کسی کو پیسے نہیں دئیے، پی ٹی آئی کے ناراض ارکان نے ووٹ دیا

ٹاسک ملا تھا کہ ایک سینیٹر منتخب کرانا ہے، میں نے ٹاسک سے بڑھ کر دو سینیٹرز منتخب کرائے، پی ٹی آئی کے اپنے لوگ ناراض تھے انہوں نے ہمیں ووٹ دیا، پی پی رہنما کا دعویٰ
پیپلز پارٹی رہنما محمد علی باچا نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی کو پیسے نہیں دئیے، پی ٹی آئی کے ناراض ارکان نے ہمیں ووٹ دیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پیپلزپارٹی رہنما محمد علی باچا نے کہا کہ معلوم نہیں یہ نوٹ ہیں یا کتابیں ہیں، کیا نوٹ اس انداز میں دئیے جاتے ہیں۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سال 2018 کے سینیٹ انتخابات میں ووٹ بیچنے کی ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد پیپلزپارٹی رہنما محمد علی باچا کا کہنا ہے کہ جو دکھایا جارہا ہے یہ دو مختلف ویڈیوز ہیں، پیسے ہیں یا کتابیں یہ میرے سامنے واضح نہیں ہیں۔
محمد علی باچا نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخواہ (کے پی) میں ہمیں دوسرے لوگوں نے بھی ووٹ دیے، ہم نے کسی کو ٹکٹ کی آفر کی اور کچھ اپنے قائدین سے ناراض تھے، قسمت کی بات ہے ہمارے دو سینیٹرز منتخب ہوگئے تھے۔محمد علی باچا کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے اپنے لوگ ناراض تھے انہوں نے ہمیں ووٹ دیا، ٹاسک ملا تھا کہ ایک سینیٹر منتخب کرانا ہے، میں نے ٹاسک سے بڑھ کر دو سینیٹرز منتخب کرائے۔
ان کا کہنا تھا کہ دو سینیٹرز منتخب کروانے پر پارٹی قیادت کی طرف سے مجھے شاباش دی گئی تھی۔ میں نے کسی کو پیسے نہیں دئیے، پی ٹی آئی کے ناراض ارکان نے ووٹ دیا۔ وائرل ہونے والی ویڈیو ایڈیٹ ہے میں نے کسی کو پیسے دئیے نہ لیے ہیں۔ واضح رہے کہ سال 2018ء میں پی ٹی آئی کے 10 ارکان اسمبلی کو خریدنے سے متعلق بھی ویڈیو سامنے آئی ہے ، 2018ء کے سینیٹ انتخابات میں پی ٹی آئی ارکان کو نوٹوں کے انبار لگا کر خریدا گیا ، ویڈیو میں اراکین اسمبلی کو نوٹ گنتے اور بیگ میں ڈالتے دیکھا جا سکتا ہے یہ خرید و فروخت 20 فروری 2018ء سے دو مارچ کے دوران کی گئی تاہم بعد ازاں پی ٹی آئی نے تحقیقات کے بعد ووٹ بیچنے والے 20 ارکان کو پارٹی سے نکال دیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button