کرکٹ بورڈ کی سیاست نے ثناء میر کو ریٹائرمنٹ پر مجبور کیا

15 سال تک خواتین کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرنے والی سابقہ کپتان ثناء میر نے بھی کرکٹ بورڈ کی سیاست کا شکار ہو کر
شاہد آفریدی کی طرح کوئی آخری فیئر ویل میچ کھیلے اور کوئی فئیر ویل استقبالیہ لئے بغیر ہی انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔
یاد رہے کہ ثناء میر پچھلے کچھ عرصہ سے ٹیم سے باہر تھیں کیونکہ ویمن کرکٹ ٹیم کے سلیکشن بورڈ میں اب وہ خواتین سلیکٹرز براجمان ہیں کہ جو ماضی میں ثناء میر کی قیادت میں کھیلتی رہی ہیں اور وہ قطعاً ان کی ٹیم میں شمولیت کے حق میں نہیں۔ اسی وجہ سے ان سلیکٹرز نے ثنا ء میر کو آسٹریلیا میں ہونے والے ورلڈ کپ کی ٹیم سے بھی ڈراپ کیا تھا جس پر موجودہ کپتان بسمعہ معروف نے بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ بعد ازاں ثناء میر نے سوشل میڈیا پر چیف سلیکٹر عروج ممتاز کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ سلیکشن بورڈ میں فیصلے کارکردگی اور میرٹ کی بجائے ذاتی پسند اور نا پسند کی بنیاد پر کئے جا رہے ہیں۔ انہی وجوہات کی بنا پر اب سابق قومی ویمن کرکٹ ٹیم کپتان نے انٹرنیشنل کرکٹ کو خیر آباد کہہ دیا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ثنا میرنے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تہہ دل سے پاکستان کرکٹ بورڈ کی مشکور ہیں جس نے انہیں 15 سال تک ملک کی نمائندگی کا موقع دیا۔۔ثنا میر کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند مہینوں میں انکو سوچنے کا بھرپور موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ زندگی میں آگے بڑھنے کا یہی بہترین وقت ہے اور انہیں فخر ہے کہ انہوں نے اپنے کیرئیر کے دوران ملک کی بہترین طریقے سے خدمت کی۔


ثنا میر نے کہا کہ جب وہ اپنے کیرئیر پر نظر ڈالتی ہیں تو انہیں اطمینان نصیب ہوتا ہے کہ انہوں نے پہلی مرتبہ لارڈز میں کھچا کھچ بھرے اسٹیڈیم میں آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ 2017 کا فائنل کھیلا۔ پھر انہوں نے آئی سی سی ویمنز ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ 2020 کا فائنل 87 ہزار تماشائیوں کی موجودگی میں میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ خواتین کرکٹ کی دو بہترین کامیابیاں ہیں۔ثناء میر نے کہا کہ پاکستان کی نمائندگی کرنا اعزاز اور سبز جرسی زیب تن کرنا قابل فخر لمحہ ہوتا ہے تاہم اب یہ وقت آگے بڑھنے کا ہے اور خدمت کا یہ سلسلہ کسی اور انداز میں جاری رہے گا۔
یاد رہے کہ ثناء میر کا شمار خواتین کرکٹ تیم کی بااثر کھلاڑیوں میں ہوتا تھا، ماضی میں کئی کوچز نے ان پر ٹیم میں گروپنگ کا الزام لگایا لیکن پی سی بی نے ٹیم انتظامیہ کی رپورٹس کو ہمیشہ نظر انداز کیا۔سابق کوچ صبیح اظہر نے ان پر سنگین الزامات لگائے تھے لیکن پی سی بی نے ڈسپلن کیس میں ان کے خلاف کارروائی سے گریز کیا ۔


ثناء میر نے اپنے ایک روزہ کرکٹ کیرئیر کا آغاز دسمبر 2005، کراچی میں سری لنکا کے خلاف کیا جب کہ آخری ایک روزہ میچ نومبر 2019، لاہور میں بنگلہ دیش کے خلاف کھیلا۔ انہوں نے 120 ایک روزہ میچوں میں 151 وکٹیں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ 1630 رنز بنائے۔ 151 ایک روزہ وکٹوں کے ساتھ ثناء میر آل ٹائم لسٹ میں انیسہ محمد کے ساتھ چوتھی پوزیشن پر موجود ہیں، اس فہرست میں بھارت کی جھولان گوسوامی کا پہلا نمبر ہے۔آئی سی سی کی جانب سے بھی ثناء میر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے نوجوان خواتین کھلاڑیوں کے لیے رول ماڈل قرار دیا گیا ہے۔


پی ایس ایل کے دوران پی سی بی نے ثناء میر کی خدمات ماہرانہ تبصروں کے لیے حاصل کی تھیں جب کہ اکتوبر 2018 میں ثناء میر نے آئی سی سی ویمنز ایک روزہ بولروں رینکنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔ ثناء میر کا شمار ان 9 خواتین کرکٹرز میں ہوتا ہے جنہوں نےایک روزہ کرکٹ میں 100وکٹیں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ 1000 رنز بنائے۔ثناء میر نے اپنے کیرئیر میں 226 بین الاقوامی میچوں میں شرکت کی، اس دوران انہوں نے 2009-2017 تک 137 بین الاقوامی میچوں میں پاکستان خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتانی کی۔ثنا میر نے 72 ایک روزہ اور 65 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کی، ان کی قیادت میں قومی ویمن ٹیم نے 2013 اور 2017 کے دو خواتین ورلڈ کپ کے علاوہ 5 ورلڈ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ بھی کھیلی۔انہیں دہائی کی وزڈنز ویمنز ٹیم کی کپتان نامزد کیا گیا اور بھارتی کھلاڑی متھالی راج کے ہمراہ بطور کھلاڑی آئی سی سی ویمنز کمیٹی میں بھی شامل کیا گیا۔ثنا میر 2010 اور 2014 کے ایشین گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے والی قومی خواتین کرکٹ ٹیم کا بھی حصہ تھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button