کس ISI چیف نے ایک منتخب حکومت کے خاتمے کی سازش کی؟

سابق آرمی چیف جنرل آصف نواز کے بھائی اور معروف سکالر اور تجزیہ نگار شجاع نواز نے دعوی کیا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کے خلاف پی ٹی آئی کے ڈی چوک دھرنے کے ماسٹر مائنڈ تب کے آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام نے ستمبر 2014 میں حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کا منصوبہ بنا لیا تھا لیکن آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بر وقت کارروائی کرتے ہوئے اس بغاوت کے منصوبے کو پنپنے نہیں دیا اور ناکام بنا دیا۔
شجاع نواز نے یہ دعویٰ اپنی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب "دا بیٹل فار پاکستان” میں کیا ہے۔ اس وقت یہ کتاب سیاسی اور عسکری حلقوں میں کافی زیر بحث ہے اورمصنف کے مطابق فوجی اسٹیبلشمنٹ نے انہیں پاکستان کے کسی بھی شہر میں اس کتاب کی تقریب رونمائی منعقد کرنے سے روک دیا ہے۔
کتاب کے صفحہ 185 پر شجاع نواز لکھتے ہیں کہ سنہ 2014 میں افواہیں گرم تھیں کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ جنرل ظہیر الاسلام پاکستان تحریک انصاف اور اس کے سربراہ عمران خان کی جانب سے اسلام آباد میں حکومت مخالف دھرنے کے انعقاد میں مدد کر رہے تھے۔ شجاع کتاب کے صفحہ 262 میں پاکستان میں امریکہ کے سابق سفیر رچرڈ اولسن سے اپنی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ امریکی سفیر نے انھیں بتایا کہ ’ستمبر 2014 میں ہمیں اطلاع ملی کہ جنرل ظہیر الاسلام پاکستان میں فوجی بغاوت کا منصوبہ بنا رہے ہیں مگر اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف نے اس منصوبے کو پنپنے نہیں دیا۔ جنرل ظہیر کور کمانڈرز سے بھی رابطے رکھے ہوئے تھے اور اگر انھیں راحیل شریف کی حمایت بھی حاصل ہو جاتی تو وہ حکومت کا تختہ الٹ چکا ہوتے۔
اسی طرح کا ایک اور واقعہ انھوں نے صفحہ 34 پر بیان کیا ہے جس میں وکلا تحریک کا ذکر کرتے ہوئے شجاع نواز لکھتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن نے انھیں بتایا کہ انھیں اس تحریک کے دوران ملکی حالات کے تناظر میں شک تھا کہ فوج تختہ نہ الٹ دے مگر وہ پریشان نہیں تھے کیونکہ وکلا تحریک کے نتیجے میں پرویز مشرف کو اپنے عہدے سے استعفی دینا پڑا تھا۔ شجاع نواز لکھتے ہیں کہ اعتزاز احسن نے کہا ‘کہ اگر کچھ غلط ہوتا تو ہم گو مشرف گو’ کے نعرے ‘گو کیانی گو’ میں تبدیل کر دیتے۔’ لیکن اسی کے ساتھ ساتھ شجاع نواز آگے لکھتے ہیں کہ انھیں فوج کے اُس وقت کے سپہ سالار جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بعد ازاں بتایا کہ اگر وہ چاہتے تو حکومت گرا چکے ہوتے کیونکہ عوام کا حکومت پر سے اعتماد اٹھ گیا تھا اور وکلا تحریک کے نتیجے میں ہونے والی انتشار کی صورتحال نے سب کو پریشان کر دیا تھا لیکن جنرل کیانی نے ایسا قدم نہیں اٹھایا۔
کتاب کے ساتویں باب ’سول ملٹری تعلقات مس مینیجمینٹ‘ میں صفحہ 175 پر شجاع نواز لکھتے ہیں ماضی کی حکومتوں کی طرح 2008 میں منتخب ہونے والے پی پی پی کی حکومت نے بھی معمول کے کام عسکری حکام کے حوالے کیے اور غیر معمولی طور پر عسکری قیادت کو ایسی عزت و تکریم سے نوازا جس سے عوام میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ ملک میں دو طرفہ حکومت ہے، حالانکہ پی پی پی کی حکومت جمہوریت کی بالادستی کا پرچار کرتی رہی۔
شجاعت نواز کہتے ہیں کہ سویلین حکومت کی کمزوریاں عیاں ہونے کا فائدہ عسکری قیادت کو ہوتا ہے جو سویلین حکام کو اپنے بیانیے اور سوچ پر منتقل کرنے میں کامیابی حاصل کر لیتے ہیں اور اس سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ دونوں فوج اور حکومت ’ایک صفحے پر ہیں‘ اور ’کم از کم قریبی مستقبل میں یہ حالات تبدیل ہوتے ہوئے نظر نہیں آتے۔‘
سویلین قیادت پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں قلیل المعیاد فوائد پر توجہ دیتی ہیں اور اس میں اپنا نقصان کرا بیٹھتی ہیں۔’پاکستان میں سویلین حکومت نے فوج کی حمایت حاصل کرنے کے لیے فوج کو جگہ دی، وسائل دیے اور انھیں قانونی تحفظ فراہم دیا تاکہ وہ ایسی کارروائی کر سکیں جو قانون اور انصاف کے دائرے سے باہر ہوں۔‘
دوسری جانب عسکری حکمت عملی پر تبصرہ کرتے ہوئے شجاع نواز نے کہا ہے ’پاکستانی فوج نے ابھی تک مل بیٹھ کر کام کرنے کا سبق نہیں سمجھا اور اپنے منصوبوں کو سویلین حکام کے ساتھ نہیں شیئر کیا۔ اس کا نتیجہ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف جنگ ابھی تک مکمل نہیں ہوئی ہے۔‘
