننے والی فلم ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اس کی کہانی لکھنے پر کام جاری ہے، جس کے بعد اس کی پروڈکشن شروع کی جائے گی۔
خود کو ’تمغہ امتیاز‘ ملنے کے سوال پر انہوں نے بتایا کہ انہیں شاید اس لیے زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا، کیوں کہ انہیں انتہائی کم عمری میں اعلیٰ ترین ایوارڈ ملا۔
مہوش حیات کے مطابق اگر انہیں سفارش کی بنیاد پر تمغہ امتیاز ملا ہے تو پھر شاید ہر کسی کو مذکورہ ایوارڈ سفارش پر ملتا آیا ہوگا۔
اداکارہ نے بتایا کہ ایوارڈ ملنے کے بعد ان کی اداکاری پر کی جانے والی تنقید پر انہیں افسوس نہیں ہوا، تاہم جب ان کی کردار کشی کی گئی تو انہیں تکلیف پہنچی۔
خواتین کے حقوق، عورت مارچ اور می ٹو مہم پر بات کرتے ہوئے اداکارہ نے بتایا کہ وہ ذاتی طور پر خواتین کے حقوق کی رہنما رہی ہیں اور وہ ایسی مہموں کو سپورٹ کرتی ہیں۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ مذکورہ مہموں کا مقصد برابری ہے نہ کہ خواتین یہ چاہتی ہیں کہ انہیں مردوں سے برتر سمجھا جائے۔
خواتین کے لباس سے متعلق وزیر اعظم عمران خان کے بیان کے سوال پر مہوش حیات نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ خواتین کے نیم عریاں لباس سے مرد حضرات کے جذبات ابھرتے ہیں بلکہ سارا معاملہ ذہنیت کا ہے۔
